8

ریکارڈ پیداوار کے باوجود فلور ملزاور منڈیوں میں گندم کی خریدو فروخت پر پابندی

رحیم یار خان،فلور ملز اور ضلع بھر کی غلہ منڈیوں میں گندم کی خرید و فروخت پر مکمل پابندی اور گندم کی پیداوار تاریخ کی بلند ترین سطح ایک کروڑ بوری تک پہنچنے کے باوجود محکمہ خوراک رحیم یار خان رواں سال گندم خریداری کا صرف65فیصد ہدف حاصل کر سکا،حیران کن طور پر کئی خریداری مراکز ہدف کا دس فیصد بھی حاصل نہیں کر سکے،تفصیلات کے مطابق محکمہ خوراک رحیم یار خان نے رواں برس 14لاکھ بوری(100کلو گرام) گندم خریداری ہدف مختص کیا تھا،لیکن حیران کن طور پر ضلع بھر میں محکمہ خوراک کی طرف سے ’’مارشل لائ‘‘ کے نفاذ کے باوجود محکمہ خوراک صرف 9 لاکھ13ہزار بوری گندم خرید سکا،فلور ملز کو گندم خریداری کی اجازت نہ ہونے کے باعث اب فلور ملز کو مہنگے داموں گندم خریدنے کے باعث آٹے کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ فلور ملز کا معاشی بحران میں مبتلا ہونے کے خدشات ظاہر کئے جا رہے ہیں،تفصیلات کے مطابق رواں سال ضلع رحیم یار خان میں مجموعی طور پر ایک کروڑ دس لاکھ بوری گندم کی ریکارڈ پیداوار ہوئی ہے لیکن یہاں سے رواں سال گندم کی سمگلنگ میں بھی غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔معلوم ہوا ہے منٹھار گندم خریداری مرکز پر پچاس ہزار بوری خریداری ہدف تھا لیکن یہاں سے صرف آٹھ ہزار 900بوری جبکہ نواز آباد میں پانچ ہزار کی جگہ صرف 982بوری گندم خریدی گئی جبکہ رحیم یارخان ، چک64/NPِاقبال آباد،رحیم آباد ،سنجر پور،بنگلہ اچھا،جمالدین والی اور صادق آباد سمیت انیس ایسے مراکز تھے جہاں گندم خریداری ہدف پورا نہ ہو سکا جبکہ لیاقت پور اور حیات لاڑ صرف دو ایسے مراکز تھے جو اپنا ہدف پورا کر سکے۔فلور ملز ایسوسی ایشن ،سیڈ ایسوسی ایشن آف پاکستان اور ضلع بھر کی انجمن آڑھتیان نے وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے اپیل کی ہے ضلع رحیم یار خان میں رواں سال ایک کروڑ دس لاکھ بوری گندم کی پیداوار ہونے اور فلور ملز کو گندم خریداری کی اجازت نہ ہونے کے باوجود محکمہ خوراک کا گندم خریداری ہدف پورا نہ کرنے کے حقائق سامنے لائے جائیں تاکہ آئندہ برسوں کے دوران اسطرح کے مسائل پیدا نہ ہو سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں