13

حکومت اور ایف بی آر حکام نے تاجران پرعائد تمام ٹیکسز کا خاتمہ کردیا،چیئرمین خواجہ سیلمان صدیقی

ملتان(سٹاف رپورٹر)مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے مرکزی چیئرمین خواجہ سلیمان صدیقی نے کہا ہے کہ حکومت اور ایف بی آر حکام نے پوائنٹ آف سیلز کا خاتمہ،جبری سیلز ٹیکس رجسٹریشن کا خاتمہ،ٹیکس صدارتی آرڈیننس میں تاجروں اور کمرشل بجلی بلوں پر اضافی ٹیکس کا خاتمہ،ٹرن اوور ٹیکس کی درستگی،وودھولڈنگ ٹیکس کا خاتمہ،سیلز ٹیکس کی شرح کم کرنا،آسان و سادہ ٹیکس نظام کی تشکیل پرتاجر برادری کے موقف کو تسلیم کیا جو کہ ایک خوش آئند اقدام ہے اور سرخرو ہوئے،حکومت اور ایف بی آر حکام نے وعدہ بھی کیا کہ وہ آئندہ تاجر برادری کے حقیقی نمائندوں کی مشاورت سے ہی فیصلہ کو یقینی بنائیں گے،نام و نہاد تاجر نمائندے ذاتی مفادات کی سیاست کر رہے ہیں کیونکہ حکومت و ایف بی آر کے نمائندوں کے ساتھ کامیاب مزاکرات کے بعد دھرنا سیاسی پوائنٹ سکورننگ کے سوا اور کچھ نہیں ہے 80 فی صد تاجر تنظیمیں مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں،صوبائی حکومت پنجاب نے ایک ہفتہ کے اندر پراپرٹی ٹیکس میں اضافہ واپس نہ لیا تو پنجاب اسمبلی کے سامنے دمادم مست قلندر ہو گا،ان خیالات کا اظہار انہوں نے پریس کلب میں دیگر تاجر رہنماؤں شیخ اکرم حکیم، حاجی بابر علی قریشی، شیخ جاوید اختر، خالد محمود قریشی، سید جعفر علی شاہ،جاوید اختر خان،مرزانعیم بیگ، مقبول قریشی، شہباز قریشی، شیخ شفیق، شیخ ندیم، اُسا مہ حیدر قریشی ودیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران کیا،خواجہ سلیمان صدیقی نے مزید کہا کہ مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کی قیادت کے ساتھ اسلام آباد میں ایف بی آر حکام نے اعلان کیا،مارکیٹوں کے تاجروں کی عام دکانوں پر پوائنٹ آف سیلز کا اطلاق نہیں ہوگا، چھوٹے تاجروں کی سیلز ٹیکس رجسٹریشن نہیں ہو گی،ٹیکس ترمیمی آرڈیننس میں کمرشل بجلی کے بلوں پر اضافی ٹیکس کا ھرگز اطلاق نہیں ہو گا،ٹیکس ترمیمی آرڈیننس میں تاجروں پر کسی قسم کا اضافی ٹیکس نہیں لگایا گیا،تاجروں اور ایف بی آر میں ٹیکس مسائل کے حل کیلئے قومی سطح سے کمشنرز و نچلی سطح تک کمیٹیوں کی مشاورت سے فیصلے ہوں گے،انہوں نے کہا کہ ہم ملک بھر کی تاجر تنظیموں کے شکر گزار ہیں کہ جنہوں نے مرکزی تنظیم تاجران کی قیادت کے شانہ بشانہ اپنے حقوق کے لئے حقیقی معنوں میں جدوجہد کی جو کامیاب ہوئی،لیکن دوسری طرف نام و نہاد مفاد پرست تاجر نمائندوں نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ جاری رکھا ہوا ہے اور وہ سیاسی پوائنٹ سکورننگ کر رہے ہیں ماضی گواہ ہے کہ ایسے نام و نہاد تاجر نمائندوں نے ماضی میں کیا کیا گل کھلائے اور تاجر وں کا سودا کیا انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے پہلے ہی چھوٹے تاجروں کا جینا محال کر رکھا ہے عام آدمی کی کیا حالت ہو گی ڈیڑھ سال سے کرونا وباء، لاک ڈاؤن، اوقات کار میں آئے روز تبدیلیوں کی وجہ سے کاروبار زندگی تباہ ہو کر رہ گئے تاجر برادری کو ریلیف دینے کی بجائے الٹا صوبائی حکومت نے پراپر ٹی ٹیکس میں تین سو فی صد اضافہ کردیا جو کہ چھوٹے تاجروں کے ساتھ سراسر ناانصافی و زیادتی ہے اگر صوبائی حکومت نے ایک ہفتہ کے اندر اندر پراپر ٹی ٹیکس میں اضافے کا فیصلہ واپس نہ لیا تو ملتان سمیت صوبہ بھر کی تاجر تنظیمیں پنجاب اسمبلی کے سامنے غیر معینہ مدت کے لئے دھرنا دینے پر مجبور ہو جائیں گی انہوں نے کہا کہ ہم نے جب بھی جنگ لڑی تاجر برادری اور عوام کے حقوق کی جنگ لڑی اور سرخرو ہوئے ہم چھوٹے تاجروں کے نمائندے ہیں برانڈ کے نہیں اسی لئے چھوٹے تاجروں کے حقوق کے لئے ہر سطح پر اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے ایک سوا ل کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جس پوائنٹ آف سیلز کے خاتمے، صدارتی آڑڈینینس ودیگر مسائل بارے مخالفین دھرنا دے رہے ہیں اور انہوں نے ملتان میں بھی ایف بی آر کے سامنے بھی دھرنا دیا اب اگر وہ یہ کہیں کہ چھوٹے تاجروں کا یہ ایشو نہیں ہے تو پھر تاجروں کا کون سا ایشو ہے زاتی مفادات کی سیاست کرنے والوں کو تاجر برادری نے ٹھکرا دیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں