14

افغانستان کے پر امن حل کیلئے فریقین سے تعاون جاری رکھیں گے،آرمی چیف

راولپنڈی(بیورو رپورٹ)آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان کے پر امن حل کیلئے فریقین سے تعاون جاری رکھے گا،پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق پاک فوج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ سے امریکی ناظم الامور کی ملاقات جی ایچ کیو میں ہوئی ہے،ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور پر بات چیت کی گئی،آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات کے دوران افغانستان سمیت سکیورٹی صورتحال اور مختلف شعبوں میں تعاون کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا،آئی ایس پی آر کے مطابق امریکی ناظم الامور نے خطے میں امن کیلئے پاکستان کی مسلسل کوششوں کا اعتراف کیا، اور امریکی ناظم الامور نے دونوں ممالک میں باہمی تعلقات کو مزید فروغ دینے کے عزم کو دہرایا،ملاقات کے دوران آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان افغان امن عمل میں کردار ادا کرتا رہے گا، پاکستان افغانستان کے پر امن حل کیلئے فریقین سے تعاون جاری رکھے گا،واضح رہے کہ دو روز قبل آرمی چیف نے کور کمانڈرز کانفرنس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ افغانستان میں قیام امن کیلئے تمام سٹیک ہولڈرز کو مثبت کردار ادا کرنا ہوگا جبکہ غلط تاثر قائم کرنے اور کسی کو قربانی کا بکرا بنانے سے گریز کیا جائے،پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت دو روزہ کورکمانڈرز کانفرنس کا انعقاد جنرل ہیڈکواٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں ہوا تھا،آئی ایس پی آر نے بتایا کہ کانفرنس میں عالمی، علاقائی اور داخلی سکیورٹی صورتحال کاجائزہ لیا گیا،جبکہ کانفرنس کے شرکا نے پاک افغان سرحدی کی صورتحال اور اس کے پاکستان کی اندرونی سکیورٹی پر مضمرات کا جائزہ لیا، بالخصوص مغربی زون کی سکیورٹی صورتحال پر بھی غور کیا گیا،آئی ایس پی آر کے مطابق کانفرنس میں ابھرتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کا جائزہ لیا،آرمی چیف نے مؤثر بارڈر منیجمنٹ کنٹرول یقینی بنانے کیلئے اٹھائے گئے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا اور مغربی سرحد کے ساتھ اعلیٰ سطح کی نگرانی کرنے کی ہدایت دی،آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ آرمی چیف نے آپریشنل تیاریوں کا اعلیٰ معیار برقرار رکھنے پر فارمیشنز کو سراہا جبکہ آرمی چیف نے کورونا، مون سون اور پولیو مہم میں سول انتظامیہ کو تعاون فراہم کرنے کی تعریف کی،آرمی چیف کا کہنا تھا کہ ہم نے افغان امن عمل کو مذاکرات کے ذریعے متفقہ حل تک پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کی، ہم نے یہ کوشش خلوص نیت کے ساتھ کی اور کرتے رہیں گے۔ افغانستان میں قیام امن کیلئے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مثبت کردار ادا کرنا ہوگا، غلط تاثر قائم کرنے اور کسی کو قربانی کا بکرا بنانے سے گریز کیا جائے، خرابی پیدا کرنے والے عناصر کے عزائم کو ناکام بنانا ضروری ہے، حالیہ پیدا ہونے والی صورتحال میں سکیورٹی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کیلئے قومی سوچ اختیار کرنا ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں