7

جلد وہ وقت آئے گا جب یومِ دفاع پاکستان کی مرکزی تقریب سرینگر میں ہوگی،ندیم قریشی کا تقریب سے خطاب

ملتان(سٹاف رپورٹر)صوبائی پارلیمانی سیکرٹری اطلاعات و ثقافت پنجاب،ترجمان وزیراعلیٰ پنجاب، ایم پی اے اور ممبر صوبائی کشمیر کمیٹی پنجاب محمد ندیم قریشی اور چئیرمین اوورسیز پاکستانیز کمیشن ملتان مخدوم شعیب اکمل قریشی ہاشمی نے کہا ہے کہ 6 ستمبر 1965 میں بھارت نے تمام بین الاقوامی قوانین بالائے طاق رکھتے ہوئے رات کی تاریکی میں مکارانہ اور بزدالانہ حملہ کرکے یہ ثابت کر دیا کہ وہ نہ تو دوست اچھا ہے اور نہ ہی دشمن اچھا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اسے منہ کی کھانا پڑی اور ذلت و رسوائی اس کا مقدر بنی آج ایک مرتبہ پھر اس نے اسی مکاری کے ساتھ مقبوضہ کشمیر پر حملہ کر کے کشمیریوں پر جو مظالم کا سلسلہ شروع کیا ہے تو ان شاء اللہ ایک مرتبہ پھر اسکو منہ کی کھانا پڑے گی،پاکستان کی غیور عوام اپنی افواج کے شانہ بشانہ کشمیر کی آزادی کے لئے خون کے آخری قطرے اور آخری سانس تک لڑیں گے،إنشائاللّٰہ جلد وہ وقت آئے گا جب یومِ دفاع پاکستان کی مرکزی تقریب سرینگر میں ہوگی،آج نوبت یہ آگئی ہے کہ بھارت ایک میت سے بھی ڈرتا ہے اور اس لئے سید علی گیلانی کا جنازہ نہیں ہونے دیا اور مقبوضہ وادی میں کرفیو نافذ کردیا،ان خیالات کااظہار انہوں نے ینگ پاکستانیز آرگنائزیشن ملتان اور پنجاب اوورسیز پاکستانیز کمیشن ڈسٹرکٹ ملتان کے زیر اہتمام فورٹین سٹریٹ پیزا ملتان کے اشتراک سے ای لائبریری ملتان میں منعقدہ یوم دفاع پاکستان کے موقع پر منعقدہ خصوصی تقریب بعنوان”اے راہِ حق کے شہیدو” سے بحثیت مہمان خصوصی خطاب میں کیا،جس کی صدارت سابق ای ڈی او ایجوکیشن ماہر تعلیم پروفیسر ڈاکٹر حمید رضا صدیقی نے کی،جبکہ تقریب کے مہمانان اعزاز میں خاتون سماجی رہنما مسز طاہرہ نجم،ڈسٹرکٹ آفیسر سپیشل ایجوکیشن ملتان ڈویژن میاں محمد ماجد، مذہبی سکالر پروفیسر عبدالماجد وٹو،چئیرمین نارکوٹیکس کنٹرول کمیٹی ملتان رانا محمد شیراز، ماہر تعلیم پروفیسر اعظم حسین اور صدر ینگ پاکستانیز آرگنائزیشن نعیم اقبال نعیم تھے،تقریب کے میزبان سنئیر مبران ینگ پاکستانیز آرگنائزیشن ملک شاہد یوسف، حذیفہ اکبر دھریجہ، علی رضا مرزا،محمد عقیل شریف،محمد جمیل شریف اور حسن ندیم جٹ تھے،اس موقع پر خطا ب کرتے ہوئے محمد ندیم قریشی نے کہا کہ بھارت نے پاکستان پر ثقافتی یلغار کر رکھی ہے اور ہماری نئی نسل کو اپنی ثقافتی یلغار کے ذریعے بے راہ روی کی طرف مائل کر کے کمزور کر رہا ہے،ہمیں اپنے مکار و عیار دشمن سے صرف اسلحہ کے ذریعے سرحد پر نہیں بلکہ سفارتی محاذ اور جدید علوم کے ساتھ ہر محاذ پر جنگ کرنی ہے،تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مخدوم شعیب اکمل قریشی ہاشمی نے کہا کہ ہماری نئی نسل جذبہ حب الوطنی سے سرشار ہے اور دفاع وطن کیلئے اپنے فوجی جوانوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے نئی نسل اپنی تعلیم پر خصوصی توجہ دے اور اعلٰیٰ تعلیم حاصل کر کے ملکی تعمیر و ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے،پروفیسر ڈاکٹر حمید رضا صدیقی نے اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یوم دفاع پاکستان کی قومی تاریخ کا ایک درخشندہ باب ہے، قوم ”شہدائے پاکستان“ کی قربانیاں کسی صورت بھی رائیگاں نہیں جانے دے گی ہمیں اپنے شہیدوں پر فخروناز ہے پاک فوج کے جوانوں نے ہمیشہ وطن عزیز کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کے تحفظ و استحکام قیام امن اور دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے لازوال قربانیاں پیش کرکے قوم کا سر فخر سے بلند کیا۔ نعیم اقبال نعیم اور میاں محمد ماجد نے کہا کہ ہمارا نوجوان با صلاحیت اور با علم ہے اور وہ دور جدید کی ایجادات سے مستفید ہورہا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ ان ایجادات کا استعمال ملکی دفاع اور تعمیر و ترقی کے لئے کرے کیونکہ نوجوان ہی ملک کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کے حقیقی محافظ ہیں جنہوں نے آگے چل کر ملک و قوم کی باگ دوڑ سنبھالنا ہے۔ اس موقع پر سیاسی و سماجی رہنماوّں رانا محمد شیراز، پروفیسر عبدالماجد وٹو، پروفیسر محمود ڈوگر، محمد عبداللہ برانچ مینجر یو بی ایل،عبدالرحمان، چئیرمین پاکستان رائٹرز ونگ قاری محمد عبداللہ، عدنان خان اور ملک شاہد یوسف ودیگر نے بھی خطاب کیا۔اس موقع پر ہونے والے تقریری مقابلہ بعنوان ”افواجِ پاکستان ہمارا فخر” میں پرائمری سطح پر اول اوج طارق، دوم حریم فاطمہ، سوم امیمہ شہزاد،ہائی سطح پر اول ایمن بنت عمر، دوم حافظ محمد کاشف، سوم محمد ابراہیم اور چہارم اشعال فاطمہ، کالج یونیورسٹی سطح پر جلال الدین اور دوم تنزیل یوسف، انگریزی تقریری مقابلہ میں اول طوبٰی، دوم محمد داوّد افتخار، سوم ابراہیم انصاری، ملی نغمہ پرائمری میں اول مناہل یوسف، دوم مناہل فاطمہ، سوم معیز، ملی نغمہ ہائی سکولز میں اول صبا پروین، دوم صالحہ شہزاد، سوم عبداللہ یوسف، چہارم محمد شیراز، کالج یونیورسٹی سطح کے مقابلہ ملی نغمہ میں اول نبیل ظفر اور انیب اللہ، دوم سلیم، زاہد حسین، سوم مریم ظفر رہے تقریب کے آخر میں پاکستان کی سالمیت، شہدا ء کے درجات کی بلندی اور کشمیر کی آزادی کی خصوصی دعائیں کی گیئں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں