21

بہاولنگرمیں دھان پرموثر زرعی زہروں کے استعمال کے متعلق آگاہی سیمینار

سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب ثاقب علی عطیل نے کہا ہے کہ دھان کی فصل ہماری غذائی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ زرمبادلہ کمانے کا بھی اہم ذریعہ ہے،دھان کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کیلئے 6 ارب 32 کروڑ کا منصوبہ جاری ہے جس کے تحت دھان کی منظورشدہ اقسام کا بیج، زرعی مشینری، اجزائے کبیرہ و صغیرہ اور جڑی بوٹی مار زہروں پر کاشتکاروں کو سبسڈی دی جا رہی ہے،مالی سال 2019-20 کے دوران 2.19 ملین ٹن چاول برآمد کئے گئے جس سے 2.94 ارب ڈالر زرمبادلہ حاصل ہوا،ان خیالات کا اظہار انہوں نے ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان اور انٹر نیشنل ٹریڈ سنٹر کے باہمی تعاون سے بہاولنگر میں دھان پر موثر زرعی زہروں کے استعمال کے متعلق منعقدہ آگاہی سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے کیا،انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان دنیا میں چاول برآمد کرنے والے ممالک میں چوتھے نمبر پر ہے،پاکستانی باسمتی چاول اپنی خوشبو اور کوالٹی کی وجہ سے پوری دنیا میں پسند کیا جاتا ہے،وزیراعظم پاکستان کے زرعی ایمرجنسی پروگرام پر عملدرآمد سے امسال چاول کی پیداوار میں ریکارڈ 28 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہاولنگر میں تقریباً تین لاکھ ایکڑ رقبہ پر دھان کی فصل کاشت ہوتی ہے،اسی لئے مقامی آب و ہوا اور جاری موسمیاتی تبدیلیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے جدید اقسام کی دریافت کیلئے یہاں پر رائس ریسرچ اسٹیشن قائم کیا گیا ہے،انہوں نے کہا کہ ہمارے سائنسدان چاول کی ایسی اقسام کی دریافت پر تحقیق کے عمل کو تیز کریں جو کم پانی سے زیادہ پیداوار دینے کی صلاحیت رکھتی ہوں،انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی دھان کی فصل کو کیڑوں وبیماریوں سے بچانے کیلئے حیاتیاتی طریقہ کنٹرول کو فروغ دینا ہوگا،کیونکہ زرعی زہروں کے بے جا استعمال سے نہ صرف چاول کی کوالٹی متاثر ہوگی بلکہ برآمدات میں بھی مشکلات آسکتی ہیں،انہوں نے کہا کہ دھان کی فصل کیلئے بھی جلد از جلد آئی پی ایم ماڈل تیار کرکے کاشتکاروں میں متعارف کرایا جائے تاکہ پیداواری لاگت میں کمی لانے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ کوالٹی کے چاول کا حصول یقینی بنایا جاسکے،انھوں نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی قیادت میں زرعی شعبہ کو فعال اور ترقی یافتہ بنانے کے لیے محکمہ زراعت کوشاں ہے اور اس مقصد کے لیے بجٹ میں 300 فیصد اضافہ کیا گیا ہے،پہلی دفعہ جنوبی پنجاب میں زرعی ترقی کیلئے  علیحدہ 11 ارب 86 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کاشتکاروں کی سہولت اور اُن کے تحفظات کے ازالہ کے لئے حکومت پنجاب نے تاریخ میں پہلی مرتبہ ”کسان کارڈ” کے اجراء کا انقلابی پروگرام شروع کیا ہے جس کے ذریعے تمام سبسڈیز کو کیش ٹرانسفر کی صورت میں براہ راست کاشتکاروں کے اکاونٹ میں منتقل کیا جائے گا۔ اس موقع پر سیکرٹری زراعت نے محکمہ زراعت کے افسران پر زور دیا کہ وہ کاشتکاروں کی ہر ممکن رہنمائی کریں تاکہ دھان کی بہتر پیداوار کو یقینی بنایا جا سکے۔ سیمینار میں ماہرین نے دھان کی جدید پیداواری ٹیکنالوجی کو استعمال کرکے فی ایکڑ زیادہ پیداوار کا حصول ممکن بنانے کے متعلق کاشتکاروں کوآگاہی فراہم کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں