20

افغانستان میں ذہنی غلامی کی زنجیریں توڑ دی گئیں،وزیراعظم عمران خان

اسلام آباد(بیورو رپورٹ)وزیراعظم نے کہا ہے کہ غلامی کی زنجیریں توڑنا بہت ضروری ہیں، افغانستان میں ذہنی غلامی کی زنجیریں توڑ دی گئیں، ایک غلام ذہن کبھی بڑے کام نہیں کرسکتا، دوسری قوم کے کلچر کو اپنانا ذہنی غلامی کی مثال ہے،یکساں نصاب تعلیم کے اجرا کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے وزیراعظم عمران خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماضی کے نصاب کی وجہ سے معاشرہ 2 حصوں میں تقسیم تھا، ہم نے بڑا ظلم کیا کہ آزادی کے بعد ایک نصاب نہیں لائے، انگریزوں نے حکمرانی کیلئے 2 طبقات بنا دیئے تھے، جب بڑا قدم اٹھاتے ہیں تو کشتیاں جلا کر آگے بڑھتے ہیں،وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نبی کریمؐ کی زندگی تاریخ کا حصہ ہے، آٹھویں، نویں اور دسویں جماعت میں سیرت النبیؐ پڑھائی جائے گی، بچے کامیابی کیلئے بل گیٹس کی کتابیں پڑھتے ہیں، علامہ اقبال سب سے بڑے مسلمان اسکالر تھے، صرف تعلیم کافی نہیں اس کے ساتھ انسانیت بھی ضروری ہے، دنیا میں آج گلوبل وارمنگ، موسمیاتی تبدیلی سب سے بڑے مسئلے ہیں، تعلیم کے ساتھ ساتھ انسانیت اور اخلاقیات بھی ضروری ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں