11

آرگینک ایگریکلچر کو فروغ دینا وقت کی ضرورت ہے،ثاقب علی عطیل

ملتان(سٹاف رپورٹر)سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب ثاقب علی عطیل نے کہا ہے کہ دنیا میں آرگینک خوراک کی مانگ میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے،زرعی زہروں و کیمیائی کھادوں سے پاک خوراک کے حصول کیلئے آرگینک ایگریکلچر کو فروغ دینا وقت کی ضرورت ہے،آرگینک فارمنگ سے زمینوں کی صحت میں بہتری کے ساتھ ماحول پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے،اس سلسلہ میں قانون سازی بہت ضروری ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایگریکلچر سیکرٹریٹ کے کمیٹی روم میں آرگینک فارمنگ کے فروغ کے سلسلہ میں منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا،اجلاس میں ایڈیشنل سیکرٹری ٹاسک فورس بارک اللہ خان، ڈپٹی سیکرٹریز آصف رضا، ڈاکٹر حیدر کرار، پرنسپل سائنٹسٹ ڈاکٹر الطاف، پاکستان آرگینگ ایسوسی ایشن کے ڈائریکٹر صائم رشید و دیگر نے شرکت کی،اس موقع پر صائم رشید نے اپنی پریزینٹیشن میں بتایا کہ دنیا میں اس وقت 20 کروڑ ایکڑ پر سرٹیفائیڈ آرگینک فارمنگ ہورہی ہے جبکہ 3.1 ملین آرگینک کاشتکار رجسٹرڈ ہیں۔ آرگینگ سرٹیفکیشن کیلئے دنیا میں 719 ادارے کام کررہے ہیں،پاکستان میں بھی آرگینگ فارمنگ ہورہی ہے لیکن اس کی سرٹیفکیشن ضروری ہے تاکہ بین الاقوامی مارکیٹ میں ہماری آرگینک مصنوعات کا بہتر معاوضہ مل سکے،اس موقع پر سیکرٹری زراعت نے کہا کہ آرگینک فارمنگ کے فروغ کیلئے آڈٹ و سرٹیفکیشن کے آرگینک ایکٹ کی ضرورت ہے،انہوں نے ایڈیشنل سیکرٹری ٹاسک فورس کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی جو آرگینگ فارمنگ کے فروغ کیلئے آڈٹ وسرٹیفکیشن قانون تیار کرکے پیش کرے گی،تاکہ اسے پنجاب حکومت سے باقاعدہ منظور کرایا جاسکے،سیکرٹری زراعت نے مزید کہاکہ دنیا بھر میں نامیاتی خوراک کی طلب میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے،آرگینک ایکٹ کے ذریعے کاشتکاروں کی صلاحیتوں میں نہ صرف اضافہ ہوگا بلکہ ان قوانین سے فائدہ اٹھا کر نامیاتی طور پر پیدا شدہ فصلات، سبزیات و پھلوں کا بہتر طور پر معاوضہ حاصل کرنے میں مدد ملے گی،انہوں نے کہا کہ صحت مند زندگی گزارنے کیلئے ہمیں نامیاتی خوراک کو اپنانا ہوگا،نامیاتی خوراک سے نہ صرف مضر صحت کیمیکلز سے چھٹکارہ حاصل ہوتا ہے بلکہ ان کیمیکلز کی وجہ سے رونما ہونے والی بیماریوں کے امکانات بھی ختم ہوجاتے ہیں،انہوں نے مزید کہا کہ مختلف فصلوں میں دشمن کیڑوں کے خاتمہ کے لئے محکمہ زراعت کی گیارہ لیبارٹریاں دوست کیڑے بنانے میں مصروف ہیں،تاہم آرگینک اور آئی پی ایم کی کامیابی کیلئے ہر تحصیل میں بائیو لیبارٹری کی ضرورت ہے،اس اقدام کا مقصد فضائی آلودگی کو کم کرنا اور خوراک کو بھی زہر سے بچانا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں