12

اغوا، زیادتی کا مقدمہ درج ،12لاکھ میں ڈیل کے بعد لڑکی نے بیان بدل دئیے

قصبہ بصیرہ،پولیس تھانہ سٹی کے اہلکاروں و افسران کی مبینہ ملی بھگت سے مبینہ طور پر پروفیشنل خاتون کو استعمال کرتے ہوئے چار افراد کیخلاف اغوا اور جنسی زیادتی کا مقدمہ درج کرکے ملزمان گرفتار کرنے کے بعد مبینہ طور پر تین لاکھ فی کس کی ڈیل کرکے 12لاکھ روپے وصول کرلئے،لڑکی کی طرف سے علاقہ مجسٹریٹ کی عدالت میں بیان دلوا کر ملزمان کو ڈسچارج کرایا جانے کا انکشاف ہوا ہے،تفصیل کے مطابق ٹبہ کریم آباد کی رہائشی بشریٰ بی بی زوجہ غلام مصطفیٰ نے تھانہ سٹی مظفرگڑھ میں ایف آئی آر درج کرادی ،ایف آئی آر میں الزام لگایا کہ دو جون کی رات اسے اسکے گھر سے ملزمان خضرحیات ٰ سراج احمد ٰ عمران اور عارف نے اغوا کیااور گاڑی میں ڈال کرکسی نامعلوم جگہ پر لے گئے اور ساری رات باری باری اسکے ساتھ زیادتی کرتے رہے اور غیر فطری فعل کی بھی کوشش کی میرے ہاتھوں سے طلائی چوڑیاں اور لاکٹ بھی چھین لیا،پولیس تھانہ سٹی نے کارروائی نہ کی علاقہ مجسٹریٹ کے حکم پر پولیس نے اسکا ڈسٹرکٹ ہسپتال سے ڈاکٹری ملاحظہ کرایا اور بعدازاں جملہ ملزمان کیخلاف مقدمہ درج کرلیاگیا،پولیس نے چھاپے مار کر جملہ مزمان کو گرفتار کرلیا اور انکی گرفتاری کا بھی روزنامچہ میں اندارج کرڈالا، ذرائع نے مزیدانکشاف کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان کے لواحقین نے پولیس سے رابطہ کیا اور انہیں ملزمان کی بے گناہی بارے بتلایا،مگر پولیس نے انہیں مدعیہ کو راضی کرنے کا مشورہ دیا بعدازاں مقدمہ کی تفتیشی لیڈی سب انسپکٹر کے کمرے میں ملزمان اور مدعیہ کی مبینہ ڈیل کرا دی اور فی کس ملزم تین لاکھ روپے کے حساب سے 12 لاکھ روپے مبینہ طور پر وصول کئے گئے،جس میں سے تفتیشی افسر اور ملوث پولیس اہلکاروں نے اپنا حصہ بھی وصول کیا،مبینہ ڈیل کے مطابق ڈی این اے کرانے کے بعد ملزمان کو جب ریمانڈ کیلئے علاقہ مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا تو مدعیہ نے ملزمان کو شناخت کرنے سے انکار کردیا جس پر عدالت نے تمام ملزمان کو مقدمہ سے ڈسچارج کرنے کا حکم دیا،ذرائع کے مطابق مبینہ ڈیل میں ریڈر برانچ کاآپریٹر شاہنواز بھی ملوث بتایا جاتا ہے دریں اثناء ایک ملزم نے رابطہ کرنے پر خضر حیات نے بتلایا کہ وہ اور مقدمہ کے تمام ملزمان بے گناہ ہیں اسکا کہنا تھا کہ وہ بشریٰ نامی کسی خاتون کو نہیں جانتا میں نے ڈیڑھ ماہ قبل مہران گاڑی خرید کی تھی جسے اصغر لانگ ولد غلام قادر نے چلانے کیلئے مانگی تو میں نے انکار کردیا اسکے بعد میرے خلاف مقدمے کا معاملہ سامنے آگیا۔ پولیس نے بلا کسی تحقیق و تصدیق کے جھوٹا مقدمہ درج کیا حالانکہ مدعیہ کا ایڈریس بھی غلط ہے اور متعلقہ خاتون مختلف تھانہ جات میں متعدد بے گناہ لوگوں کیخلاف زیادتی کے مقدمات درج کراکے انہیں بلیک میل کرکے بھاری رقوم بٹور چکی ہے۔ رابطہ کرنے پر مقدمہ کی تفتیشی خاتون افسر سعیدہ خالق نے الزمات کی تردید کی اور بتلایا کہ ملزم اور مدعی پارٹی کا راضی نامہ تھانے میں نہیں ہوا بلکہ باہر ہوا ہے اور گرفتار ملزمان کو میں نے رہا نہیں کیا بلکہ مدعیہ کے بیان پر علاقہ مجسٹریٹ نے ملزمان کو مقدمہ سے ڈسچارج کیا ہے جبکہ ایس ایچ او سٹی گوہر علی شاہ سے ان کا مؤقف جاننے کے لئے انکے کے فون نمبر 03346709439 پر دو بار رابطہ کیا گیا مگر انہوں نے فون ریسیو نہیں کیا یہ امرقابل ذکر ہے کہ جب مقدمہ کی تفتیشی افسر سعیدہ خالق سے مؤقف لیاگیا تو فوری طور پر پی ٹی سی ایل نمبر 0669200322 سے مقامی صحافیوں کو فون کال موصول ہوئی کہ آپکو ڈی ایس پی سٹی مظفرگڑھ طلب کررہے ہیں فوری انکے دفتر پہنچیں نام پوچھنے پر آپریٹر نے اپنانام شاہنواز کے بجائے اللہ ڈتہ بتلایا اور پوچھنے پر ڈی ایس پی سٹی کے بجائے اپنا موبائل نمبر 03004364181 بتلادیا اور صحافیوں پر خبر نہ لگانے کے لئے دباؤ ڈالتے رہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں