16

افغانستان میں کارروائی کیلئے پاکستانی اڈے نہ دینے کا اعلان،وزیراعظم کا فیصلہ خارجہ پالیسی کے حوالے سے سنگ میل ثابت ہو گا


وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے امریکا کو افغانستان کے اندر کسی بھی قسم کی کارروائی کیلئے پاکستان کے اڈے نہ دینے کے اعلان کو عوامی سطح پر سراہا جا رہا ہے،کیونکہ اگر امریکا کو اپنے اڈے استعمال کر نے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا جاتا ہے تو پاکستان ایک بار پھر عسکریت پسندوں کی کارروائیوں کا نشانہ بن سکتا ہے،دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کا یہ فیصلہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے اہم سنگ میل ثابت ہو گا،کیونکہ پاکستان واضح طور پر کہہ چکا ہے کہ ہمارا کوئی پسندیدہ نہیں اور ہم کسی بھی حکومت کے ساتھ مل کر کام کریں گے جس کو افغان عوام کا اعتماد حاصل ہو، تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ افغانستان کو باہر سے کنٹرول نہیں کیا جاسکتا،امریکی کوششوں میں شامل ہونے کے بعد پاکستان کو ایک شراکت دار کے طور پر نشانہ بنایا گیا،وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ امریکی ڈرون حملوں نے جنگ نہیں جیتی لیکن امریکا کیلئے نفرت پیدا کی اور دونوں ممالک کے خلاف دہشت گردوں کی صفوں میں اضافہ کیا،پاکستان اب امریکا کے ساتھ صرف امن میں شراکت دار ہو گا،اس کی کسی جنگ میں شریک نہ ہو گا،انٹرویو میں وزیراعظم عمران خان نے واضح طور پر کہا ہے کہ پاکستان افغانستان کے اندر کسی بھی طرح کی کارروائی کیلئے اپنے کسی بھی اڈے اور اپنی سرزمین کو امریکا کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا،وزیر اعظم نے کہا کہ کسی بھی صورت ہم اپنے اڈوں کو ہرگز استعمال نہیں ہونے دیں گے اور نہ ہی پاکستانی حدود سے افغانستان میں کسی بھی طرح کی کارروائی کی اجازت دیں گے،ان سے سوال کیا گیا کہ کیا آپ امریکی حکومت کو پاکستان میں سی آئی اے کی موجودگی کی اجازت دیتے ہیں تاکہ وہ القاعدہ کے خلاف سرحد پار انسداد دہشت گردی مشن چلائیں جیسے داعش یا طالبان؟ تو وزیر اعظم نے جواب دیا ‘ہرگز نہیں’، ان کے واضح ردعمل پر حیرت میں آکر انٹرویو لینے والے نے وزیر اعظم سے ان کے رد عمل کی تصدیق کیلئے سوال کیا ‘کیا واقعی؟امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ ثند روز قبل لکھے ایک مضمون میں وزیراعظم عمران خان نے واضح کیا تھا کہ اگر افغانستان میں کارروائی کیلئے پاکستان امریکی اڈوں کی میزبانی کیلئے تیار ہوجائے تو خانہ جنگی شروع ہونے کی صورت میں ہمارا ملک دوبارہ دہشت گردوں کے انتقام کا ہدف بن سکتا ہے، جس کے ہم متحمل نہیں ہوسکتے، ہم پہلے ہی بھاری قیمت ادا کرچکے ہیں،اگر امریکا 20سال بعد بھی تاریخ کی سب سے طاقتور فوجی مشن کے ساتھ افغانستان میں جنگ نہیں جیت سکا تو پھرامریکا ہمارے ملک کے اڈوں سے اب ایسا کیسے کرسکے گا؟انہوں نے کہا کہ پاکستان، افغانستان میں امن کے لیے امریکا کے ساتھ شراکت داری کے لیے تیار تھا لیکن امریکی افواج کے انخلا کے باعث ہم مزید تنازع کا خطرہ مول لینے سے گریز کریں گے۔وزیراعظم نے لکھا کہ پاکستان اور امریکا کے طویل عرصے سے مسائل کے شکار اس ملک میں یکساں مفادات ہیں یعنی سیاسی تصفیہ، استحکام ،معاشی ترقی اور دہشت گردوں کی جنت نہ بننے دینا،انہوں نے کہا کہ ہم افغانستان پر کسی عسکری غلبے کی مخالفت کریں گے جس کا نتیجہ صرف دہائیوں تک جاری رہنے والی خانہ جنگی کی صورت میں نکلے گا کیوں کہ طالبان پورے ملک پر فتح حاصل نہیں کرسکتے اور کامیابی کیلئے انہیں کسی حکومت میں شامل ہونا پڑے گا،ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں پاکستان نے متحارب افغان فریقین میں انتخاب کر کے غلطی کی لیکن ملک نے اس تجربے سے سبق حاصل کیا ہے، ہمارا کوئی پسندیدہ نہیں اور ہم کسی بھی حکومت کے ساتھ مل کر کام کریں گے جس کو افغان عوام کا اعتماد حاصل ہو ۔ تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ افغانستان کو باہر سے کنٹرول نہیں کیا جاسکتا،افغانستان میں جنگوں سے پاکستان کس طرح متاثر ہوا اس بات کو اجاگر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ 70 ہزار سے زائد پاکستانی جاں بحق ہوئے، امریکا نے امداد میں 20 ارب ڈالر دیے جبکہ پاکستانی معیشت کو ڈیڑھ سو ارب ڈالر سے زائد کا نقصان پہنچا اور سیاحت اور سرمایہ کاری ختم ہوگئی۔انہوں نے کہا کہ امریکی کوششوں میں شامل ہونے کے بعد پاکستان کو ایک شراکت دار کے طور پر نشانہ بنایا گیا جس کا نتیجہ تحریک طالبان پاکستان اور دیگر عسکری گروہوں کی جانب سے ہمارے ملک کے خلاف دہشت گردی کی صورت میں نکلا۔امریکی ڈرون حملوں جس کے بارے میں، میں نے خبردار کیا تھا، ان حملوں سے جنگ نہیں جیتی جا سکی لیکن الٹا ڈرون حملوں نے امریکا کے لیے نفرت پیدا کی اور دونوں ممالک کے خلاف دہشت گردوں کی صفوں میں اضافہ کیا،مضمون میں لکھا ہے کہ امریکا نے پاکستان پر افغان سرحد کے ساتھ نیم خودمختار علاقوں میں پہلی مرتبہ فوج بھیجنے کے لیے دبا ئوڈالا، اس غلط فہمی میں کہ اس سے شورش کا خاتمہ ہوگا، لیکن ایسا نہ ہوا بلکہ اس سے قبائلی اضلاع کی نصف آبادی دربدر ہوگئی، صرف شمالی وزیرستان میں 10لاکھ افراد دربدر ہوئے، اربوں ڈالر کا نقصان ہوا اور گائوں کے گائوں تباہ ہوگئے،انہوں نے کہا کہ کولیٹرل ڈیمج میں پاک فوج کے خلاف خود کش حملے کیے گئے اور جتنے امریکی فوجی عراق اور افغانستان دونوں جگہوں پر ہلاک ہوئے اس سے کہیں زیادہ پاکستانی فوجی شہید کر دیئے گئے۔ جبکہ ہمارے نہتے شہریوں کے خلاف دہشت گرد گروہوں نے مزید سر اٹھایا، صرف خیبر پختونخوا میں500پولیس اہلکار جاں بحق ہوئے،وزیراعظم نے کہا کہ اگر افغانستان میں سیاسی تصفیہ کے بجائے مزید خانہ جنگی ہوئی تو پاکستان میں پناہ گزینوں کی تعداد بڑھے گی اور سرحدی علاقوں میں مزید بدحالی پھیلے گی،وزیراعظم نے اس بات کو اجاگر کیا کہ افغانستان میں امریکا اورپاکستان کے مفادات یکساں ہیں۔مضمون میں واضح کیا گیا ہے کہ ہم خانہ جنگی نہیں بات چیت کے ذریعے امن چاہتے ہیں، ہمیں دونوں ممالک میں استحکام اور دہشت گردی کے خاتمے کی ضرورت ہے، ہم ایسے سمجھوتے کی حمایت کرتے ہیںجو افغانستان میں گزشتہ2دہائیوں کے ترقیاتی فوائد کو محفوظ بناسکے، ہم معاشی ترقی، تجارت اور وسطی ایشیا میں رابطے چاہتے ہیں تاکہ ہماری معیشت اوپر اٹھے اگر مزید خانہ جنگی ہوئی تو ہم نیچے کی جانب چلے جائیں گے،وزیر اعظم کی تحریر اور ان کے بیانات کا خلاصہ رہا ہے کہ اسی مقصد کے تحت ہم نے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے پہلے امریکا اور اس کے بعد افغان حکومت کے ساتھ بہت بھاری سفارتکاری کی، ہم جانتے ہیں اگر طالبان نے عسکری فتح کا اعلان کرنے کی کوشش کی تو اس کا انجام خونریزی ہوگا،وزیراعظم نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں افغان حکومت بھی مذاکرات میں مزید لچک دکھائے گی اور پاکستان پر الزام لگانا بند کرے گی کیوں کہ ہم وہ سب کررہے ہیں جس سے ہم عسکری کارروائی سے محفوظ رہ سکتے ہیں،انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ پاکستان، روس، چین اور امریکا کے مشترکہ بیان کا حصہ بنا جس میں قرار دیا گیا کہ اگر کابل پر کوئی حکومت مسلط کرنے کی کوشش کی گئی تو چاروں ممالک اس کی مخالفت کریں گے،انہوں نے مزید کہا کہ اس مشترکہ بیان میں افغانستان کے چاروں پڑوسی اور اشتراک میں شامل ممالک نے پہلی مرتبہ ایک آواز میں کہا کہ سیاسی تصفیہ کیسا ہونا چاہیے، اس سے خطے میں امن و ترقی کیلئے ایک نیا علاقائی معاہدہ بھی ہوسکتا ہے،جس میں دہشت گردی کے ابھرنے والے خطرات کا تدارک کرنے کیلئے افغان حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنا اور خفیہ معلومات کا تبادلہ شامل ہے،وزیراعظم کا کہنا تھا کہ افغانستان کے ہمسایہ ممالک وعدہ کریں گے کہ وہ اپنی سرزمین افغانستان یا کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں اور افغانستان بھی خود یہی وعدہ کرے گا۔مضمون کے اختتام میں انہوں نے لکھا کہ اقتصادی روابط اور علاقائی تجارت کا فروغ افغانستان میں طویل المدتی امن اور سلامتی کے لیے اہم ہے اور مزید عسکری کارروائیاں بیکار ہوں گی۔ اگر ہم یہ ذمہ داری اٹھا لیں تو افغانستان جسے ‘گریٹ گیم’ اور مقامی دشمنیوں کے حوالے سے جانا جاتا تھا وہ علاقائی تعاون کا نمونہ بن سکتا ہے،اس سے قبل سینیٹ میں اپنے خطاب میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے لیے امریکا کو فوجی اڈے فراہم کرنے کے امکان کو مسترد کردیا تھا،انہوں نے اسے بے بنیاد اطلاعات قرار دیتے ہوئے مسترد کیا اور واضح کیا تھا کہ حکومت کبھی بھی امریکا کو فوجی اڈے فراہم نہیں کرے گی اور نہ ہی پاکستان کے اندر ڈرون حملوں کی اجازت دے گی۔وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین نے پاکستان میں امریکا کے کسی بھی فوجی اڈے کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسی تمام تر سہولیات پاکستان کے اپنے استعمال میں ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ پی ٹی آئی کی زیر قیادت حکومت ہے جس نے ماضی میں امریکا کو دی جانے والی ڈرون کے ذریعے نگرانی کی سہولت ختم کردی تھی۔ اس وقت تمام ایئر بیس پاکستان کے زیر استعمال ہیں، اس سلسلے میں کوئی بات چیت جاری نہیں کیونکہ پاکستان (کسی بھی ملک)کو کوئی ایئربیس نہیں دے سکتا ہے،طالبان نے بھی افغانستان کے پڑوسی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے امریکا کو فوجی اڈے چلانے کی اجازت نہ دیں اور اگر ایسا ہوا تو یہ ان کی تاریخی غلطی ہوگی۔طالبان نے ایک بیان میں کہا کہ ہم ہمسایہ ممالک سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ کسی کو بھی ایسا کرنے کی اجازت نہ دیں، اگر دوبارہ ایسا قدم اٹھایا گیا تو یہ ایک بہت بڑی اور تاریخی غلطی ہو گی۔بیان میں مزید کہا گیا کہ وہ اس طرح کی گھناؤنی اور اشتعال انگیز حرکتوں کے بعد خاموش نہیں رہیں گے۔افغانستان کے متعدد ہمسایہ ممالک نے طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد 2000 کی پہلی دہائی کے اوائل میں امریکی فوج کو فضائی اڈوں کے محدود استعمال کی اجازت دی تھی۔اس طرح کی مدد بڑی حد تک ختم ہوگئی ہے تاہم کچھ ممالک اپنی فضائی حدود کو فوجی پروازوں کے لیے استعمال کرنے کی اب بھی اجازت دیتے ہیں،ادھر سینئر امریکی سینیٹر لنزے گراہم نے امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے وزیراعظم عمران خان سے رابطے کرنے میں ہچکچاہٹ کو ‘حیرت انگیز’ قرار دیا تھا ، انہوں نے خبردار بھی کیا کہ افغانستان کے انخلا کرتے ہوئے پاکستان کو نظر انداز کرنے کا نتیجہ تباہی کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ سینیٹر لنزے گراہم نے ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ یہ سن کر حیرت ہوئی کہ صدر جو بائیڈن نے امریکا پاکستان تعلقات اور افغانستان کے سلسلے میں وزیراعظم عمران خان سے رابطہ نہیں کیا۔لنزے گراہم جو کابل اور اسلام آباد کے ساتھ امریکی رابطوں کی حمایت کرتے ہیں، انہوں نے صدر جو بائیڈن کو یاددہانی کروائی کہ افغانستان سے ان کے انخلا کے منصوبے میں پاکستان کا تعاون درکار ہے۔ٹوئٹر پیغام میں انہوں نے کہا کہ ہم کس طرح پاکستان سے تعاون کیے بغیر افغانستان سے اپنا انخلا مؤثر ہونے کی توقع کرسکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ واضح طور پر بائیڈن حکومت سمجھتی ہے کہ افغانستان میں ہمارے پیچھے مسائل ہیں۔سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی افغان پالیسیز پر اثر انداز ہونے والے تمام ریپبلکن قانون سازوں نے خبردار کیا ہے کہ بائیڈن حکومت کے ‘تمام افواج کے انخلا اور پاکستان کے ساتھ رابطے میں نہ رہنے کا فیصلہ ایک بڑی تباہی بن رہا ہے جو عراق میں کی گئی غلطی سے بھی زیادہ بد ترہے، امریکا کے افغان امور کے مذاکراتی سربراہ زلمے خلیل زاد کا کہنا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ پاکستان کی سویلین اور فوجی قیادت دونوں اس بات کو تسلیم کرتی ہیں کہ افغانستان میں امن کے معاشی فوائد ہیں،امریکی نمائندہ خصوصی کا کہنا تھا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور وزیراعظم عمران خان دونوں اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ مستقبل معاشی فوائد کے ساتھ جڑا ہے، آرمی چیف نے کہا کہ ملک ترقی نہیں کرتے خطے ترقی کرتے ہیں۔زلمے خلیل زاد نے مزید کہا کہ مجھے علم ہے کہ پاکستان میں چیلنجز ہیں لیکن مجھے یقین ہے کہ آرمی چیف کا گزشتہ دورہ کابل مثبت تھا، جہاں انہوں نے دونوں دونوں فریقین کی جانب سے آئندہ اٹھائے جانے والے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا ۔ برطانیہ کے ساتھ مل کر دونوں ممالک کے اپنے درمیان تعلقات بہتر بنانے کی کوششوں میں تعاون کررہے ہیں۔ زلمے خلیل زاد نے پاک افغان تعلقات کو افغانستان کی حالیہ تاریخ کا نازک موڑ قرار دیا جس پر قابو پانے کی اشد ضرورت ہے اور حالیہ پیش رفت کے تناظر میں اس کی امید کی جاتی ہے۔
بشکریہ نوائے وقت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں