8

جامعہ زکریا کا خسارہ ایک ارب سے متجا وز، تحقیق کا عمل ٹھپ، سیر سپاٹے پر کروڑوں خرچ

ملتان،جامعہ زکریا کا خسارہ ایک ارب سے متجاوز، ریسرچ ورک ٹھپ،تفصیل کے مطابق بہاو الدین زکریا یونیورسٹی کا خسارہ ایک ارب روپے سے بڑھ گیا ہے جسکی وجہ سے متعدد امور متاثر ہوگئے ہیں،جبکہ ریسرچ کا عمل بھی رک کر رہ گیا ہے،مگر اساتذہ کے الاؤنسز ویسے ہی منظور ہو رہے ہیں اور اساتذہ و ملازمین اور افسران کے ٹورز اور مراعات میں ایک کروڑ سے زائد کے اخراجات سامنے آئے ہیں۔ یونیورسٹی میں خسارہ گزشتہ تین سالوں سے چل رہا ہے مگر اس سال 2021،2022 کا خسارہ یونیورسٹی تاریخ میں سب سے زیادہ ہوگا جبکہ اس سال سے پروفیسرز ملازمین اور افسران کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ کرنا ہوگا،گزشتہ مالی سال بھی خسارے کو کم کرنے کے لئے تمام کوششیں ضائع ہوئیں اس سب کے باوجود بھی اساتذہ و ملازمین کا لیٹ سٹنگ الاؤنس بھی جاری ہے اسے بھی نہیں روکا گیا ہے اب جبکہ یونیورسٹی کے 400ڈیلی ویجز ملازمین کو بھی مستقل کیا جا رہا ہے اور کئی افسران بھی نئے بھرتی کئے جا رہے ہیں جس میں رکاوٹ نہیں ڈالی گئی ہے۔یونیورسٹی میں غیر قانونی طور پر اور جعلی ڈگریوں کے حامل ایڈمن افسران بھی بدستور سیٹوں پر براجمان ہیں حالانکہ انکے خلاف اینٹی کرپشن میں بھی کیس پڑا ہے اور اثر رسوخ استعمال کرکے کیس نہیں لگوایا جارہا ہے۔یونیورسٹی میں ریونیو میں اضافہ کرنے والا پروگرام ڈسٹنس لرننگ بھی بند کر دیا گیا تھا۔یونیورسٹی کے پروفیسرز پٹرول الاؤنس بھی باقاعدہ لے رہے ہیں اس طرح خسارہ مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ زکریا یونیورسٹی ملتان بدانتظامی کے باعث بھی انتظامی و تدریسی شعبہ جات کے سربراہان کا اضافی اخراجات میں کمی کیلئے تعاون سے انکار ہے‘ انتظامی افسران کے ساتھ ساتھ اساتذہ بھی پارٹ ٹائم ٹیچنگ الاؤنس کی مد میں بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے لگے‘ شاہ خرچیوں اور بدانتظامی کے باعث ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کا مسئلہ بھی سراٹھانے گا۔ انتظامیہ کی تدریسی شعبوں کے سربراہان اور انتظامی افسران نے نئی بھرتیوں میں کمی‘ سلیکشن بورڈز کے ذریعے تقرریوں و ترقیوں تمام آفیسرز اور عملے کے آف ڈے اوور ٹائم بند کرتے‘ وزٹیننگ فیکلٹی میں کمی پارٹ ٹائم ٹیچنگ الاؤنس‘ ٹرانسپورٹ‘ پرچیز اور ترقیاتی اخراجات میں کمی کی تجاویز کو ہوا میں اڑاتے ہوئے شاہ خرچیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اسی طرح کرونا وباء کی وجہ سے بھی یونیورسٹی آمدن میں واضح کمی آئی یونیورسٹی میں کرونا کے باعث طویل تعطیلات میں ہاسٹلز اور تدریسی شعبہ جات بند ہونے کے باوجود ان کے اخراجات میں ذرہ برابر بھی کمی نہ آئی۔ زکریا یونیورسٹی میں شیڈول کے مطابق امتحانات نہ ہونے اور غلط منصوبہ بندی کے نتیجہ میں داخلوں میں ریکارڈ کمی کی وجہ سے بھی نقصان سامنے آیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں