10

ایف اے ٹی ایف کا پاکستان کو مزید گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ


آدھا بھرا گلاس یاد آگیا ہے جب عالمی ادارے ایف اے ٹی ایف یعنی فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کو مزید گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے،آدھے بھرے گلاس کو کچھ لوگ آدھا خالی بھی قرار دیتے ہیں،یہ انسانی سوچ کے زاویے ہیں،پاکستان اور اسکے دوست یہ سمجھتے ہیں کہ بلیک لسٹ نہ ہونا پاکستان کی کامیابی ہے،پاکستان کے دشمن ممالک یہ کہہ کر اپنی بھڑاس نکالتے ہیں کہ پاکستان کو کلین چٹ نہیں ملی،ایف اے ٹی ایف کیا ہے، کب بنا، اس کا دائرہ کار کیا ہے، اس کی ہئیت، ارکان، صدر کے بارے میں بھی جاننا تجسس ہے۔ گرے لسٹ اور بلیک لسٹ کیا ہے ؟ بلیک لسٹ ہونے سے کسی ریاست کو کن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ؟ یہ وہ نکات ہیں جو ان دنوں ملکی سیاست کے حوالے سے ہر باشعور محب وطن پاکستانی کے لئے اہم ترین موضوع بحث ہے۔ فنانشل ایکش ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے 20 جون سے 25 جون تک منعقدہ اپنے پلانیری اجلاس میں پاکستان کو مزید وقت کیلئے گرے لسٹ میں رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے ابھی مانیٹرنگ کے عمل سے گزرنا ہو گا۔ ورچوئل پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران ایف اے ٹی ایف کے صدر مارکس پلیا نے تسلیم کیا کہ پاکستان نے 27 میں سے 26 سفارشات کی تکمیل کرلی ہے لیکن اب بھی پاکستان کو دہشت گردوں کو دی جانے والی سزاؤں اور قانونی چارہ جوئی پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ایف اے ٹی ایف نے ملک کے قانونی نظام میں بہتری لانے پر پاکستان کے اقدامات کو سراہا ہے۔ اکتوبر 2020 میں ہونے والے اجلاس میں ایف اے ٹی ایف نے 6 سفارشات پر عمل درآمد کو غیر اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے چار ایسے شعبوں کی نشاندہی کی تھی جس میں مزید کام درکار تھا اور اس کے لیے پاکستان کو فروری 2021 تک کا اضافی وقت فراہم کیا گیا تھا۔ جس کے بعد فروری 2021 کے اجلاس میں ادارے نے تین سفارشات پر کام کرنے کو کہا تھا ۔پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ پاکستان نے اب تک 27 سفارشات میں سے 26 مکمل کر لی ہیں اور ستائیسویں پر ’بھرپور‘ کام جاری ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کو مزید گرے لسٹ میں رکھنا ’نامناسب ہو گا‘راقم کی معلومات کے مطابق اس وقت ایف اے ٹی ایف کی تین سفارشات رہتی ہیں،جن میں ’دہشت گردوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی، سزا دلوانے اور انہیں ہونے والی مالی معاونت کی روک تھام شامل ہیں۔ پاکستان کی طرف سے ان سفارشات پر پیشرفت کے بارے میں جوابات جمع ہوتے رہے ہیں،اور اب جو اعتراضات آئیں گے ان پر کام کیا جائے گا،ایف اے ٹی ایف 1989 میں دنیا کی سات بڑی طاقتوں یعنی جی سیون نے قائم کی جس کا مقصد ایسے اقدامات تجویز کرنے کیلئے ایک فورم مہیا کرنا تھا جس سے منی لانڈرنگ کا خاتمہ ہو اور دہشت گردی میں ملوث افراد اور تنظیموں کو رقوم پہنچانے کی راہیں مسدود ہوں،اس کا ہیڈ آفس پیرس میں ہے اور آغاز میں اس کے 16 ارکان تھے جس میں وقتاً فوقتاً ترمیم کرکے اس اب 39ںتک بڑھادیا گیا ہے۔ ان میں دو مبصرین ہوتے ہیں۔ اس کا صدر دو سال کیلئے منتخب کیا جاتا ہے۔ موجودگی صدر ڈاکٹر مارکس پلیر کا تعلق جرمنی سے ہے جنہوں نے گزشتہ برس چین کے ژیانگ من کی مدت ختم ہونے پر ادارے کا انتظام سنبھالا،پاکستان کا گرے لسٹ میں جانا 2018 کا واقعہ ہے،اس وقت سے لے کر اب تک پاکستان بڑی مثبت سوچ اور مدبرانہ انداز سے اس لسٹ سے نکلنے کیلئے کوشاں ہے، کرونا میں دنیا کی ڈوبتی معیشت کے باوجود گزشتہ برس پاکستان کی ترسیلات زر میں قابل ذکر اضافہ دیکھنے میں آیا۔اس کی ایک وجہ پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے ایسے اقدامات تھے جس سے اوورسیز پاکستانیوں نے قانونی طور پر رقوم ملک میں بھیجیں،ہنڈی حوالہ کی حوصلہ شکنی ہوئی،ہنڈی ایک متوازی نظام کی شکل اختیار کرگیا ہے۔ اس کی مزید تفصیل بھی اس مضمون میں موجود ہے۔ فی الحال بات کرتے ہیں کہ ایف اے ٹی ایف پاکستان سے کیا چاہتا ہے اور پاکستان ابھی تک کیا کر پایا ہے،اکتوبر 2020 میں ہونے والے اجلاس میں ایف اے ٹی ایف نے 6 سفارشات پر عمل درآمد کو غیر اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے چار ایسے شعبوں کی نشاندہی کی تھی جس میں مزید کام درکار تھا اور اس کے لیے پاکستان کو فروری 2021 تک کا اضافی وقت فراہم کیا تھا۔ اس اجلاس میں پاکستانی حکومت کی جانب سے منی لانڈرنگ اور دہشتگردی کی مالی معاونت کے خلاف اقدامات کے تناظر میں اب تک کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان کو شدت پسندوں کی مالی امداد کی روک تھام کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے،ایف اے ٹی ایف کی جانب سے جن تین شعبوں کی نشاندہی کی گئی ان میں پہلا یہ ہے کہ پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے ادارے اس کا عملی مظاہرے کریں کہ وہ دہشت گردوں کی مالی معاونت سے متعلق جرائم کی نشاندہی کر کے نہ صرف اس کی تحقیقات کر رہے ہیں بلکہ ان جرائم میں ملوث افراد اور کالعدم دہشتگرد تنظیموں اور ان کے لیے کام کرنے والے افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جا رہی ہے،دوسرا نکتہ یہ قرار پایا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ دہشت گردوں کی مالی امداد میں ملوث افراد اور تنظیموں کے خلاف جو قانونی کارروائی کی جائے اس کے نتیجے میں انھیں سزائیں ہوں جس سے ان جرائم کا مکمل خاتمہ ممکن ہو پائے۔ اس ضمن میں تیسری ڈیمانڈ یہ کی گئی کہ اقوام متحدہ کی فہرست میں نامزد دہشتگردوں اور ان کی معاونت کرنے والے افراد کے خلاف مالی پابندیاں عائد کی جائیں تاکہ انھیں فنڈز اکھٹا کرنے سے روکا جا سکے اور ان کے اثاثوں کی نشاندہی کر کے منجمد کیا جائے اور ان تک رسائی روکی جائے،گذشتہ سال اکتوبر میں ہونے والے اجلاس میں بھی ایف اے ٹی ایف کی جانب سے پاکستان کو گرے لسٹ میں ہی رکھا گیا تھا،اس اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ ماضی میں ادارے کی جانب سے پاکستان کو تجویز کردہ 27 میں سے 6 سفارشات پر مکمل عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان کو فروری 2021 تک گرے لسٹ میں ہی رکھا جائے۔دنیا بھر میں منی لانڈرنگ اور شدت پسندوں کی مالی امداد روکنے کے لیے ایف اے ٹی ایف کی جانب سے 40 سفارشات مرتب کی گئی ہیں اور ان سفارشات پر عملدرآمد کو مدنظر رکھتے ہوئے رکن ممالک کو گرے یا بلیک لسٹ میں شامل کیا جاتا ہے۔ 2018 میں جب پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کیا گیا تھا تو پاکستان کے مالی نظام اور قوانین کو ایف اے ٹی ایف کی 40 میں سے 13 سفارشات کے مطابق پایا گیا جبکہ باقی 27 سفارشات پر عمل درآمد کرنے کے لیے پاکستان کو ایک سال کا وقت دیا گیا تھا۔ تاہم فروری 2020 تک پاکستان صرف 14 سفارشات پر ہی عمل درآمد کر سکا لہٰذا پاکستان کو اکتوبر 2020 تک کا مزید وقت دیا گیا تاکہ باقی 13 سفارشات پر بھی عمل درآمد کروایا جا سکے۔ لیکن اکتوبر 2020 میں ہونے والے ایف اے ٹی ایف کے اجلاس نے 6 سفارشات پر عمل درآمد کو غیر اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے چار ایسے شعبوں کی نشاندہی کی گئی جس میں مزید کام درکار تھا اور اس کے لیے پاکستان کو فروری 2021 تک کا اضافی وقت فراہم کیا گیا۔ ان چار شعبوں میں پہلا حصہ دہشت گردوں کی مالی معاونت سے متعلق تھا تاکہ پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردوں میں مالی معاونت سے متعلق جرائم کی نشاندہی کر کے ناصرف اس کی تحقیقات کریں بلکہ ان جرائم میں ملوث افراد اور کالعدم دہشتگرد تنظیموں اور ان کے لیے کام کرنے والے افرادکے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ دوسرا شعبہ قرار پایا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ دہشت گردوں کی مالی امداد میں ملوث افراد اور تنظیموں کے خلاف جو قانونی کارروائی کی جائے اس کے نتیجے میں انھیں سزائیں دلوائی جائیں جس سے ان جرائم کا مکمل خاتمہ ممکن ہو پائے۔ تیسرے نمبر پر یہ کہا گیاکہ اقوام متحدہ کی فہرست میں نامزد دہشتگردوں اور ان کی معاونت کرنے والے افراد کے خلاف مالی پابندیاں عائد کی جائیں تاکہ انھیں فنڈز اکھٹا کرنے سے روکا جا سکے اور ان کے اثاثوں کی نشاندہی کر کے منجمد کیا جائے اور ان تک رسائی روکی جائے۔اور چوتھے اور آخری پوائنٹ میں یہ کہا گیا کہ پاکستان یہ بھی اس بات کو یقینی بنائے کہ دہشت گردی کی معاونت سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے اداروں جیسا کہ بینک وغیرہ دیوانی اور انتظامی سطح پر قابل احتساب ہوںاور اس سلسلے میں صوبائی اور وفاقی ادارے تعاون کریں، اب جائزہ لیتے ہیں کہ پاکستان نے گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے کون سے اقدامات کیے ہیں ؟ پاکستان نے بہت سے مشتبہ دہشت گردوں اور دہشت گردی میں ملوث افراد کی گرفتاریاں کی ہیں اور سزائیں سنائی گئی ہیں۔پاکستان ایف اے ٹی ایف کی 27 سفارشات پوری کرنے اور ٹیرر فنانسنگ کی روک تھام کے لیے 15 معاملات پر قانون سازی بھی کر چکا ہے۔ پاکستان گرے لسٹ میں کیسے آیا اس کا پس منظر سمجھنا بھی ضروری ہے۔ منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی امداد روکنے کے لیے ایف اے ٹی ایف کی جانب سے جو 40 سفارشات مرتب کی گئی ہیں ان کے نفاذ کو انٹرنیشنل کارپوریشن ریویو گروپ نامی ایک ذیلی تنظیم دیکھتی ہے،نومبر 2017 میں انٹرنیشنل کارپوریشن ریوویو گروپ کا اجلاس ارجنٹینا میں ہوا جس میں پاکستان سے متعلق ایک قرارداد پاس کی گئی جس میں پاکستان کی جانب سے متعدد جہادی تنظیموں کو دی جانے والی مبینہ حمایت کی طرف توجہ دلائی گئی۔ اس کے بعد امریکہ اور برطانیہ کی جانب سے پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کرنے کی سفارش کی گئی جس کے بعد فرانس اور جرمنی نے بھی اس کی حمایت کی۔ پاکستان کے اس وقت کے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے امریکہ اور دیگر تین ممالک سے پاکستان کا نام واپس لینے کی درخواست کی لیکن سب سفارتی کوششیں رائیگاں گئیں اور جون 2018 میں پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں شامل کر لیا گیا۔ اس سے پہلے بھی پاکستان سنہ 2013 سے سنہ 2016 تک گرے لسٹ کا حصہ رہ چکا ہے۔اس وقت دنیا کے اٹھارہ ممالک ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں شامل ہیں۔ اسی طرح ایک بلیک لسٹ بھی ہے جس میں اس وقت دنیا کے دو ممالک ایران اور شمالی کوریا شامل ہیں۔ گرے لسٹ میں موجود ممالک پر عالمی سطح پر مختلف نوعیت کی معاشی پابندیاں لگ سکتی ہیں جبکہ عالمی اداروں کی جانب سے قرضوں کی فراہمی کا سلسلہ بھی اسی بنیاد پر روکا جا سکتا۔ پاکستان نے رقوم کی ترسیل کے غیر قانونی راستوں کو روک لگائی تو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ملک میں بھجوائی جانے والی رقوم جولائی 2020میں بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔ اضافے کی بنیادی وجہ غیر قانونی ذرائع یعنی اور ہنڈی اور حوالہ کے بجائے بینکوں کا بڑھتا استعمال ہے۔جولائی 2020 میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ملک میں کر دو اعشاریہ سات ارب ڈالر سے زائد رقوم بھیجی گئیں۔ یہ رقوم جولائی 2019ء کے مقابلے میں 36.5 فیصد اور جون 2020ء کے مقابلے میں 12.2 فیصد بڑھیں۔ ہنڈی کا سلسلہ روک کر رکھنا پاکستان کے حق میں ہے۔ رقوم کی ترسیل بنکوں کے ذریعے ہوں تو وہ ریاست کی رگوں میں خون کا اثر رکھتی ہیں۔ اس نظام میں پیچیدگیوں کو کم کرنا ہوگا۔ ہنڈی کی طرف لوگوں کا مائل ہونے کی بڑی وجہ اس کا طریقہ کار سادہ ہونا ہے۔ ہنڈی میں ایک فون کال کے ذریعے رقم آپ کے گھر کہ دہلیز تک پہنچا دی جاتی ہے۔ مقتدر حلقوں کو اس بات پر بھی توجہ دینا ہوگی کہ بینکوں کے ذریعے لوگوں کیلئے رقوم کے لین دین میں آسانی لائی جائے ورنہ عام طور پر یہی دیکھا گیا ہے کہ عام صارفین کیلئے بینکوں تک رسائی ہی مشکل بنا دی گئی ہے ۔
بشکریہ نوائے وقت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں