13

حکومت کپاس کی بحالی و فروغ اور ریسرچ اداروں کی بہتری کیلئے اقدامات اٹھانے جا رہی ہے،جمشید اقبال چیمہ

ملتان(سٹاف رپورٹر)حکومت ملک میں کپاس کی بحالی وفروغ اور کاٹن کے ریسرچ اداروں کی بہتری کے لئے اقدامات اٹھانے جا رہی ہے،جس سے نہ صرف ملک میں کپاس کی پیداوار میں اضافہ ہوگا،بلکہ کپاس سے جڑے تمام اسٹیک ہولڈرز کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں گے،یہ بات وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے فوڈ سکیورٹی جمشید اقبال چیمہ نے سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان میں منعقدہ ملک میں کپاس کی بحالی سے متعلق کاٹن کے تمام اسٹیک ہولدڑزکے اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی،اجلاس میں سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب ثاقب علی عطیل، ڈائریکٹر سی سی آر آئی ڈاکٹر زاہد محمود، کاٹن کمشنر ڈاکٹر خالد عبد اللہ، ڈی جی ایکسٹینشن ڈاکٹر انجم علی بٹر، ڈی جی پیسٹ وارننگ اینڈ کوالٹی کنٹرول ڈاکٹر محمد اسلم، چیئرمین کاٹن ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ بورڈ بلال اسرائیل،چیف ایگزیکٹو کینزو اے جی آصف مجید، پروفیسر ڈاکٹر اقبال بندیشہ کے علاوہ کپاس کے محققین،محکمہ زراعت تحقیق وتوسیع کے دیگر آفیسران، محکمہ آبپاشی، فیڈرل سیڈ سرٹیفیکیشن، ڈائریکٹر جنرل پیسٹ وارننگ اینڈ کوالٹی کنٹرول،میپکو،پی سی پی اے، ایپٹما،پی سی جی اے، ایف پی سی سی آئی اور دیگر پرائیویٹ و پبلک سیکٹرز کے علاوہ کسانوں تنظیموں کے نمائندگان نے بھرپور شرکت کی،معاون خصوصی برائے فوڈ سکیورٹی جمشید اقبال چیمہ کا کہنا تھا کہ ہم اس سال کے آخر تک پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی کی تشکیل نو کا پراسس مکمل کر لیں گے اور ہم نے پی سی سی سی کی تنظیم نو کے لئے ایک ارب روپے کی رقم مختص کی ہے اور اس کے لئے ٹی اور آرز پہلے ہی تیار کئے جا چکے ہیں اور اس کے علاوہ حکومت آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشنز کے ذمہ3ارب سے زائد کاٹن سیس کی رقم کی ادائیگی کے لئے ایپٹما کے نمائندگان سے فوری میٹنگ کا اردہ رکھتی ہے امید ہے بہت جلد ریسرچ اداروں میں بہتری آئے گی اور کاٹن ریسرچ سسٹم کو مضبوط بنایا جائے گا۔ پی سی سی سی کاٹن سیس کی فوری ادائیگی۔ اس کے لئے معاون خصوصی برائے فوڈ سیکیورٹی جمشید اقبال چیمہ کا کہنا تھا کہ اس وقت کپاس کی موجودہ صورتحال گزشتہ برس کی نسبت کافی بہتر ہے اور ہم انشاء اللہ اس سال 9ملین سے زائد کپاس کی گانٹھوں کا حدف حاصل کر لیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سال فصل کو زیادہ نقصان نہیں ہوا۔ اگست اور ستمبر کپاس کی فصل کے لئے بہت اہم ہیں کاشتکاروں کو چاہئیے کہ وہ کپاس کے ماہرین کی مشاورت سے اپنی کپاس کی فصل کی دیکھ بھال کریں جمشید اقبال چیمہ نے بتایا کہ حالیہ بجٹ میں حکومت نے زراعت کی ترقی کے لئے 63 ارب روپے رکھے ہیں۔ ان میں سے 10 ارب روپے صرف ریسرچ کے لئے مختص کیے گئے ہیں۔ جمشید اقبال چیمہ کا کہنا تھا کہ حکومت کاٹن کی فصل کو کامیاب بنانے کے لئے ہر ممکن کوششیں جاری رکھے گی۔ ملکی تاریخ میں گنا، مکئی اور گندم کی سب سے زیادہ پیداوار ہوئی، ملکی تاریخ میں گنے کی فصل دوسری بڑی پیداوار ہے، جمشید اقبال چیمہ نے کہا کہ زرعی معیشت میں 1100ارب روپے منتقل ہوئے جس سے کسان کی آمدن میں تاریخی اضافہ ہوا۔ حکومت نے 4.5 ارب روپے اس مقصد کے لئے رکھے ہیں کہ کپاس کے نرخ اگر 5000 روپے فی من سے نیچے آنے لگیں تو ٹریڈ کارپوریشن آف پاکستان مداخلت کر کے خود خریداری کر لے۔ اس کے علاوہ کسان کو فی ایکڑ 3900 روپے کاٹن پر سبسڈی دی جا رہی ہے۔ اجلاس میں موجود میپکو کے نمائندہ کو تنبیہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر کسانوں کو بجلی کے زائد بل بھیجے گئے تو حکومت کے لئے یہ ناقابل بر داشت ہوگا اور ہم کسی صورت یہ کوتاہی برداشت نہیں کریں گے او میٹر ریڈرز کی بجائے ذ مہ داران آفیسران کی چھٹی کرائیں گے اور اس پر سختی سے عمل درآمد ہوگا۔ا س کے علاوہ حکومت ڈی اے پی فی بیگ کی قیمت4500روپے لانے کے لئے خصوصی اقدامات کرے گی۔اجلاس میں کپاس کی کل بجائی،زرعی مداخل پر حکومتی سبسڈی پروگرام،کپاس کے سرٹیفائیڈ بیج کی فراہمی برائے سال2021، نہری پانی دستیابی، کپاس کے کیڑے مکوڑوں،بیماریوں کی،صورتحال،بجلی فراہمی اور زرعی ادویات کی فراہمی کی صورتحال بارے تفصیلی غور کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں