10

زرعی مداخل کی کمی اور بہتر کپاس نفع بخش فصل بن چکی ہے،سیکرٹری زراعت کا اجتماع سے خطاب

ملتان(سٹاف رپورٹر)سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب ثاقب علی عطیل نے کہا ہے کہ کاشتکاروں کی خوشحالی کا دور شروع ہو چکا ہے،کیونکہ زرعی مداخل کی کمی اور بہتر کپاس نفع بخش فصل بن چکی ہے،کپاس سے ہمارا تعلق صدیوں پرانا ہے یہ حساس فصل ہے اور دیگر فصلوں کی نسبت زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے،پرانے وقتوں میں بھی کپاس کے ضرر رساں کیڑوں کو کیمیائی زہروں کے بجائے بائیوپیسٹی سائیڈز سے کنٹرول کیا جاتا تھا،محکمہ زراعت نے امسال اسی طریقے پر عمل کرتے ہوئے کاشتکاروں کی رہنمائی کی ہے اور اس فصل کو منافع بخش بنایا ہے اور مزاحم کیڑوں کو مربوط انداز سے تدارک کیا گیا ہے،ان خیلات کا اظہار انہوں نے مخدوم رشید میں کاشتکاروں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا،انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ سال کھادوں کے استعمال میں کمی کرکے متبادل طریقوں سے بھی کپاس کی کاشت کرائی جائے گی،تاکہ زرعی مداخل پر اٹھنے والے اخراجات مزید کم کئے جا سکیں پر اور بہتر پیداوار بھی حاصل کی جاسکے۔ سیکرٹری زراعت نے کہا کہ فیلڈ فارمیشنز کو اس مرحلہ پر کپاس کے نگہداشتی امور میں مزید تیزی لانے بارے ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن کاشتکاروں نے محکمہ زراعت کی ایڈوائزری پر عمل کیا ان کی فصل بہتر حالت میں کھڑی ہے اور ابتدائی پیداوار بھی تسلی بخش ہے،انہوں نے مزید کہا کہ کاشتکار دھان کے مڈھوں سمیت دیگر فصلوں کی باقیات کو آگ لگانے سے گریز کریں،کیونکہ اس سے سموگ پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ زمین میں موجود نامیاتی مادہ کی مقدار کم ہوتی ہے او دوست کیڑے بھی مرجاتے ہیں،اس موقع پر کپاس کے کاشتکار جام اللہ وسایا نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ آئی پی ایم کے تحت کپاس کے نمائشی پلاٹ میں زرعی زہروں کا بہت کم استعمال ہوا ہے،گزشتہ سالوں میں اوسطاً 16 سے 17 کیمیائی زہروں کے سپرے ایک ایکڑ میں ہوتے تھے لیکن امسال بائیو پیسٹی سائیڈز کے 3 سپرے کے ساتھ اوسطاً 2 سے 3 زرعی زہروں کے سپرے ہوئے ہیں،اس سے لاگت کاشت میں خاطر خوا ہ کمی ہوئی ہے اور ابتدائی چنائیوں میں 18 من فی ایکڑ سے زائد پیداوار آچکی ہے جبکہ باقی فصل سے بھی 10 من فی ایکڑ پیداوار حاصل ہونے کی توقع ہے جبکہ گزشتہ سال کل پیداوار 16 من فی ایکڑ حاصل ہوئی تھی۔ اس موقع پر ڈائریکٹر زراعت توسیع سمیت دیگر ماہرین نے اپنے خطاب میں بتایا کہ کپاس پر سفید مکھی اور گلابی سنڈی کا حملہ بڑھ رہا ہے لہٰذا کاشتکار سفید مکھی کے کنٹرول کیلئے سپائروٹیٹرامڈ 125 ملی لٹرکو پلانٹ ایکسٹریکٹس کے ساتھ ملا کرسپرے کریں۔ گلابی سنڈی کے تدارک کیلئے گیماسائی ہیلوتھرین 100 ملی لٹر کے ساتھ 2 کلو تمباکو، 1 کلو نیم کے پتوں کا مکسچر سپرے کریں۔ کپاس کے کالے پن کے خاتمہ کیلئے آدھا لٹر بلیچ 100 لٹر پانی میں ڈال کر سپرے کرنے بارے کاشتکاروں کی رہنمائی کی گئی۔ بعد ازاں سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب ثاقب علی عطیل نے جہانیاں میں واقع پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال بندیشہ کے فارم پر کپاس کے تحقیقاتی ٹرائلز کا معائنہ بھی کیا،تجرباتی ٹرائلز کے تحت کاشتہ کاٹن لیف کرل وائرس کے خلاف قوت مزاحمت اور سفید مکھی کیخلاف قوت مدافعت رکھنے والی اقسام میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا اور ڈاکٹر اقبال کے ریسرچ ورک کو سراہتے ہوئے دریافت کیا کہ ان اقسام کا بیج کتنے عرصہ تک عام کاشتکاروں کو بوائی کیلئے دستیاب ہوگا۔ کیونکہ ایسی اقسام کی دریافت ہی وقت کی ضرورت ہے، اس موقع پر سیکرٹری زراعت کو بتایا گیا کہ حکومت پنجاب کی طرف سے نئی اقسام کی فاسٹ ٹریک پر منظوری کے بعد ان اقسام کا بیج مارکیٹ میں عام کاشت کیلئے دستیاب ہوگا،اس موقع پر سیکرٹری زراعت کو مختلف ریسرچ ٹرائلز کا بھی معائنہ کرایا گیا اور ان کی افادیت پر بریف کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری زراعت نے کہا کہ جب تک کپاس کی تحقیقی سرگرمیوں اور نتائج سے کاشتکاروں کو فائدہ نہیں پہنچے گا اس وقت تک تحقیقی عمل بے سود ہے۔ کپاس کی بہتر مینجمنٹ اور اچھے تنائج کے حصول کیلئے امسال کاٹن کیلنڈر پر عملدرآمد کرایا گیا جس کے حوصلہ افزا نتائج موصول ہورہے ہیں، کلائمیٹ سمارٹ اقسام کی دریافت وقت کی ضرورت ہے،کپاس کی ایسی اقسام جو موسمی تغیرات کا مقابلہ کرسکیں نیز کیڑوں و بیماریوں کیخلاف قوت مدافعت اور پانی کی کمی کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں ان پر تحقیق کے عمل کو مزید تیز کیا جائے تاکہ جلد ازاجلد ایسی اقسام عام کاشت کیلئے کاشتکاروں کودستیاب ہوں۔ اس موقع پر ڈاکٹر محمد اقبال بندیشہ، آصف مجید، عبدالصمد سمیت دیگر بھی موجود تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں