14

بلاول کشمیر کے حوالے سے ہندوستان کی زبان نہ بولیں،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی


ملتان،وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بلاول کشمیر کے حوالے سے ہندوستان کی زبان نہ بولیں بلکہ پاکستان کے مفادات کا تحفظ کریں،بلاول بچکانہ باتیں کرتے ہیں کہ کشمیر کا سودا نہیں ہونے دیں گے،ان سے پوچھتے ہیں کہ کشمیر کا سودا کون کررہا ہے؟ کشمیریوں کے سودے کی بات کرنے والے بلاول اور ان کے والد اپنے گریبان میں جھانکیں،بلاول کلبھوشن کو این آر او دینے کی بات کرتے ہیں،حکومت کلبھوشن کو این آر او نہیں دے رہی ہے،بلکہ عالمی عدالت انصاف کے احکامات پر عمل کررہی ہے۔سندھ میں قانون کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں،تھر پارکر میں ہندو کمیونٹی کے باعزت شخص بھیل قبیلے کے ٹکٹ ہولڈر کو تحریک انصاف میںشامل ہونے پر انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے،سندھ میں ہندو کمیونٹی کے افراد پر تشدد کرکے نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی بلکہ آئین میں دیئے گئے اقلیتوں کے حقوق کی پامالی کی جارہی ہے،میں بلاول بھٹو سے کہتا ہوں کہ اگر سندھ میں بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی رکوانے میں اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر سکتے تو ہیومن رائٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ سے مستعفی ہو جائیں،بلاول نہ سمجھ اور غیر پختگی کا شکار ہیں،طوطے کی طرح رٹی رٹائی تقریر کرتے ہیں۔وقت کے ساتھ ساتھ ان میں پختگی آئیگی،مریم نواز گھبراہٹ،بوکھلاہٹ اور سیاسی عدم بصیرت کا شکار ہیں انہیں آزاد کشمیر کا الیکشن چوری ہوتے ہوئے دیکھائی دے رہا ہے۔ میں انہیں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ آزاد کشمیر میں انتخابات ان کی اپنی جماعت ن لیگ کی نگرانی میں ہو رہے ہیں۔ کیا انہیں اپنی جماعت پر اعتماد نہیں؟آزاد کشمیر کے انتخابات کی کمپین میں میں تحریک انصاف کو بھر پور پذیرائی مل رہی ہے۔وزیراعظم پاکستان عمران آزاد کشمیر میںتین بڑے جلسوس سے خطاب کریں گے اور کشمیر کے مسئلہ کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے حوالے سے کشمیری عوام کواعتماد میں لیں گے۔امید ہے آئندہ آزاد کشمیر میں بھی تحریک انصاف کی حکومت ہوگی۔ ان خیالا ت کا اظہار انہو ںنے گزشتہ روز ڈپٹی کمشنر آفس ملتان میں ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔وفاقی پارلیمانی سیکرٹری خزانہ مخدومزادہ زین حسین قریشی‘ صوبائی وزیر توانائی ڈاکٹر اختر ملک ‘ صوبائی پارلیمانی سیکرٹری اطلاعات ندیم قریشی ‘ چیئرمین ایم ڈی اے رانا عبدالجبار بھی اس موقع پر موجود تھے۔انہو ںنے کہا ملکی سیاست میں عدم برداشت کے رویہ پروان چڑھ رہے ہیں جو قابل افسوس ہیں ۔سیاست میں دو نقطہءنظر ہوتے ہیں۔اپنا نقطہ نظر پیش کیا جائے اور دوسرے کی بھی سنی جائے ۔سیاست میں مثبت تنقید جائز ہوتی ہے ،بلاول نے پارلیمانی روایات کی بات کی۔میں نے اس کو کہا کہ بیٹا بات کا جواب تو سنو۔میں نے سوال کیا کہ سندھ میں بجٹ اجلاس میں اپوزیشن لیڈر کو تقریر کا موقع کیوں نہیں دیا گیا ؟ سندھ میں اپوزیشن لیڈر کو سٹینڈنگ کمیٹیوں میں شامل کیو ںنہیں کیا گیا ۔ سندھ کے حوالے سے آپ کا اور معیار ہے ‘ وفاق کے حوالے سے آپ کا اور معیار ہے۔ بلاول کو جب آئینہ دکھایا گیا تو وہ برا مان گئے۔انہو ںنے کہاافغانستان کے مستقبل کا فیصلہ افغانوں نے کرنا ہے۔ پاکستان نے پہلے دن سے کہا تھا افغان مسئلے کا حل بزور طاقت ممکن نہیں۔اور آج امریکہ سمیت پوری دنیاپاکستان کی اس بات کو مان رہی ہے آج پوری دنیا افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے پاکستان کے کردار کو سراہا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم 90 کی دہائی میں لوٹنا نہیں چاہتے، ہم نہیں چاہتے افغانستان میں خانہ جنگی ہو اور بدامنی پھیلے۔ ہم نہیں چاہتے کہ افغانستان کسی سول وار کا شکار ہو جائے۔ہم چاہتے ہیں افغانستان میں امن ہو ۔ اگر افغانستان میں حالات بگڑتے ہیں تو سپل آوور پاکستان، چائنہ، ازبکیستان بھی ہو سکتے ہیں۔انہو ںنے کہا افغانستان کی صورتحال پرہم نے پارلیمنٹ کواعتماد میں لیا،ہم نے قومی اسمبلی اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امورخارجہ کے اجلاس میں افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے کئے جانے والے اقدامات پر مکمل بریفنگ دی۔ہمارے اقدامات کا منتخب نمائندوں کوافغانستان میںقیام امن کیلئے کئے جانے والے اقدامات پراعتماد میں لینا اور اس اہم مسئلہ پر قومی یکجہتی پیدا کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان مسئلے پر امریکی وزیر خارجہ کے ساتھ مفید بات چیت ہوئی ہے۔ طالبان کی سینئر قیادت سے رابطہ کر رہے ہیں۔ افغان وزیر خارجہ کو بھی پاکستان آنے کی دعوت دی ہے۔ ان کا منتظر ہوںافغانستان کی سیاسی قیادت سے بھی رابطہ کررہے ہیں۔ کوشش ہے کہ افغانستان کی تمام قوتوں کو یکجا کریں۔اور تمام سٹیک ہولڈرز سے بات چیت جاری ہے۔افغان مسئلے کے حل کے لیے خطے کے دیگر ممالک سے بھی مشاورت کر رہے ہیں۔ہمارے اقدامات کا مقصد افغانستان میں دیر پا امن کا قیام ہے۔ افغان امن عمل کے سلسلے میں کل تاجکستان جا رہا ہوں، تاجکستان کے بعد ازبکستان جاو¿ں گا جہاں وزیر اعظم بھی آئیں گے۔پاک افغان بارڈر پر باڑ لگانے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم ہم نے بارڈر پر باڑ اس لیے لگائی ہے تاکہ غیر قانونی بارڈر کراسنگ کو چیک کیاجائے، چاہتے ہیں کہ افغانستان آنے اور جانے والے لوگ قانونی راستے سے آئیں، ہم 30لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کی خدمت کررہے ہیں،مزید بوجھ اٹھانے کی ہم میں سکت نہیں ہے۔امریکہ کو فوجی اڈے نہ دینے کے بعد پاک امریکہ تعلقات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہو ںنے کہا کل میری امریکی وزیر خارجہ سے بات چیت ہوئی اور مجھے ان کے خیالات سننے کا موقع ملا۔ امریکہ پاکستان کو ایک قریبی ساتھی اور ایک تعمیری حلیف سمجھتا ہے۔امریکہ اور پاکستان دونوں ایک پیج پر ہیں۔آج افغانستان میں امن کے لئے گفت و شنید پر دونوں ممالک کا اتفاق ہے۔زلمے خلیل زاد سے عنقریب ازبکستان میں ملاقات ہوگی۔ بجٹ کے بعد مہنگائی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا جب ہم مہنگائی کی بات کرتے ہیں تو ہمیں انٹرنیشل مارکیٹ کو بھی دیکھنا ہوگا۔ہمیں مہنگائی کے عناصر کو دیکھنا ہوگا، ہمیں عالمی مارکیٹ میں تیل اور ڈالر کی قیمتوں کا جائزہ لینا ہوگا۔ مہنگائی کو کنٹرول کرنا ہماری اولین ترجیح ہے۔ جلد ہی مہنگائی پر کنٹرول کر لیا جائے گا۔انہوںنے کہا وزارت آئی ٹی نے جنوبی پنجاب میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے فروغ کیلئے 28مقامات پر 6ارب 47کروڑ کی لاگت سے فور جی سروس کے دائرہ کار میں اضافہ کی منظوری دی ہے ۔ اس منصوبے کا آغاز خانیوال اور ملتان سے ہوگا اور پورا جنوبی پنجاب فور جی سروس سے مستفید ہوگا۔ اس منصوبے کی بدولت جنوبی پنجاب کے صارفین کو آپٹیکل فائبر کے ذریعے تیز ترین انٹرنیٹ سروس فراہم کی جائے گی۔انہوں نے کہا آج ڈسٹرکٹ کوآرڈی نیشن کمیٹی کے اجلاس میں ترقیاتی پروگرام کا جائزہ لیا گیا۔ اورسابقہ اجلاس میں زیر بحث منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں تحصیل صدر کے منصوبوں کی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔ چیف آفیسر تحصیل صدر کی کارکردگی غیر تسلی بخش نظر آئی۔جلال پور اور شجاع آباد میں کارکردگی قدرے بہتر تھی۔ہمیں ملتان کارپوریشن کی کارکردگی کے حوالے سے سنجیدہ مسائل نظر آئے ۔میں کمشنر ملتان سے درخواست کرونگا کہ وہ بطور ایڈمنسٹریٹر میونسپل کارپوریشن ملتان اجلاس طلب کریں۔ ہم ملتان کے تمام اراکین پارلیمنٹ اس اہم مسئلہ پر ان کے اجلا س میں جانے کو تیار ہیں ۔ اس اجلاس میں میونسپل کارپوریشن ملتان کے مسائل اور کارکردگی زیر بحث آئیگی۔ انہوں نے کہا عید قربانی کے دوران شہریوں کو صفائی کی سہولیات فراہم کرنا ملتان ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کی ذمہ داری ہے۔ اس حوالے سے ملتان ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے سی او فخر السلام ڈوگر کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ نہ صرف عید قربان کے دوران بلکہ مجموعی طور پر ملتان میں صفائی اور ویسٹ مینجمنٹ کے حوالے سے ادارے کو متحرک کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں