30

آلودگی، پانی اور خوراک کی کمی موجودہ دور کے چیلنجز،حکومت نے ماحولیات کو ترجیح دی،جمشید اقبال چیمہ

ملتان،معاون خصوصی وزیراعظم جمشید اقبال چیمہ نے کہا کہ ہم نے چاروں صوبہ میں ایک ایک قطرے کا پلان بنا لیا ہے،نواز شریف نے اپنے دور میں 1405 کلو میٹر ، مشرف نے 300 جبکہ ہمارے دور میں 2200 کلو میٹر موٹروے بن رہی ہے، ہم ہر میدان میں ترقی کر رہے ہیں،معاون خصوصی وزیراعظم برائے فوڈ سکیورٹی نے کہا کہ فاٹا کو زمین آباد کے لئے 9 ارب روپے دیا گیا ہے،وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ جمشید اقبال چیمہ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت زراعت کو ترجیحی بنیادوں پر بطور محکمہ دیکھ رہی ہے،آلودگی، پانی اور خوراک کی کمی موجودہ دور کے چیلنجز ہیں،پی ٹی آئی کی حکومت نے ماحولیات کو ترجیح دی ہے،انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے پہلے ایک ارب درخت لگایا اور اب دس ارب درخت لگا رہے ہیں، پاکستان میں دہائیوں سے ڈیمز کی تعمیر نہ ہو سکی،ہمارے پاس تقریبا ایک ماہ کے لئے پانی کا ریزرو موجود ہے،پی ٹی آئی کی حکومت نے میٹھے پانی کے ایشو پر بھر پور کام کیا ہے،معاون خصوصی وزیراعظم جشمید اقبال چیمہ نے کہا کہ ایڈیبل آئل کی سالانہ 4 ارب ڈالر کی امپورٹ کی جا رہی ہے، ٹیکسٹائل تو بڑا بزنس ہو گا مگر آئندہ پاکستان میں فوڈ پراسیسنگ کا بہت بڑا کاروبار ہوگا،کورونا میں صرف پانچ ملکوں کی معیشت اور جی ڈی پی مثبت تھی،پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ افورڈ ایبل ملک ہے،انہوں نے کہا کہ ہم معاشی اور سماجی انصاف کے لئے آئے ہیں،عمران خان کو منی لانڈرنگ کا کوئی شوق نہیں ہے،عمران خان کے ساتھ کرپشن کرنے والا کوئی نہیں رہ سکتا،انہوں نے کہا کہ دنیا کے لوگ 3500 کیلوریز لیتے اور ہمارے لوگ 2100 کیلوریز لیتے ہیں،ہمارے پاس ساڑھے پانچ کروڑ زمین آباد جبکہ کل 22 کروڑ ایکڑ زمین ہے،ہم ٹرانسفارمیشن پلان کے ذریعے تمام زمین پر پودے اور جنگل لگائیں گے،بلوچستان، کے پی اور جی بی میں زیتون کی بہترین کاشت کی جا سکتی ہے،معاون خصوصی نے کہا کہ زیتون کی کاشت سے ہم ایڈیبل آئل کی کمی کو پورا اور امپورٹ بل کم کریں گے،ہم نے سات سال میں دنیا کے برابر خوراک کھانے کے برابر آنے کا ٹارگٹ مقرر کیا ہے، ٹیکسٹائل کو جو پیکج دیا تو وہ انڈسٹری اپنے پاؤں پر کھڑی ہو گئی،70 فیصد فوڈ پیدا کرنے اور کاٹن کی پیداوار بڑھانے کے لئے حکومت اقدامات کر رہی ہے، ہم 180 ارب روپے کے 900 سٹور بنا رہے ہیں، جس کے لئے حکومت بلا سود قرضے دے رہی ہے،انہوں نے کہا کہ سٹورز میں کسان کی اجناس رکھی جائیں گی،اس سے کاشتکار مڈل مین کا کردار ختم ہو جائے گا، ہم فوڈرا میٹیریل سے نکل کر پراسیسنگ کی صورت میں جانے کی کوشش کر رہے ہیں،دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک میں مستحکم گروتھ پر توجہ دی جاتی ہے،پاکستان کو دہائیوں کے لئے مستحکم گروتھ کی ضرورت ہے،پانی کے ذخیرے کے بغیر مستحکم گروتھ نہیں ہو سکتی،جمشید اقبال چیمہ نے مزید گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لانگ ٹرم پلاننگ کے تحت مستحکم گروتھ پر توجہ دی جا رہی ہے، ہم زراعت کے محمکہ کو کمرشل شعبہ کی طرف لے کر جا رہے ہیں،ملک میں کاٹن، گندم اور چینی کی ہی زیادہ بات کی جاتی ہے،زراعت کی جی ڈی پی میں کپاس، گندم اور چینی کا محض 5 فیصد ہے،فوڈ سیکیورٹی ہماری منزل، وہاں پہنچنے کے لئے زراعت ہماری گاڑی ہے،انہوں نے کہا کہ ہمیں گندم کی ضرورت نہیں، امپورٹ صرف ذخیرہ اندوزی کو ختم کرنے کے لئے کی جائے گی،چینی والے تگڑے لوگوں کا جب خیال نہیں کیا گیا تب قیمتیں اوپر گئیں،ہم چینی والوں کو بھی قانون کے نیچے لائیں گے اور قیمتیں جلد کنٹرول کر لی جائیں گی،4 ہزار ارب روپے کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کی چین جتنا ٹیکس دیتی ہے وہ شرمناک ہے،اس ملک کے بدمعاش افغانستان، دبئی اور لندن میں ہیں، کپاس پچھلے سال سب سے کم ہوئی،46 لاکھ بیل سندھ کا ٹارگٹ تھا وہاں 18 لاکھ بیل پیدا ہوئی، پنجاب میں کپاس لگی کم ہے ، مگر وہ توقع سے شیادہ نہیں ہے،ہم توقع کر رہے کہ 6 ملین بیل پنجاب، 4 ملین سندھ اور 6 لاکھ بلوچستان سے توقع کر رہے ہیں،صدر ملتان چیمبر آف کامرس خواجہ صلاح الدین نے کہا کہ کپاس کی فصل معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے،پاکستان میں کاٹن کی ضرورت 16 ملین جبکہ پیداوار 6 ملین بیل ہے، کاٹن لنٹ اور کاٹن سیڈ آئل پر عائد 17 فیصد ٹیکس نا انصافی ہے، ٹیکسز سے کپاس کی پیداوار میں کمی اور جننگ انڈسٹری تباہ ہو جائے گی،انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو ملکی معیشت کی بہتری کے لئے ٹیکسز کو فی الفور ختم کیا جائے،کپاس سمیت تمام فصلوں کی قیمتوں کا بروقت تعین کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں