15

زکریا یونیورسٹی،ایم فل اردو کمپری ہینسیو امتحانات میں 34 میں سے 16 طلبا کو جان بوجھ کر فیل کر دیا گیا

ملتان(سٹاف رپورٹر)بہاوالدین زکریا یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے ایم فل سیشن 2020،2022کے کمپری ہنسیو کے امتحانات میں 34 کی ٹوٹل کلاس میں سے 16 طلبہ کو جان بوجھ فیل کردیا گیا،تفصیل کے مطابق زکریا یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے حکام پر طلبا نے الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے جان بوجھ کر فیل کردیاہے،کیونکہ کمپری ہنسیو امتحانات کیلئے باہر کی کسی یونیورسٹی یا تعلیمی ادارہ سے بیرونی ممتحن آتا ہے جو طلبہ سے لیا جانے والا متحان کو چیک بھی کرتا ہے اور رزلٹ بنا کر ڈیپارٹمنٹ کو دیتا ہے،اردو ڈیپارٹمنٹ نے کمپری ہنسیو کے امتحان کے غازی یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر سہیل عباس امتحانات کیلئے بُلایا تو ڈاکٹر سہیل عباس 16 جولائی کو ہی دل کی تکلیف کے باعث فیصل آباد کے ایک نجی ہسپتال میں زیر علاج تھے اور 19 جولائی کو ڈاکٹر سہیل عباس کو دل کا سٹنٹ ڈالا گیا،جس کی وجہ سے ڈاکٹر سہیل عباس ایم فل کے طلبہ کا امتحان لینے کیلئے نہیں آئے تو اردو ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین نے خود رزلٹ بنا لیا اور 16 طلبہ کو فیل کردیا جب کہ وہ ایسا کرنا کا اختیار نہیں رکھتے.نا ہی وہ کمپری ہنسیوا امتحان لینے کا اختیار رکھتے ہیں،کاغذوں میں ڈاکٹر سہیل عباس کو شعبہ اردو میں حاضر قرار دے دیا گیا کہ اُنہوں نے کمپری ہینسیو کا امتحان لیا اور رزلٹ بنا کردیا،جب طلبہ نے احتجاج کیا تو سب ڈرا دھمکا کر چُپ کروا دیا گیا،اسی طرح دوسری طرف ایم اردو کی کلاس میں 45 کی تعداد میں 28 طلبہ کو کمپری ہینسیو کے امتحان میں فیل کردیا جو کہ ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان پیدا ہوگیا،ان طلبہ نے جب ری چیکنگ کی درخواست چیئرمین کو دی تو درخواست دینے پر طلبہ کو ڈرایا گیا اور درخواست وصول نہیں کی گئی اس بارے میں ایم فل پروگرام کے کوارڈینٹر ڈاکٹر خاور نواز ش کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر سہیل نے پرچہ بنا کر ای میل کردیا تھا جس کو یونیورسٹی کے کنٹرولر امتحانات کی مشاورت کے بعد لیا گیا ، اور سیل کرکے بھجوادئے گئے ، نتائج ڈاکٹر سہیل نے ہی مرتب کئے ہیں ، یونیورسٹی قانون کے مطابق کمپری ہنسو امتحانات کی ری چیکنگ کی گنجائش نہیں ہے تاہم کچھ صورتوں میں ری کاونٹنگ کی اجازت موجود ہے، اگر کسی طالب علم کو شکایت ہے تو وہ پہلے شعبہ کے کنٹرولر امتحانات اور پھر چیئرمین سے رابطہ کرتا ہے جس کے بعد دوسرے فورم آتے ہیں تاحال کسی بھی طالب علم نے اس بارے میں تحریری درخواست جمع نہیں کرائی اگر کوئی درخوست آئی تو اس پر قانون کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں