27

تاریخ اہلِ کشمیر کے ساتھ ہے


بھارتی حکومت کی جانب سے اگست2019ء میں مقبوضہ کشمیر کے انضمام کا فیصلہ جہاں بھارت اور اس خطے کی تاریخ کا ایک سیاہ فیصلہ ہے،وہیں یہ انتہائی دورس اثرات کا بھی حامل ہے، اس فیصلے کے ذریعے بھارت نے خود کو ایک مطلق العنان ریاست ثابت کیا ہے جو کسی قاعدے قانون کو خاطر میں نہیں لاتی،مقبوضہ وادیٔ کشمیر کا انضمام بھارت کی نوآبادیاتی سوچ اور استعماری عزائم کا عکاس ہے،عالمی برادری کا یہ قانونی اور اخلاقی فرض ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے بھارت کے ان جارحانہ اقدامات کو روکے جن کی وجہ سے ایک طرف لاکھوں کشمیریوں کی زندگیاں اور دوسری جانب اس پورے خطے کا امن و امان داؤ پر لگ چکا ہے، مجھے ایک ایسے دور میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی وزارتِ عظمی سنبھالنے کا اعزاز حاصل ہوا جب پاکستان میں ایک نئے جمہوری دور کا آغاز ہو رہا تھا اور ہمیں علاقائی و داخلی سطح پر بہت سے چیلنجز درپیش تھے جن میں مسئلہ کشمیر کو مرکزی حیثیت حاصل تھی،میں نے اپنی وزارتِ عظمیٰ کے دور کا آغاز اپنی جماعت کے اس دیرینہ اُصولی مؤقف کے اعادہ کے ساتھ کیا تھا کہ اہلِ کشمیر کو ان کا پیدائشی اور ناقابل تنسیخ حقِ استصوابِ رائے اور اپنے مقدر کا خود فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل ہے،میرے سامنے رہنمائی کیلئے وہ اصول موجود تھے جو 1965ء میں ذوالفقار علی بھٹو نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے اپنے خطاب کے دوران پیش کیے تھے۔ میرا عزم تھا کہ ہر پاکستانی کشمیر کے ساتھ تہذیب و ثقافت، جغرافیہ اور تاریخ کے رشتے میں بندھا ہوا ہے۔ میری پالیسی واضح تھی کہ پاکستان اپنے کشمیری بھائیوں کی تحریکِ آزادی کی سفارتی، قانونی اور اخلاقی مدد جاری رکھے گا، ہم اس اُصولی مؤقف پر قائم ہیں کہ امن کیلئے مذاکرات کا عزم اپنی جگہ مُسلّم لیکن یہ امن ہمارے کشمیری بہن بھائیوں کی آزادی اور خود مختاری کی قیمت پر ہر گز قابل قبول نہیں،میں نے جنوبی ایشیا کے عوام کی بہتری اور بھلائی کے جذبے اور امید کے ساتھ بھارت اور پاکستان کے درمیان تمام تصفیہ طلب اُمور کو پُرامن طریقے سے حل کرنے کی ہمیشہ حمایت کی ہے،یہی وجہ ہے کہ سابق بھارتی وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ مجھے ’’مردِ امن‘‘ کہہ کر مخاطب کیا کرتے تھے۔ امن کی یہ خواہش پاکستانی قوم کی عظمت کے ساتھ ساتھ اہلِ کشمیر کی اُمنگوں کی ترجمان بھی تھی،کشمیری عوام کے اُصولی مؤقف کی حمایت ہم نے جوش و جذبے اور بصیرت و دانش کے ساتھ کی ہے لیکن یہ صورتحال انتہائی پریشان کن ہے کہ ہماری موجودہ حکومت کو اس آگ کی حدّت ابھی تک محسوس نہیں ہوئی جو بھارت نے5 اگست 2019ء کو بھڑکائی تھی،کشمیر کے معاملے پر یہ اعتماد میرے،اندرون و بیرونِ ملک،جمہوری اقدار اور آزادی پر ایمان کی دین ہے،میں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی ہماری پارلیمان طے کرے اور قومی اہمیت کے تمام معاملات اسی فورم پر زیر بحث لائے جائیں تاکہ دنیا کے سامنے پوری قوم کا اجتماعی فیصلہ رکھا جاسکے۔ آج مجھے یہ دیکھ کر انتہائی دُکھ ہوتا ہے کہ موجودہ حکومت نہ صرف پارلیمان کو نظر انداز کر رہی ہے بلکہ کشمیر جیسے اہم ترین مسئلے پر قومی اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں بھی یکسر ناکام دکھائی دیتی ہے،آج ہمیں مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے نریندرا مودی کے جارحانہ اقدامات کا بھرپور اور مؤثر جواب دینے کی ضرورت ہے،بھارت نے عالمی قوانین کو پامال کرنے کا جو سلسلہ شروع کر رکھا ہے اس کو روکنا عالمی برادری کی ذمہ داری ہے اور یہ اقوامِ متحدہ کی’’ کریڈیبلٹی‘‘ کا سوال ہے،مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے ہماری حکومت نے جس نااہلی اور غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے وہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ہماری حکومت کو اس مسئلے کی سنگینی کا یکسر احساس نہیں ہے،حکومت کے اس غیر سنجیدہ رویے نااہلی اور غیر جمہوری سوچ کے باوجود ہم کشمیری عوام کے اہلِ پاکستان پر اعتماد کو مجروح نہیں ہونے دیں گے۔ ہم ہر طرح کی سیاست اور مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کشمیر کے معاملے پر موجودہ حکومت کا مکمل ساتھ دینے کے عزم پر قائم ہیں کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ قومی اور ملکی معاملات پر کسی قسم کی سیاسی پوائنٹ سکورنگ نہیں ہونی چاہئے،کشمیر پر بھارت کا غاصبانہ قبضہ اور اہل کشمیر کے بنیادی انسانی حقوق کی پامالی کسی طور بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں بلکہ یہ پوری عالمی برادری، انسانی اقدار اور آزادی پر ایمان اور ان کے تحفظ پر یقین رکھنے والے ہر فرد کیلئے باعثِ تشویش ہے۔ تاریخ اہلِ کشمیر کے ساتھ کھڑی ہے اور پاکستانی عوام اپنے کشمیری بہن بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں تا آنکہ وہ اپنی منزلِ آزادی تک نہیں پہنچ جاتے جو ان کا مقدر ہے۔
بشکریہ نوائے وقت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں