7

بہاوالدین زکریا یونیورسٹی میں جنوبی پنجاب کے پہلے اربن فاریسٹ کا افتتاح


ملتان،پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما جہانگیر ترین نے کہا کہ جنوبی پنجاب صوبہ کے لئے اخباری بیانات کے بجائے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے،پیپلز پارٹی سمیت کسی سیاسی جماعت سے میرا کوئی رابطہ نہیں،بجٹ میں عوام کو ریلیف ملے گا،بڑے بڑے سیاستدان اس خطے سے ووٹ لے کر جاتے ہیں اور واپس نہیں آتے، میرا یقین ہے کہ جب ھم اپنے علاقوں میں فلاحی کاموں میں پیسہ لگاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس میں مزید برکت ڈالتے ہیں،اس خطے میں تعلیم،صحت ،پانی ودیگر منصوبوں کیلئے ہمیں کمیونٹی ڈویلپمنٹ کرنی چاہیے،حکومتیں بھی کام کرتی ہیں لیکن ہمیں بھی فلاحی کاموں میں زیادہ سے زیادہ حصہ لینا چاہیے،ماحولیاتی تبدیلی کے لئے شہری جنگل اگانے ھونگے اور ھم نے عملی طور پر یہ کر کے دکھا دیا ھے،سیاست سے زیادہ مجھےسماجی و فلاحی کاموں میں زیادہ مزہ آتا ہے،لودھراں پائلٹ پروجیکٹ کے تحت ابتک ہم لودھراں،ملتان اور جھنگ سمیت جنوبی پنجاب میں تین سالوں میں دو لاکھ ستر ھزار درخت لگا چکے ہیں،زکریا یونیورسٹی میں 11 ایکڑ رقبہ پر 3660 پھلدار پودوں کی شجر کاری سے زکریا یونیورسٹی ملک بھر میں سرکاری وغیر سرکاری جامعات کا سب سے بڑا شہری جنگل بن گیا ہے،جنوبی پنجاب کو علیحدہ صوبہ بنانے کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے والوں کو ہمیں ڈھونا ھے،میرے ساتھ انصاف کا معاملہ پراسس میں ہے مجھے اپنی ذات سے زیادہ ملک وقوم کی فکر ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے زکریا یونیورسٹی میں پاکستان کے سب سے بڑے شہری جنگل کی افتتاحی تقریب سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔،س موقع پر انہیں سی او لودھراں پائلٹ پروجیکٹ ڈاکٹر محمد عبدالصبور نے بریفننگ دی ، جنگل کا معائنہ کروایا ، مختلف سٹالز پر طلبہ سے بات چیت کی اور پھر ایک پودا بھی لگایا،اس موقع پر وی سی ڈاکٹر منصور کنڈی ،سابق ایم پی اے سلمان نعیم،پروفیسر طاہر محمود،میاں جہانگیر، عالیہ سندس،اقصیٰ احمد ودیگر بھی موجود تھے،جہانگیر خان ترین نے مزید کہا کہ جنوبی پنجاب صوبہ کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے والوں کو ڈھونڈنا ہے میرے ساتھ انصاف کا معاملہ پراسیس میں ہے،جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنا کر رہیں گے،وہ وقت دور نہیں جب جنوبی پنجاب صوبہ بن جائے گا،شوکت ترین سمجھدار وزیر خزانہ ہیں، انہوں نے جو بجٹ بنایا ہے اس میں عوام کو ریلیف ملے گا۔ ماحول کو سازگار بنانے کے لئے درخت لگانے ضروری ہے – اسی سلسلہ میں آج یونیورسٹی میں 3660 پودے لگائے گئے ہیں جن میں آم کے 300, جامن 1200, مالٹے 540, شہتوت 970اور ارجن کے 650 پودے شامل ہیں ۔چند دنوں میں میواکی کے 5000 پودے مزید لگاۓ جائیں گے ۔اس شہری جنگل میں واکنگ ٹریک،بچوں کے جھولے،فوارے طلبا وعوام کی تفریح کے لئے جدید سہولیات بھی دی جائیں گی۔ اسی طرز پر ھم نے کلین وگرین پاکستان کے خواب کو تعبیر میں بدلنا ھے – آج یونیورسٹی میں ایسے کام کے لئے آیا ہوں جس سے ماحول کے لئے فرق پڑے گا۔ بعض کام انسان اپنے اور بعض کمیونٹی اور عوام کے فائدے کے لئے کرتا ہے۔ جنوبی پنجاب کے لوگوں کو کچھ واپس کرنے کے لیے لودھراں پائلٹ پراجیکٹ کی بنیاد رکھی۔ ہم جنوبی پنجاب کے لوگ ہیں، اور یہاں کے لئے کام کرنا چاہتے ہیں – انہوں نے مزید کہا کہ جنوبی پنجاب سے کامیاب ہونے والے خطے کو بھول جاتے ہیں۔ اپنے علاقے کے لیے کام کرنے میں سب سے زیادہ برکت ہے۔ بڑے بڑے سیاستدان کی چھوٹے کاموں پر نظر نہیں پڑتی۔ جنوبی پنجاب کے لوگوں کو کہا جاتا کہ یہاں کے لوگ نوکریاں نہیں حاصل کر سکتے۔ میں کہتا ہوں یہاں کے لوگوں کو وہ تعلیم دی جائے جو پنجاب میں ہے تو حیران کن نتائج دے سکتے ہیں۔ جنوبی پنجاب کو باقی پنجاب کے برابر لے کر آئیں گے۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ جب تک زندہ ہوں جنوبی پنجاب کو صوبہ بنوائیں گے،وی سی زکریا یونیورسٹی ڈاکٹر منصور کنڈی نے کہا کہ اس شہری جنگل پر جہانگیر ترین کے مشکور ہیں، لوگ کہتے ہیں جس نے لاہور نہیں دیکھا وہ جمیا ھی نہیں میں کہتا ھوں جس نے ملتان نہیں دیکھا وہ بخشا ھی نہیں جائیگا۔ 66 سال کی عمر میں میں علم کے سمندر کے کنارے بیٹھ کر وضو کر رھا ھوں۔ ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کے لئے ھمیں مل جل کر کام کرنا ھوگا۔ عوامی ،شہری وطلبا کی فلاح و بہبود کے لئے بڑھ چڑھ کر حصہ ڈالنا ھوگا۔ ڈاکٹر عبدالصبور نے کہا لودھراں پائلٹ پروجیکٹ ،ڈبلیو ڈبلیو ایف اور زکریا یونیورسٹی کے جائنٹ وینچر سے یہ منصوبہ شروع کیا ھے اسی طرح کے کئی اور منصوبے پائپ لائن میں ھیں۔ طلباء اور انتظامیہ سے امید ھے کہ اس جنگل کی پرورش پر خصوصی توجہ دیں گے۔ اصل کام پودے لگانا نہیں بلکہ ان پودوں کی نشوونما محنت اور صبر والا کام ھے۔اس موقع پر سلمان نعیم ودیگر نے بھی خطاب کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں