8

زیر حراست ملزم پر تشدد، ہلاکت کی سی سی ٹی وی ویڈیوتھانے سے غائب

ٹبہ سلطان پور،تھا نہ ٹبہ سلطان پورمیں دوران پولیس حراست شہری کی ہلاکت کا معاملہ ،پولیس نے تھا نہ ٹبہ سلطا ن پور اور ہسپتال میں لگے ہوئے سی سی ٹی وی کیمروں کا ڈیٹا غائب کردینے کا انکشاف سامنے آیا ہے ،مقدمہ کی تفتیش متاثرہونے کا خدشہ تھا نہ اور ہسپتال کی سی سی ٹی وی کیمروں میں شہری کی ہلاکت سے متعلق اہم فوٹیج تھیںجن کی مدد سے قصو ر وار پولیس اہلکاروں کی نشاندہی آرام کی جاسکتی تھی ذرائع تھا نہ ٹبہ سلطان پورمیں چند روز قبل خیر پور ٹامیوالی کے رہائشی ریاض احمد بلوچ جو اپنے گھر کا واحد کفیل تھا کوچوری کے الزام میں پولیس نے دوران گشت حراست میں لیکر بدترین تشدد کا نشانہ بنا کر ہلاک کردیا تھا،جس کا نوٹس ایڈیشنل آئی جی جنوبی پنجاب نے لے رکھا ہے اس دوران تھانہ ٹبہ سلطان پور کے ایس ایچ او عدنان جمیل ٹیپو سمیت تین تھانوںکے ایس ایچ اوز اور تفتیشی محمد یونس کے خلاف اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کر نے اورنااہلی برتنے کا مقدمہ بھی زیر تفتیش ہے ذرائع کے مطابق مقدمہ میں نامزد سابق ایس ایچ اوز نے اپنے تحفظ کے لئے تھا نہ ٹبہ سلطان پور اور ہسپتال سے ملی بھگت کرتے ہوئے خفیہ لگائے گئے سی سی ٹی وی کیمروں کا ڈیٹا بھی غائب کردیا ہے سی سی ٹی و ی کیمروں میں جس وقت شہری ریاض احمد بلوچ کو حراست لینے سے لیکر تفتیش کے دوران ہلاکت تک کا تمام ڈیٹا موجودتھا جس میں پولیس اہلکاروں کے قصوروار ہونے کے ثبوت موجود تھے سی سی ٹی وی کیمروں کا ڈیٹا غائب ہو نے کے باعث مقدمہ کی تفتیش بھی شدید متاثر ہو نے کا خدشہ ہے پولیس حراست میں ہلاک ہونے والے 30سالہ نوجوان ریاض احمد بلوچ کے کریمنل ریکارڈ کی بھی کوئی تصدیق نہ ہوسکی ہے علاقہ کی مختلف تنظیموں کے افراد نے شدید احتجاج کرتے ہوئے آئی جی پنجاب ،ایڈیشنل آئی جی جنو بی پنجاب ، وزیراعلیٰ پنجاب اور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سے فوری طور پر نوٹس لیتے ہوئے ہسپتال اور تھا نہ ٹبہ سلطان پور کے سی سی ٹی وی کیمروں کا ریکارڈ غائب کر نے میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کر نے کا مطا لبہ کیا ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں