19

سابق ڈپٹی کمشنر کے بیٹے کو تاوان کیلئےاغوا کرنے کا مقدمہ،سماعت 10 اگست تک ملتوی

ملتان،سابق ڈپٹی کمشنر کے بیٹے کو تاوان کیلئے اغوا کرنے کا مقدمہ،حکمران جماعت کے رکن صوبائی اسمبلی ظہیر الدین علیزئی سمیت 13 ملزمان کے خلاف مقدمہ کی سماعت کی گئی،انسداد دہشت گردی کی عدالت نے کیس کی سماعت 10 اگست تک ملتوی کردی ہے،سابق ڈپٹی کمشنر محمد منیر بدر اعوان نے 14 اکتوبر 2015 کو تھانہ چہلیک میں مقدمہ درج کرایا تھا،مدعی مقدمہ کا کہنا تھا کہ ملزم مدثر چوہدری نے کاروباری تعلقات استوار ہونے پر ایک کروڑ تین لاکھ روپے ہتھیا لیے تھے،کارروائی کرنے کی درخواست پر ملزم نے رنجش بنالی،بیٹے کو ایک خاتون کے اغوا کے مقدمہ نمبر 55 زیر دفعہ 365 میں گجرانوالہ میں اغوا کرلیا گیا تھا،مدعی کا کہنا تھا کہ بیٹے کی رہائی کیلئے ڈیڑھ کروڑ روپے طلب کئے گئے،جس پر سائل نے ایک کروڑ 20 لاکھ روپے ادا کئے،یہ رقم حکمران جماعت کے رکن صوبائی اسمبلی ظہیرالدین علی زئی کے اکاؤنٹ سے منتقل ہوئی،ملزمان نے واقعے کو لین دین کا معاملہ قرار دینے کیلئے کھیل رچایا تھا،بعد ازاں ایم پی اے نے 30 لاکھ روپے واپس بھی کئے،مقدمہ میں محمد مبشر ،رانا جہانزیب راجپوت عرف ٹیپو، احتشام علی، محمد یسین ناگرہ شامل تھے،سابق ایس ایچ او میاں خلیل احمد، سابق سب انسپکٹرز عابد رسول اور اصغر علی ودیگر بھی نامزد تھے،ایم پی اے ظہیر الدین علیزئی نے حاضری سے استثنیٰ لے رکھی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں