10

حکومت عوام کو ریلیف نہیں دے سکتی تو یوٹیلیٹی سٹورز بند کردیئے جائیں،مرکزی تنظیم تاجران پاکستان

ملتان(سٹاف رپورٹر)مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے مرکزی چیئرمین خواجہ سلیمان صدیقی، جنوبی پنجاب کے صدر شیخ جاوید اختر، جنرل سیکرٹری ذیشان صدیقی، سنیئر نائب صدر حاجی ندیم قریشی، چیئر مین جاوید اختر خان، نائب صدر خواجہ رضوان صدیقی، اکمل خان بلوچ اسامہ حیدر قریشی نے کہا ہے کہ حکومت کی طرف سے ایک ماہ میں دو مرتبہ پٹرولیم مصنوعات اور یوٹیلیٹی سٹورز پر آٹا، گھی، چینی کی قیمتوں میں سو فی اضافہ کر کے ایسا نیا پاکستان بنایا،اس میں رہنے والی غریب عوام ذہنی مریض بن کر رہ گئی ہے اگر یہ سلسلہ نہ روکا گیا تو تاجر احتجاجی تحریک چلا ئیں گے،یوٹیلیٹی سٹورز کے ہزاروں ملازمین کو اربوں روپے کی تنخواہیں دی جارہی ہیں،لیکن عوام کو آٹے میں نمک کے برابر بھی ریلیف نہیں ہے،اگر حکومت عوام کو ریلیف نہیں دے سکتی تو یوٹیلیٹی سٹورز بند کردیئے جائیں،خواجہ سلیمان صدیقی نے مزید کہا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے جہاں چھوٹے تاجر متاثر ہیں تو عام آدمی کی کیا حالت ہو گی آج صورتحال یہ ہے کہ ایک طرف بجلی،گیس، ایل پی جی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے تو رہی سہی کسر یوٹیلیٹی سٹورز پر آٹا، گھی، چینی کی قیمتوں میں سو فی اضافے نے پوری کردی ہے،جبکہ سبزیوں، پھلوں کی قیمتیں بھی کم نہیں ہے ایسے حالات میں غریب قوم کہاں جائے تبدیلی کے دعویداروں نے غریب عوام سے روٹی کا نوالہ تک چھین لیا ہے جب عام آدمی کی حالت معاشی بدحالی سے بدتر ہو گی تو اس میں قوت خرید کہاں سے آئے گی،عام آدمی میں قوت خرید نہ ہونے کی وجہ سے کاروبار زندگی تباہ ہوکر رہ گئے ہیں جن کے لئے گھریلواخراجات تو ایک طرف دکانوں کے اخراجات پورے کرنا انتہائی مشکل ہو گئے ہیں بڑھتی ہوئی پانچ سو فی صد مہنگائی، یوٹیلیٹی بلز میں اضافہ سمیت ملکی معیشت کے عدم استحکام کی وجہ سے آج پوری قوم نفسیاتی مریض بن کر رہ گئی ہے لیکن اس کے باوجود لاکھوں چھوٹے تاجر ملکی معیشت کے استحکام کے لئے بھرپور کردار ادا کررہے ہیں،لیکن افسوس کہ ان کے تحفظات کو دور نہیں کیاجارہا ہے حکومت وقت کو چاہیئے کہ سب اچھا کا راگ الاپنے کے بجائے بائیس کروڑ غریب قوم کے مسائل کے حل کے لئے حقیقی معنوں میں اقدامات کو یقینی بنایا جائے نہ کہ وہ خودکشیوں اور خودسوزیوں پر مجبور ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں