5

ساہوکا کفالت سنٹر پر کٹوتیوں کا سلسلہ جاری،خواتین کی تذلیل

ساہوکا(نمائندہ پی این این اردو)احساس کفالت پروگرام کی امدادی رقوم میں کٹوتی کرکے ادائیگی کی جانے لگی،سنٹر پرمستحقین کی تذلیل کا سلسلہ بھی جاری،تفصیلات کے مطابق موضع ساہوکا،مگھرانہ کی رہائشی خورشید بی بی،نیکو مائی،فیضاں بی بی کامرس کالج چونگی نمبر 5 میں قائم احساس کفالت سنٹر پر امدادی رقم وصول کرنے آئی تو وہاں پر موجود ریٹیلرزاور پولیس کے فرنٹ مین نے اس سے ایک ہزار روپے کٹوتی کر کے گیارہ ہزار روپے اس کے ہاتھ میں پکڑا دیئے متاثرہ عورت نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملازمین نے کرپشن کی انتہا کر دی ہے غریب و مجبور اور بیوہ عورتوں کودی جانے والی امدادی رقوم میں غبن جاری ہے ریٹیلروں اورپولیس ملازمین نے اپنے فرنٹ مین رکھے ہوئے ہیں جو دوردراز سے آئی غربت کی ستائی خواتین کو رش،انتطار اور چکروں سے بچنے کے لیے فوری رقم دلوانے کا جھانسہ دے کرفی کس خاتون 1000 سے 2000 روپے تک وصول کر رہے ہیں یہ فرنٹ مین معاملات طے ہونے پر مذکورہ خواتین کوبغیر کسی انتظار و قطارکے شناختی کارڈ کاونٹر پر دے کرفوری رقم دلوا دیتے ہیں مک مکا نہ کرنے والی خواتین کی مختلف حیلے بہانوں سے تذلیل کی جاتی ہے۔ فنگر پرنٹ میچ نہیں کر رہے یا رقم نہیں آئی جیسے اعتراضات لگا کر خواتین کو سخت گرمی میں سنٹر پر چکر لگوائے جاتے ہیں تا کہ وہ ریٹیلرز کے فرنٹ مین سے رابطے پر مجبور ہوجائیں۔ دو تین چکر لگانے کے بعد جیسے ہی انتہائی غریب و بیوہ عورتیں مجبور ہو کر ریٹیلرز کے فرنٹ مینوں سے رابطہ کر لیتی ہیں تو تمام اعتراضات ختم کر کے انہیں فوری طور پر دس یا گیارہ ہزار روپے ادا کر دئیے جاتے ہیں،مقامی شہریوں ملک فیاض،ملک ارشاد ،رانا طیب،اسامہ علی،منیر احمد ڈاہر،محمد یار بھٹی و دیگر نے چیئرپرسن احساس کفالت پروگرام،ڈی جی،ڈائریکٹر ملتان،تحصیل و ضلعی انتظامیہ سے اس رواں ظلم پر سخت ترین کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جبکہ ریٹیلر عبدالرزاق کے مطابق سنٹر پر تمام خواتین کو 12 ہزار کی ادائیگی کی جاتی ہے اگر کوئی پرائیویٹ طور پر خواتین سے وصولی کر رہا ہے تو اس کے ہم ذمہ دار نہیں ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں