15

اتائیوں کا موذی امراض ٹھیک کرنے کا دعویٰ، غریب لٹنے پر مجبور

ماہڑہ ‘ ٹبہ سلطان پور شہر،ٹبہ سلطان پور ماہڑہ شہر و گردونواح میں محکمہ صحت کے حکام کی مبینہ چشم پوشی سے اتائیت کا دھندہ عروج پر گلی محلوں اور نواحی قصبوں پر اتائیوں نے موت بانٹنے کیلئے اپنے پر پھیلا لئے اتائی کلینکوں کے باہر کوالیفائیڈ ڈاکٹروں کے نام لکھ کر سادہ لوح افراد کو لوٹنے لگے غیر تربیت یافتہ ڈسپنسرز اور دیگر عملہ علاج میں مصروف کم فیس کے لالچ میں سادہ لوح غریب عوام اتائیوں کے ہاتھوں لٹنے پر مجبور ہیں،ذرائع نے بتایا کہ گلی محلوں اور نواحی قصبوں اور دیگر مقامات پر غیر تربیت یافتہ ڈاکڑوں نے کلینک اور سرجیکل ہسپتال کھول کر سادہ لوح لوگ غریب مریضوں کو موت بانٹنے کا دھندہ شروع کر رکھا ہے ڈاکٹر یا سرجن کی بجائے غیر تربیت یافتہ ڈسپنسر اور او ٹی اے چند ہزار روپے فیس لیکر ڈلیوری آپریشن کرکے محکمہ صحت کے حکام کو ماموں بنارہے ہیں جبکہ اکثر کلینک کے ساتھ بلا لائسنس میڈیکل سٹور چلا رہے ہیں دکانوں میں آپریشن تھیٹر بنا کر انسانی زندگیوں سے کھیلنے کا یہ کاروبار محکمہ صحت کے ذمہ دار افسران اور ہیلتھ کیئر کمیشن کی مبینہ چشم پوشی اور غفلت کا نتیجہ ہے،سرکاری ہسپتالوں میں صحت کی سہولتیں نہ ہونے سے نادار مریض اتائیوں کے رحم و کرم پر ہیں شہریوں عبد الشکور چشتی رانا امجد اقبال اور دیگر نے عطائیوں کے خلاف گرینڈآپریشن کا مطالبہ کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں