17

دریائے سندھ کا کٹائو خطرناک صورت اختیار کرگیا،صدیوں پرانا قبرستان بہہ گیا

رحیم یارخان،دریائے سندھ کا خطرناک کٹاؤ تیزی سے جاری ہے،دریا کنارے پر واقع صدیوں پرانا قبرستان پانی میں بہہ گیا،حکومتی نمائندے اور ضلعی انتظامیہ خاموش،تفصیل کے مطابق دریائے سندھ کا کٹاؤ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور راستے میں آنے والی ہر چیز کو دریا تیزی سے نگل رہا ہے،پچھلے چند ماہ میں لوگ متعدد بستیاں خالی کرکے نقل مکانی کر چکے ہیں اور اب اس دریائی کٹاؤ کے راستے میں آنے والا ایک قدیمی قبرستان دریائی کٹاؤ کی زد میں آچکا ہے،قبرستان میں موجود دربار بھی دیگر قبروں سمیت دریائے سندھ میں بہہ گیا جبکہ دریائی کے کٹاؤ سے ابتک متعدد بستیاں اور ابادی زیر آب آ چکی ہیں جبکہ دریا کی بے رحم لہروں سے مردوں کو بچانے کیلئے لوگ پیاروں کی نعشیں اٹھائے قبروں کو محفوظ جگہ منتقل کرنے میں مصروف عمل ہیں ،افسوسناک صورتحال پر ضلعی انتظامیہ اور منتخب نمائندے بے خبر ہیں جبکہ وفاقی وزیر مخدوم خسرو بختیار اور انکے بھائی صوبائی وزیر خزانہ ہاشم جواں بخت کا آبائی حلقہ ہونے کے باوجود دریائی کٹاؤ کو روکنے میں تاحال امداد نہیں مل سکی اور لوگ بے یارو مددگار اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھائے رونے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں