20

حکومت کی خواہش ہے افغان میں امن قائم ہو،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج این آئی ایچ میں جس طرح انہوں نے ڈپلومیٹک کور کیلئے ویکسینیشن کا اہتمام کیا ہے وہ قابل ستائش ہے انہیں میں مبارکباد دینا چاہتا ہوں،پاکستان کی حکمت عملی واضح ہے،ہماری خواہش ہے کہ افغانستان میں امن قائم ہو،ہم نے ہر فورم پر مصالحانہ کردار ادا کیا،انہوں نے کہا کہ ترکی میں 44 کے قریب وزرائے خارجہ اور دس کے قریب سربراہان مملکت موجود تھے آپ کو یہ جان کر خوشی ہو گی کہ آج پاکستان کے مصالحانہ کردار کو سراہا جا رہا ہے،میری یورپی یونین کے وزیر خارجہ سے ملاقات ہوئی،مجھے افغان وزیر خارجہ حنیف آتمر سے ملاقات کا موقع ملا،انہوں نے کہا کہ مجھے سابق افغان وزیر خارجہ اور اعلیٰ سطحی مفاہمتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ سے ملاقات اور افغان امن عمل پر بات چیت کا موقع ملا،مجھے ان کی گفتگو میں تشویش اور فکر کا اظہار دکھائی دیا،اگر افغانستان 90 کی دہائی میں جاتا ہے تو دباؤ پاکستان پر یقیناً بڑھ سکتا ہے،افعان مہاجرین کی تعداد بڑھ سکتی ہے،میری ترکی میں تاجکستان، ازبکستان کرغزستان کویت اور قطر کے وزرائے خارجہ سے ملاقات ہوئی،سب سیاسی حل کی بات کر رہے ہیں،افغانستان سے غیر ملکی افواج کا انخلاء 60 فیصد مکمل ہو چکا ہے اور ابھی سلسلہ جاری ہے،افغان مسئلے کا حل افغانوں نے خود کرنا ہے،ہم افغانستان میں امن چاہتے ہیں کیونکہ افغانستان کے امن سے ہمارا مفاد جڑا ہوا ہے،افغانستان میں قیام امن سے ہمارا روابط کے فروغ اور معاشی استحکام کا خواب مکمل ہو سکتا ہے،مجھے افغانستان Divided House دکھائی دے رہا ہے،میں نے افغان وزیر خارجہ سے کہا کہ ہم امن کی کاوشوں میں شراکت دار ہیں،شراکت داری کیلئے اعتماد کا ہونا ضروری ہے ،انہوں نے کہا کہ اگر امریکا جا کر آپ نے ماضی کا راگ الاپنا ہے تو آپ کو اور خطے کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا،اس وقت دو سوچیں کارفرما ہیں،ایک طبقہ اسلامک امارات آف افغانستان اور دوسرا ری پبلک آف افغانستان بنانا چاہتا ہے فیصلہ افغان قیادت کو کرنا ہے،امتحان افغان قیادت کا ہے،ہماری دعا ہے کہ وہ اس امتحان میں کامیابی سے ہمکنار ہوں،ایک طبقہ اپنی ناکامیوں سے فرار کی کوشش میں مصروف ہے،امریکا کا مقصد افغانستان کو انٹرنیشنل دہشت گرد نیٹ ورک کی بیخ کنی تھا،اور وہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اپنا مقصد حاصل کر لیا ہے،امریکا اور طالبان کے درمیان اس بات کا معاہدہ ہونا کہ وہ افغان سر زمین کو کسی تیسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے یہ بھی پیشرفت ہے،انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے افغان آرمی کو ٹرینگ دی ان کا انفراسٹرکچر کھڑا کیا،اب افغان حکومت کہہ رہی ہے کہ وہ اپنا دفاع خود کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں،اگر عالمی ادارہ صحت کسی ویکسین کی منظوری دیتا ہے تو اسے تسلیم ہونا چاہیے،بات موقع محل دیکھ کر کی جاتی ہے
پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف بہت سی قربانیاں دی ہیں ہم کسی دہشت گرد تنظیم یا اس کے سربراہ کی کبھی حمایت نہیں کر سکتے،ہماری سوچ واضح ہے،پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جانی و مالی قربانیاں دیں،میں پاکستان کا ترجمان اور نمائندہ ہوں میں ہمیشہ پاکستان کی بات کروں گا،طالبان کے اپنے ترجمان ہیں،میں نے نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر کے الزامات کا جواب بطور پاکستانی دیا،بطور وزیر خارجہ میرا جواب دینا بنتا ہی نہیں ہے،جب کوئی میری قوم کی توہین کرے تو میں کیسے خاموش رہ سکتا ہوں،پوری پاکستانی قوم نے ان الزامات کو مسترد کیا،بہت سے افغانوں نے بھی ان کے بیانات کو مناسب نہیں سمجھا،میں اپنی رائے میں، مودی سرکار کی جانب سے 24 جون کے اجلاس کو غیر معمولی ڈویلپمنٹ سمجھتا ہوں،کشمیریوں نے 5 اگست 2019 کے بھارتی اقدامات کو یکسر رد کیا،محبوبہ مفتی، فاروق عبداللہ بھارت سرکار کے ساتھ اقتدار میں شریک رہے،لیکن انہوں نے بھی 5 اگست کے اقدامات کو تسلیم نہیں کیا،5 اگست 2019 کے اقدامات سے ہندوستان کی سیکولر ساکھ کو نقصان پہنچا،ان اقدامات کے بعد کشمیر کی سیاحت، معیشت تباہ ہو گئی،کرونا وبا کے دوران کشمیری دوہرے لاک ڈاؤن کو بھگت رہے ہیں،اس بیک گراؤنڈ میں یہ اجلاس بلانا قابلِ غور ہے،درپردہ اس اجلاس بلائے جانے میں یہ اعتراف پنہاں ہے کہ سب ٹھیک نہیں ہے،24 کو اصل حقائق اور صورتحال سامنے آئے گی،ابھی اس پر رائے دینا قبل از وقت ہو گا،ہم نے ہمیشہ مذاکرات کی بات کی – گفتگو کیلئے قائل کیا،جب قواعد و ضوابط کا مسئلہ درپیش ہوا تو انہیں قائل کیا،پرتشدد کارروائیوں میں کمی ہونا ضروری ہے،طالبان نے جب لچک کا مظاہرہ کیا تو ان کے وقار میں اضافہ ہوا،وزیر اعظم عمران خان نے واضح کہا کہ “No basesمیں نے بھی اسمبلی کے فلور پر وضاحت پیش کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں