9

باپ کی جگہ بیٹے کو نوکری دینے کا قانون ہی عجیب و غریب ہے، سپریم کورٹ

اسلام آباد(بیورو رپورٹ)دوران سروس انتقال کرنے والے ملازمین کے بچوں کو نوکری سے متعلق اہم فیصلہ، سپریم کورٹ نے پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا،چیف جسٹس نے کہا کہ باپ کی جگہ بیٹے کو نوکری دینے کا قانون ہی عجیب و غریب ہے،سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ سرکاری ملازمت کے اہل وہی بچے ہونگے جن کے والد کا انتقال 2005 کے بعد ہوا ہو، سال 2005 سے پہلے انتقال کرنے والے سرکاری ملازمین کے بچوں پر وزیراعظم پیکج لاگو نہیں ہوتا، عدالت باپ کی جگہ بیٹے کو نوکری دینے کا قانون ہی عجیب و غریب ہے،چیف جسٹس نے کہا کہ سرکاری دفاتر وراثت میں ملنے والی چیز تو نہیں، اس طرح نوکریاں دینے سے میرٹ کا مکمل خاتمہ ہوتا ہے، ایسا نہیں ہو سکتا کہ باپ کا انتقال ہو تو بیٹا بھرتی ہو جائے، کم آمدن والے ملازمین کیلئے قانون بنا تھا لیکن بھرتی افسران کے بچے ہوتے ہیں، اے ایس آئی کا بیٹا کہتا ہے ڈائریکٹ ڈی ایس پی بھرتی کرو،جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے کہا کہ ابتدائی طور پر یہ قانون پولیس اور دیگر شہداء کیلئے تھا،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ وزیراعظم پیکج کا اطلاق 2005 سے ہوتا ہے،درخواست گزار نے کہا کہ اپنے والد کی جگہ بھرتی ہونے کی درخواست دی جو وفاقی وزارت تعلیم نے مسترد کر دی، پشاور ہائیکورٹ نے مجھے بھرتی کرنے کا حکم دیا ہے، قربانی تو سب کی برابر ہوتی ہے، 2005 سے پہلے کی ہو یا بعد کی،عدالت نے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا،یاد رہے درخواست گزار سراج محمد کے والد لعل محمد سال 2000 میں دوران سروس انتقال کر گئے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں