21

باقی کاروباروں کی طرح ریسٹورنٹ کو بھی کام کرنے کی اجازت دی جائے،طاہر محمود گجر

ملتان(سٹاف رپورٹر)ساؤتھ پنجاب ریسٹورنٹ ایسوسی ایشن کے صدر چوہدری طاہر محمود گجر نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان این سی او سی ریسٹورنٹس انڈسٹری کو معاشی بدحالی کا شکار کرنے کی طرف لے جا رہی ہے،جنوبی پنجاب میں تین لاکھ افراد ایسے ہیں جن کا روزگار اس انڈسٹری سے وابستہ ہے،اس وقت تمام کاروباری مراکز مارکیٹ شاپنگ مال کھلی ہیں،جبکہ دوسری طرف ریسٹورنٹس انڈسٹری مسلسل زبوں حالی کا شکار ہے،حکومتی ہدایات کے مطابق اس وقت ہمارے تمام ریسٹورنٹ میں ملازمین ویکسینیٹڈ ہیں اس کے باوجود ہمارے ریسٹورنٹ سیل کئے جا رہے ہیں یا پھر بھاری جرمانے لگائے جا رہے ہیں،جبکہ حکومت پاکستان کی جانب سے پہلے پچاس فیصد کسٹمرز کو ویکسینیشن کے ساتھ ڈائن ان کی اجازت تھی جبکہ اب وہ بھی بند کر دی گئی ہے، ملتان کی گرمی کی شدت میں اور آوٹ ڈور ڈائننگ کی اجازت بھی صرف رات دس بجے تک ہے، ان ساری مشکلات کے باوجود دسیوں قسم کے ڈپارٹمنٹس بلا جواز جرمانے لگانے کے لئے کھلے چھوڑدئیے گئے ہیں،گزشتہ دو سال سے ریسٹورنٹ انڈسٹری زبوں حالی کا شکار ہے، اشیائے خوردونوش کی قیمتیں مسلسل بڑھتی جا رہی ہیں ریسٹورنٹس انڈسٹری کے لوگوں کا اپنا گھر چلانا مشکل ہو گیا ہے، ہم حکومت وقت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اگر تین دنوں میں ہمارے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے اور ہمارے مسائل کو حل نہ کیا گیا تو ہم احتجاج پر مجبور ہو جائیں گے،چوہدری طاہر محمود گجر نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ باقی کاروباروں کی طرح ریسٹورنٹ کو بھی کام کرنے کی اجازت دی جائے،فی الفور ان ڈور ڈائن ان اوپن کیا جائے اور آؤٹ ڈور کو بھی رات بارہ بجے تک کھولنے کی اجازت دی جائے،ضلعی انتظامیہ اور مختلف محکموں کی جانب سے بلا جواز جرمانے بند کئے جائیں،اس موقع پر سینئر نائب صدر اعجاز کریم، نائب صدر چوہدری چوہدری ذوالکیف، جنرل سیکرٹری حسن خان، میڈیا سیکرٹری جواد حیدر جوئیہ،فنانس سیکرٹری احمد شعیب، ممبر ایگزیکٹو کمیٹی فرحان بلوچ، احمد ملک اور دیگر بھی موجود تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں