4

اوچشریف میں تاریخی مقامات،مزارات آہستہ آہستہ معدوم ہونے لگے

اوچ شریف،تاریخی مقامات اور مزارات عدم توجہی کا شکار ہو کرخستہ حال ہونے لگے،سیاحوں،عقیدت مندوں میں تشویش کی لہر،محکمہ آثار قدیمہ،محکمہ اوقاف کو سالانہ آمدنی کے باوجود خرچ نہیں کیا جاتا، تاریخی مسجد اوچ موغلہ، ہاتھی گیٹ کے نشانات بھی مٹنے لگے،بزرگان دین کے مزارات بھی خستہ حالی کا شکار ہونے لگے ہیں، زائرین کا نوٹس لینے کا مطالبہ، تفصیل کے مطابق اوچ شریف شہرایک تارہخی قدیمی شہر ہے اس کی تاریخ صدیوں پرانی ہیں،شہر میں موجود تاریخی مقامات اورمزارات عدم توجہی کا شکار ہوتے جا رہے ہیں اورکئی مقامات کے نشانات بھی مٹنے لگے ہیں،مقبرہ بی بی جیوندی‘ مقبرہ نوریا‘ مقبرہ بہاول حلیم بھی عدم توجہ کا شکار ہو چکے ہیں, تاریخی مسجد اوچ موغلہ جس کی بہت پرانی تاریخ ہے دین اسلام کی دعوت کے لیے بزرگان دین نے قیام کیا محمد بن قاسم بھی ملتان فتح کرنے کے دوران قیام کیا تھا جو عدم توجہ کا شکار ہو کر نشان مٹنے لگے, ہاتھی گیٹ جو ایک خوبصورت گیٹ تھا اسکے نشانات بھی مٹنے لگے ہیں برصغیر پاک وہند کے نامور صوفی بزرگ حضرت شیر شاہ جلال الدین سرخپوش بخاری کی دربار سے ملحقہ تاریخی مسجد کی تعمیر مرمتی بھی عدم توجہی کا شکار ہو چکی ہے زائرین نے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں