52

دو ملاوں میں مرغی حرام����روٹی ایک لومڑی لے اُڑی���

دو ملاوں میں مرغی کے حرام ہونے کا محاورہ تو سب نے سن رکھا ہے جس کی مثالیں اکثر و بیشتر دیکھنے میں ملتی ہیں ایسا ہی ایک معاملہ ملتان کی ضلعی پولیس میں تعینات دو افسران کے حوالے سے پیش آیا ان کے درمیان اختیارات کی کھینچا تانی اور عہدے کے حصول کےلیے جاری لڑائی کا ایک افسر کے تبادلے کے بعد دونوں کے کسی طرح کے فائدہ کا باعث نہیں بن سکا۔اس طرح روٹی ایک لومڑی لے اُڑی۔ ایس ایس پی آپریشنز ملتان سید زیشان حیدر کے تبادلہ کامعاملہ اس محاورہ یا اس طرح کی ملی جلتی کسی ضرب المثل سے مماثلت نہیں رکھتا ۔ماضی قریب میں ضلع پولیس میں ایس ایس پی آپریشن تعینات ہونےوالے سید ذیشان حیدر اور ایس ایس پی انویسٹی گیشن کامران عامر خان نیازی کے درمیان اختیارات کے استعمال پر تنازعات کی خبریں زبان زد عام رہی ہیں اور کہاجاتا رہاکہ ایس ایس پی آپریشن ذیشان حیدر سے کامران عامر خان نیازی سینئر ہیں جبکہ آپریشنل اختیارات ان سے جونیئر سید ذیشان حیدر کے زیادہ ہیں، جس کے بعد دونوں افسران کے درمیان ایک دوڑ سی لگ گئی نظر آئی جسے سب نےدیکھاتھا۔موجودہ سی پی او منیر مسعود مارتھ سے پہلے محبوب رشید کے دور میں یہ سرد جنگ سب نے محسوس کی تھی۔ایس ایس پی ذیشان حیدر کے پاس کچھ عرصہ سی پی او کا چارج بھی رہا جس کے دوران کچھ متنازع معاملات بھی سامنے آئے تھے تاہم آر پی او ملتان خرم علی شاہ نے اس کا سخت نوٹس لیا تھا جس کے بعد تمام متنازع احکامات واپس ہوگئے تھے۔اب ایس ایس پی آپریشن ذیشان حیدر کو لاھور سی پی او بھجوا دیا گیا ہے اور ان کی جگہ شائستہ ندیم کے ایس ایس پی آپریشنز ملتان تعیناتی کے احکامات جاری ہوئے ہیں جبکہ ایس ایس پی انویسٹی گیشن کامران عامر خان نیازی تاحال اپنی سیٹ پر ہی تعینات ہیں امکان ظاہر کیاجارہاہے کہ ان کا بھی چند روز میں انکی اپنی پسند سے کسی اچھی سیٹ پر تبادلہ ہوجائےگا۔دونوں افسران نے اختیارات کے حصول کے لیے لڑائی اور جنگ کی باتوں کو لوگوں کی خام خیالی قرار دیا تھا اور بطور سینئر افسر ہم ان کی اس بات سے مکمل طور پر اتفاق کر تے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں