5

حضرت خواجہ نور محمد مہا روی ؒ کا عرس مبارک


صوفیائے کرام نے بلا شبہ دین اِسلام کو خطہ بر صغیر پاک و ہند میں مضبوط و مستحکم کر نے میں لا زوال کر دا ر ادا کیا اور ایسی حکومتیں قائم کیں کہ جن کی باز گشت با د شاہوں کے محلات میں بھی سنائی دیتی تھیں۔ ہمیشہ با د شاہوں نے اِن خر قہ پو ش فقیروں کی قدم بوسی کو اپنے لیے باعثِ افتخار خیال کیا اور خود چل کر ان کی خدمت میں حا ضری دینا اپنے لیے ایک اعزا ز خیال کیا۔ حضر ت خواجہ نور محمد مہاروی رحمۃ اللہ علیہ نے سلسلہ چشتیہ کی بہترین انداز میںآبیاری کی اور اس کو خصو صاََ پورے پاکستان میں پہنچایا۔ اہلِ پاکستان اور اہلِ اسلام یقینا حضر ت خواجہ نور محمد مہاروی رحمۃ اللہ علیہ کے احسان مند ہیں۔ آپ نے اپنے طرزِ زندگی ، طرزِ عمل اور اپنی بے پناہ سا دگی سے عوام الناس کے دل موہ لیے اور آپ ہی سمت ان کی نگاہیں اْٹھنے لگیں۔ حضر ت قبلہ عالم خواجہ نور محمد مہاروی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت با سعاد ت 14 رمضان المبارک ۲۴۱۱ھ بمطابق 1730ء کو مو ضع چو ٹا لہ میں ہوئی۔ یہ مو ضع مہار شریف سے تقریباََ تین کوس کی مسافت پر واقع ہے۔آپ کے والدین کی رہائش پہلے پہل اِسی مو ضع میں تھی مگر ازاں بعد وہ مہا ر شریف میں رہائش پذیر ہوگئے۔ آپ کا اسمِ گرامی آپ کے ماں باپ نے ’’ یہبل ‘‘ رکھا۔ جس کوآپ کے شیخ حضر ت خواجہ فخر الدین رحمۃ اللہ علیہ نے بدل کر نور محمد رکھ دیا۔آ پ کے والد کا اسم گرامی ہندال تھااور والدہ ماجدہ کا اسم مبارک عاقل بی بی تھاجبکہ آپ کےآباؤ اجداد کا پیشہ زراعت تھا اور ان کے پاس بڑی تعداد میں مویشی بھی تھے۔ آ پ کی پیدائش سے قبل اپ کی والدہ صا حبہ نے ایک مر تبہ خواب میں دیکھا کہ گو ایک ایسا چراغ میرے گھر میں روشن ہو گیاہے کہ جس کی روشنی آسمان سے زمین تک ہر جگہ جلوہ فگن ہے اور تمام روئے زمین کا احاطہ کئے ہوئے ہے اور یہ بھی کہ تمام گھر ایک قسم کی خو شبو سے معطر ہو گیاہے جب حضر ت عاقل بی بی کی شادی ہندال میاں سے ہوگئی اور جب وہآپ کو مو ضع چوٹالہ میں لے آئے تو اِسی جگہ کبھی کبھی ایک بزر گآیا کرتے تھے۔ جن کا نام حافظ شیخ احمد عر ف دودی رحمۃ اللہ تھا جوکہ مشہور بزرگ حضر ت سلطان محمود لنگا ہ رحۃ اللہ کے مر ید تھے۔ جب یہ بزرگ شیخ احمد رحمۃ اللہ چو ٹالہ تشریف لا تے تو حا فظ محمد مسعود مہار کی مسجد میں قیام فر تے تو کثیر تعداد میں لوگ وہیں بزر گ کے پاس زیار ت کے لیے حا ضر ہوا کرتے۔ جب بھی حضر ت عاقل بی بی ( والدہ ماجدہ حضر ت خواجہ نور محمد مہاروی رحمۃ اللہ علیہ ) آپ کے پاس زیار ت کے لیے جاتیں شیخ سر وقد کھڑے ہوکر آپ کا استقبال کر تے۔ اب یہ بات بڑی ہی عجیب سی ہے کہ کوئی کسی بزر گ کی زیا رت کے لیے جائے اور وہ بزر گ آنے والے کے استقبال کے لیے خود ہی کھڑا ہوجائے۔ یہی کچھ سو چ کر عا قل بی بی نے ایک رو ز بڑے ادب سے عر ض کیا کہ یا حضرت آپ میری اِس قدر تعظیم و تکریم کیوں کر تے ہیں جب کہ میں تو خودآپ سے دْعا کروانے حا ضر ہوتی ہوں۔ حضر ت شیخ نے ار شا د فر مایا کہ : تمہاری پیشانی میں حضر ت غو ث زماں کا نور سور ج کی طر ح چمک رہاہے۔ اس کی تعظیم کر تا ہوں۔ قبلہ عالم حضر ت خواجہ نور محمد مہاروی رحمۃ اللہ علیہ رمضان المبارک کی14تاریخ کورات کے وقت تولد ہوئے تھے۔ اس دن سے لے کر رمضان المبارک کے باقی تمام ایام میں آپ نے روزہ کے اوقات میں والدہ کا دو دھ نہیں پیا۔ آپ محض رات کے وقت مغر ب کے بعد اور فجر سے پہلے تک دو دھ پیا کر تے۔ انہی ایام میں حضر ت شیخ احمد اتفاقاََ چو ٹالہ شریف میں تشریف فرما ہوئے۔آپ کی دادی جا نآپ کی والدہ محترمہ کو لے کر ان کی خد مت میں حا ضر ہوئیں اور بتلا یا کہ یہ بچہ دن کے وقت تو بالکل بھی دودھ نہیں پیتا تھا۔ ہاں البتہ رات کو پی لیتاہے۔ حضرت شیخ نے یہ سنا تو مسکرائے اور فرمایاکہ : آپ لوگ غم نہ کریںآپ کا بچہ کوئی معمولی بچہ نہیں ہے بلکہ یہ غو ث زماں ہے۔ یہ دن کے وقت اس لیے دودھ نہیں پیتا کیونکہ رمضان المبارک میں روزوں کا احترام کر تاہے یعنی یہ روزہ رکھتاہے اوریہی غو ث کی پہچا ن ہے ‘‘۔ جب قبلہ عالم حضر ت خواجہ نور محمد مہاروی رحمۃاللہ علیہ کی عمرمبارک پا نچ برس کے لگ بھگ ہوئی توآپ کے والد محترم نے ابتدائی تعلیم کے لیے مکتب میں بھیج دیا۔آ پ نے حافظ محمد مسعود مہار رحمتہ اللہ جو کہ اپنے زمانہ کے معروف عالمِ دین تھے سے کلام پاک کی تعلیم حا صل کی اور قرآن پاک حفظ بھی کیا۔ جب قبلہ عالم حضر ت خواجہ نور محمد مہاروی رحمۃ اللہ علیہ نے قرآن پاک حفظ کر لیا تو ابآپ کے والد اور بھائیوں نے یہ چاہا کہآپ کا روبار میں ان کے ساتھ شامل ہو جائیں۔آپ کے والد اور بھائیوں نے اصرار کیا کہ آپ ہمارے سا تھ کا روبار میں شریک ہو کر کارو بار میں ہاتھ بٹائیں۔ لیکنآپ نے ان سے کہا کہ میں نے تو علم حاصل کرناہے۔آپ کے شو ق کو دیکھ کر باہم مشاور ت سے مہار شریف میں چند میل کے فا صلہ پر واقع موضع بڈھیراں میں حصولِ علم کے لیے چلے آئے۔آپ نے کچھ عر صہ مو ضع بڈھیراں میں نصاب کی چند کتابیں پڑھیں اور کچھ عر صہ گزار نے کے بعد مزید حصولِ علم کے لیے معروف عالمِ دین اْستاد شیخ احمد کھوکھر سے تعلیم بھی حاصل کی۔یہ اْستادِ محترم پاک پتن شریف کے نزدیک موضع بہلا تا میں تعلیم کے فروغ میں کو شا ں تھے۔ اس کے بعد علم کی پیاس کو بجھا نے کے لیے لاہور کار خ کیا اور جس کا مقصد صر ف حصولِ علم تھا۔آپ نے یہاں بہت ہی مشکل وقت گزارہ۔ پھر لاہور سے دہلی کے لیے رختِ سفر باند ھا اور یہاںآپ نے نواب غازی صلاح الدین کے مدر سہ غازی الدین میں داخل ہونا پسند فرما یا۔ دہلی کے مدر سہ غازی الدین میںآپ نے حا فظ میاں بر خوردار رحمۃ اللہ سے تعلیم حاصل کر نا شروع کی۔ ( میاں بر خو ر دار اچھے آدمی تھے ، صاحبِ نسبت تھے اورآپ سلسلہ چشتیہ میں داخل تھے حضر ت خواجہ قبلہ عالم نور محمد مہاروی رحمۃ اللہ علیہ کا وصال تین ذی الحجہ بمطابق 3 اگست 1791ء کو ہوا۔ اس وقت آپ کی عمر مبار ک 63 بر س تھی۔ آپ کا مزارِ اقد س بستی تاج سرور چشتیاں شریف ضلع بہا ول نگر میں ہے جوکہ مہار شریف سے تین کو س یعنی ۷ کلو میٹر پر موجود ہے۔ آپ کا ہر سال یکم ذوالحجہ سے تین ذوالحجہ تک عر س منایا جا رہا ہے۔
بشکریہ نوائے وقت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں