9

بلدیہ خانیوال،43 ٹھیکیداروں کو جرمانہ نہ کرنے پر خزانے کو 40 لاکھ کا نقصان

خانیوال،بلدیہ خانیوال کی سالانہ آڈٹ رپورٹ برائے سال 2019،2020 میں انکشاف کیا گیا ہے کہ چیف افسر بلدیہ خانیوال نے مالیاتی سال 2019،20 کے دوران تعمیراتی و مرمتی کاموں کے سلسلے میں 43 منصوبوں میں مقررہ مدت میں کام نہ مکمل کرنے والے ٹھیکے داروں پہ جرمانہ عائد نہ کرکے حکومت پنجاب کے خزانے کو 43 لاکھ روپے کا نقصان پہنچایا،آڈٹ رپورٹ کے صفحہ 17 پر آڈیٹر نے لکھا ہے کہ 2019،2020 کے دروان تعمیراتی ٹھیکوں میں 43 منصوبے تاخیر کا شکار ہوئے اور کسی ٹھیکے دار کی طرف ٹھیکے کی توسیع کی کوئی درخواست موصول ہونے اور اس کے منظور کیے جانے کا ثبوت فراہم کردہ ریکارڈ سے نہ مل سکا۔ آڈٹ رپورٹ میں لکھا ہے کہ 40 لاکھ خزانے کو نقصان پہنچانے کی تفصیل سی او بلدیہ افتخار بنگش اور ڈی ڈی او کو فراہم کی گئی لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہوا،اس نمائندے نے جب چیف افسر بلدیہ خانیوال سے رابطہ کیا تو وہ اس حوالے سے کوئی تسلی بخش جواب نہ دے پائے،آڈٹ فرم حمید اینڈ کو سے تعلق رکھنے والے ایک سینئر آڈٹ افسرنے نوائے وقت سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ بلدیہ خانیوال کی چار سالانہ آڈٹ رپورٹ سنگین ترین مالیاتی بے ضابطگیوں، اختیارات سے تجاوز اور فراڈ کی نشاندہی کرتی ہیں انہوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے یہ سوال کیا کہ ان آڈٹ رپورٹس کی روشنی میں آج تک کرپٹ اور نااہل افسران بلدیہ کے خلاف کاروائی عمل میں کیوں نہیں لائی گئی،انہوں نے کہ آڈٹ افسر کو ریکارڈ نہ پیش کرنا بھی ضابطے کی خلاف ورزی ہے اور اس پہ بھی تادیبی کاروائی بنتی ہے جس کا نہ کیا جانا حیرت انگیز ہے۔ آڈٹ افسر کا کہنا تھا کہ جس طرح کے خوفناک حقائق سالانہ آڈٹ رپورٹس سے ظاہر ہورہے ہیں انھیں دیکھتے ہوئے تو چیف سیکرٹری پنجاب اور فناس سیکرٹری پنجاب کو مونسپل کمیٹی خانیوال کے چار مالیاتی سالوں کے اخراجات کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرنے کا حکم دینے کی ضرورت ہے۔ شاید یہ لوکل گورنمنٹ کی تاریخ کے سب سے بڑے مالیاتی فراڈ کو بے نقاب کرنے والا آڈٹ ثابت ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں