8

ریاست تمام اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنا رہی ہے،وزیر انسانی حقوق و اقلیتی امور اعجاز عالم

ملتان(سٹاف رپورٹر)پاکستان میں تمام مذاہب کے پیروکار آزاد ہیں،ریاست تمام اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنا رہی ہے،آج کا پاکستان اقلیتوں کیلئے محفوظ پاکستان ہے،ان خیالات کا اظہار وزیر انسانی حقوق و اقلیتی امور اعجاز عالم آگیسٹن نے بین المذاہب ہم آہنگی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،صوبائی وزیر اعجاز عالم آگیسٹن نے کہا کہ بین المذاہب ہم آہنگی کونسل کا کردار آج کے دور میں بہت اہم ہے،میثاق مدینہ بین المذاہب ہم آہنگی کی شاندار مثال ہے،ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں سب زیادہ انسانی حقوق پامال کئے جارہے ہیں،کشمیر جنت نظیر کو بدترین جیل میں تبدیل کر دیا گیا ہے،عالمی برادری کو بغض پاکستان سے آگے بڑھ کر سوچنا چاہئے،بھارت میں آئے دن اقلیتوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں اور روز نت نئے دلخراش واقع رونما ہوتے ہیں،انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے بہت قربانیاں دی ہیں،کسی بھی واقعہ کے بعد ریاست کا رویہ اہمیت کا حامل ہوتا ہے،صوبائی وزیر نے کہا کہ کانفرنس میں دئیے گئے بیانات کو اپنے عملی زندگی میں لاگو کرکے بین المذاہب ہم آہنگی کا اصل مقصد حاصل کیا جاسکتا ہے،کمشنر ملتان ڈویژن ڈاکٹر ارشاد احمد نے کہا کہ نسل نو کی بقا کیلئے بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے کی ضرورت ہے،اسلام امن کا مذہب ہے اور اسلام و فوبیا کے خاتمے کیلئے عالمی برادری کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا،پاکستان کے جھنڈے میں سفید رنگ بھی اقلیتوں کی نمائندگی کا مظہر ہے،اقلیتوں کی پاکستان کے تمام سرکاری اداروں بشمول پارلیمنٹ، عدلیہ اور فوج میں مکمل نمائندگی موجود ہے،بین المذاہب ہم آہنگی کونسلوں سے امن کو تقویت ملے گی،حکومت بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کیلئے ہر سطح پر اقدامات کررہی ہے،کوآرڈینیٹر جنوبی پنجاب برائے وزارت انسانی حقوق و اقلیتی امور قربان فاطمہ نے کہا کہ بین المذاہب ہم آہنگی کونسلز کے ذریعے پر امن معاشرے کو فروغ ملے گا،پی ٹی آئی حکومت نے مذہبی برداشت و اتحاد کے فروغ بارے عملی اقدامات کئے،اقوام عالم دہشت گردی کے خاتمے بارے پاکستان کے کردار سراہ رہی ہے،او آئی سی اسلاموفوبیا کے تدارک کیلئے مؤثر اقدامات تجویز کرنے کیلئے عملی اقدامات کرے اور اس کے لئے تمام ذرائع ابلاغ خصوصاً مغربی ذرائع ابلاغ کو استعمال میں لا کر مغربی معاشرے کو واضح پیغام دے کہ اسلام امن کا مذہب ہے،اس کے ساتھ مغرب کے دانشوروں کے ساتھ مکالمہ ضروری ہے تاکہ وہ اپنے معاشرے میں پھیلے بے بنیاد شکوک و شبہات دور کرنے میں معاون ثابت ہوں۔ ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ Fifth Generation War کا طبلِ جنگ بج چکا ہے اس میں وہی بچے گا جو اپنا مؤثر دفاع کرے گا،ایگزیکٹو ڈائیریکٹر ایس ڈی آئ شاہد ندیم نے کہا کہ ابتدا میں 5یونین کونسلوں میں بین المذاھب ہم آہنگی کونسلیں بنائی جائیں گی،حکومت کیساتھ ملکر امن کے فروغ بارے کام کر رہے ہیں،کانفرنس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں