4

سفیر کی صاحبزادی کا مبینہ اغوا، افغانستان نے تمام سفارتی عملہ واپس بلا لیا

اسلام آباد(بیورو رپورٹ)افغان صدر اشرف غنی نے سکیورٹی خدشات کا بہانہ بناتے ہوئے سفیر نجیب اللہ علی خیل کی صاحبزادی کے مبینہ اغوا کے بعد پاکستان میں موجود تمام سفارتی عملے کو واپس بلا لیا ہے،دوسری جانب وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ افغان سفیر کی بیٹی کے کیس کو حتمی انجام تک پہنچا کر ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائیگا، کیس پر تیزی سے تفتیش ہو رہی ہے اور توقع ہے کہ ایک دو روز میں تفتیش کا عمل مکمل ہو جائیگا،انہوں نے کہا ہے کہ بھارت کے سوشل میڈیا نے اس کیس کو بہت اچھالا اور پرانی تصاویر کو 16 جولائی کے اس واقعہ کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی گئی جو سراسر زیادتی ہے،بھارت پاکستان مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہے،اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں کہا کہ افغان سفیر کی بیٹی اپنے گھر سے پیدل مارکیٹ گئی، وہاں سے ٹیکسی پر کھڈا مارکیٹ پہنچی اور پھر ایک اور ٹیکسی کے ذریعے راولپنڈی کے ایک شاپنگ مال کے باہر پہنچی جس کی فوٹیج ہمارے پاس موجود ہے،وزیر داخلہ نے کہا کہ افغان سفیر کی بیٹی راولپنڈی سے دامن کوہ پہنچیں جس کے بارے میں تفتیش جاری ہے کہ وہ وہاں کیسے پہنچیں؟ اس حوالے سے ہمیں تشویش ہے،وزیر داخلہ نے کہا کہ رات دو بجے افغان سفیر کی بیٹی کی جانب سے تحریری درخواست موصول ہونے کے بعد ملزمان کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 365، 354، 506اور 34 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے،شیخ رشید احمد نے کہا کہ خطے کے حالات کی وجہ سے ریجن میں ہماری اہمیت بڑھ چکی ہے اور وزیر اعظم عمران خان کی خارجہ پالیسی کے موقف کی حمایت کی جا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے خلاف پراپیگنڈہ کے کسی موقع کو بھی بھارت ہاتھ سے نہیں جانے دیتا،ان کا کہنا تھا کہ عالمی میڈیا کے حوالہ سے کہا کہ پولیس افغان سفیر کی بیٹی کی رپورٹ پر تفتیش کر رہی ہے ان کا میڈیکل کرایا جا چکا ہے ،تحقیقات کا عمل جاری ہے اور اس حوالہ سے عالمی میڈیا کو بھی آگاہ کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں