9

حکومت ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کو وسیع پیمانے پر اپنانے پر مکمل یقین رکھتی ہے،وزیر خارجہ شاہ محمود

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت کو جان لینا چاہیے کہ ریاستی دہشت گردی اور مسلح افواج کے ذریعے ناجائز قبضے سے آزادی کی تحریک کو کچلا نہیں جا سکتا،اپنے ایک ٹویٹ میں وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ برہان وانی شہید کی برسی پرپوری پاکستانی قوم انہیں خراج تحسین پیش کرتی ہے،بھارت کو جان لینا چاہیئے کہ ریاستی دہشت گردی،ظلم،بربریت اور مسلح افواج کے ذریعے ناجائز قبضے سے آزادی کی تحریک کو کچلا نہیں جا سکتا بلکہ اس کے نتیجے میں برہان وانی جیسے مزید بہادر کشمیری سپوتوں کا جنم ہوگا،حکومت ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کو وسیع پیمانے پر اپنانے پر مکمل یقین رکھتی ہے،وبا کے دوران 203 ارب روپے کی ڈیجیٹل تقسیم پر کوئی انگلی نہ اٹھنا، شفافیت کا مظہر ہے،وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومت، ابھرتی ہوئی ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز اور جدید ایپلی کیشنز کو وسیع پیمانے پر اپنانے پر مکمل یقین رکھتی ہے،انفارمیشن کمیونیکیشن ٹیکنالوجی، اقتصادی و پیداواری ترقی کیلئے بھی نہایت اہم ہےحکومت عوام کے معیار زندگی اور معاشی خوشحالی کو یقینی بنانے کیلئے، عالمی نوعیت کی قابلِ رسائی، سستی، اور قابلِ بھروسہ ڈیجیٹل سروسز مہیا کرنے کیلئے کوشاں ہے،نیکسٹ جنریشن براڈ بینڈ (فور جی )ملتان کے معاہدے کے حوالے سے اسلام آباد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ دیرپا ترقی کے اہداف 2030 کو ،قومی ترقی کے ایجنڈے میں شامل کرنا، پاکستان کے سیاسی عزم کا مظہر ہے،ہماری صوبائی ترقیاتی حکمت عملی اور پاکستان کا دیرپا ترقی کا ایجنڈا، ایس ڈی جیز کے ساتھ مکمل مطابقت رکھتا ہے۔اگرچہ پاکستان دیرپا ترقی کے تمام اہداف پر پیش رفت کو ضروری سمجھتا ہے لیکن ہم نے کچھ اہداف کو ترجیحی بنیادوں پر اپنایا ہے جن میں ایس ڈی جی 2،بھوک کا خاتمہ، ایس ڈی جی 3،اچھی صحت اور تندرستی، ایس ڈی جی 4،معیاری تعلیم اور ایس ڈی جی 8،معاشی نمو، شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ انفارمیشن کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کے حوالے سے الگ سے کوئی ایس ڈی جی موجود نہیں ہے تاہم یہ ہر ایک ایس ڈی جی کے حصول میں معاونت کا باعث بنتی ہے۔قومی سطح پر، نیکسٹ جنریشن براڈ بینڈ کی صورت میں، وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ادارے یونیورسل سروسز فنڈ ایس ڈی جی کے حوالے سے گرانقدر خدمات سرانجام دے رہا ہے اور پسماندہ اور دورافتادہ علاقوں کو روابط کی فراہمی ممکن بنا رہے ہیں۔دیرپا ترقی کے دوسرے ہدف “غربت کے خاتمے” کے حوالے سے انفارمیشن کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے کسانوں کو مارکیٹ تک رسائی اور بہتر رہنمائی کے ذریعے غریت کی شرح میں کمی لائی جا سکتی ہے اور فوڈ سیکورٹی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو بروئے کار لا کر حکومتی اہداف کے حصول میں مدد لی جا سکتی ہے۔ کروونا وائرس کی وبا کے دوران حکومت پاکستان نے “احساس ایمرجنسی پروگرام کے تحت، ڈیجیٹل کیش کے ذریعے 15 ملین غریب خاندانوں میں 203 ارب روپے کی رقم تقسیم کی۔سمارٹ ڈیجیٹل سلوشنز کے بل بوتے پر اس منصوبے کو کم وقت میں اورشفافیت کے ساتھ مکمل کیا گیا۔دیرپا ترقی کے تیسرے ہدف، اچھی صحت اور تندرستی، کے حصول کیلئے بھی انفارمیشن کمیونیکیشن ٹیکنالوجی سے مدد لی جا سکتی ہے۔آئی سی ٹیز کو بروئے کار لا کر ہیلتھ ورکرز کو معلومات اور بیماریوں کے تشخیصی نظام سے منسلک کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دیرپا ترقی کے چوتھے ھدف معیاری تعلیم، پر بیش رفت انفارمیشن کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کے سبب ممکن ہوئی۔وزیر خارجہ نے کہا کہ وزارتِ تعلیم نے نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے ساتھ مل کر “ای تعلیم” پورٹل تشکیل دیا تاکہ بچوں کی تعلیم کورونا وائرس کی وبا کے باعث متاثر نہ ہو،صوبوں نے بھی اس اقدام کی پیروی کی جس طرح پنجاب میں “ای لرن” پنجاب منصوبہ شروع کیا گیا۔مزید برآں، انفارمیشن کمیونیکیشن ٹیکنالوجی، اقتصادی و پیداواری ترقی کیلئے بھی نہایت اہم ہے۔حکومت پاکستان اپنے قیمتی اثاثے یعنی نوجوان نسل کو انفارمیشن کمیونیکیشن ٹیکنالوجی سے بہرہ ور کرنے کیلئے کوشاں ہے۔وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی نے اس حوالے سے “ڈیجی سکل” کے نام سے آن لائن تربیتی پروگرام شروع کیا ہے تاکہ نوجوان نسل کو ان ڈیجیٹل سکلز کی تربیت دی جا سکے جن کی مانگ عالمی سطح پر “فری لانسنگ” کے حوالے سے زیادہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت، ابھرتی ہوئی ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز اور جدید ایپلی کیشنز کو وسیع پیمانے پر اپنانے پر مکمل یقین رکھتی ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ آج مجھے یہ سن کر بے حد مسرت ہوئی کہ آپ جس منصوبے کا آغاز کرنے جا رہے ہیں اس کا فائدہ جنوبی پنجاب کے ان سہولیات سے محروم لوگوں کو ملے گا،آپ 38 منصوبے جنوبی پنجاب میں شروع کرنے جائیں گے جس سے تعلیم، صحت اور زراعت کے شعبے میں لاکھوں افراد مستفید ہوں گے ،میں ان اقدامات پر آپ کا شکر گزار ہوں ،بظاہر یہ براڈ بینڈ سروس، جو آپ محروم اور دور افتادہ کیلئے شروع کر رہے ہوں گے وہ بظاہر دکھائی نہیں دیں گے لیکن اس سے جو تبدیلی آئیگی اس سے پورا جنوبی پنجاب مستفید ہو گا،170 کے قریب مواضعات اس سے مستفید ہوں گے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ نجی شعبے کا رول ہماری تعمیر و ترقی بہت اہم ہے ،ہم نجی شعبے کیلئے مزید سہولیات مہیا کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے ہم نہ صرف تبدیلی لا سکتے ہیں بلکہ شفافیت کے زریعے کرپشن کا خاتمہ کر سکتے ہیں ،یہ معاشرے کو آگے بڑھانے کیلئے بہت اہمیت کا حامل ہے۔کورونا وائرس کی وبا کے دوران 203 ارب روپے کی ڈیجیٹل تقسیم ہونا اور اس پر کوئی انگلی نہ اٹھنا، شفافیت کا مظہر ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم وزارتِ خارجہ میں اقتصادی سفارت کاری پر عمل پیرا ہیں کیونکہ سفارتی اہداف اس وقت حاصل نہیں ہو سکتے جب تک ہماری معیشت مستحکم نہیں ہوتی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں