18

امانت رقم واپس نہ کرنے پر مطلقہ نے سابق شوہر کا جنازہ روک لیا

نواں شہر،مْطلقہ بیوی نے امانت دی ہوئی رقم واپس نہ لوٹانے پر سابق شوہرکا جنازہ روک دیا،معززین علاقہ اور ورثا کی طرف سے رقم واپس کرنے کا وعدہ کرنے پر عورت نے جنازہ ادا کرنے کی اجازت دے دی،تفصیل کے مْطابق نواحی علاقہ کوٹ گوہر کی رہائشی فاطمہ بی بی کی شادی موضع موہری پور کے علاقہ کھوہ پْھلے والہ کے رہائشی شوکت علی کے ساتھ ھوئی تقریبا ایک سال قبل فاطمہ نے اپنی کْچھ زمین فروخت کی اور3,95000روپے اپنے شوہر کے پاس امانت رکھ دئیے،پیسے واپس مانگنے پر میاں بیوی کے درمیان لڑائی جھگڑا شروع ہوگیا اور نوبت طلاق تک جاپہنچی،بعد ازاں فاطمہ نے امانت دی ہوئی رقم واپس لینے کے لیے عدالتوں میں کیس بھی دائر کئے مگر گْزشتہ روز اچانک بلڈ پریشر بڑھنے سے شوکت علی ولد عبدالکریم کی موت واقع ہوگئیجس کی نماز جنازہ صبح دس بجے موضع موہری پور میں ادا ہونی تھی مگر جونہی ورثاء میت لے کر جنازہ گاہ پہنچے تو متوفی شوکت کی سابقہ منکوحہ نے سینکڑوں لوگوں کی موجودگی میں مولوی کو جنازہ پڑھانے سے روکتے ہوئے اعلان کیا کہ جب تک ورثاء میرے پیسے واپس نہیں کریں گے میں جنازہ نہیں ہونے دوں گی،موقع کی مناسبت کو بھانپتے ھوئے مقامی زمیندار سعید احمد اولک،متوفی کے بھائی محمد قیصر اور دیگر معززین علاقہ نے متوفی کی سابقہ منکوحہ کی منت سماجت کی اور رقم واپس لوٹانے کا وعدہ کرنے پر فاطمہ بی بی نے جنازہ پڑھانے کی اجازت دے دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں