20

سوا 5 کروڑ آبادی کیلئے صرف206 ڈائیلسز مشینیں،لاکھوں گردوں کے مریضوں کی زندگیاں داؤں پر

ملتان،جنوبی پنجاب کی سوا 5کروڑ آبادی کیلئے ڈائیلسز کی صرف 206 مشینیں ناکافی ہیں،جس کی وجہ سے لاکھوں مریضوں کو مہینوں کا وقت دیا جانے لگا،جبکہ ان کی زندگیاں داؤ پر لگ گئی ہیں،تفصیلات کے مطابق گردوں کے مریضوں میں اضافے کے باعث حکومتی مشینری کم پڑ گئی،سرکاری ہسپتالوں میں ڈائیلسز کے مریضوں کو مہینوں کا وقت دیا جانے لگا ہے جس کے باعث ان کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے اور بروقت ڈائیلسز کی سہولیات نہ ملنے کی وجہ سے مریضوں کی زندگیاں داؤ پر لگ رہی ہیں،پنجاب کے ڈسٹرکٹ اور تحصیل ہسپتالوں میں مشینیں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتیں،جس کے باعث دیگر شہروں کے مریضوں کا لوڈ بھی نشتر ہسپتال،چلڈرن کمپلیکس کی مشینوں پر منتقل ہو رہا ہے ۔ نشتر ہسپتال میں سب سے زیادہ 40 مشینیں ہیں سول ہسپتال میں2 ،شجاعباد،جلالپور کے ہسپتالوں میں بھی دو دو ڈائلسز کی مشینیں ہیں، مشینوں کی کی تعداد کم ہونے اور مریضوں کا لوڈ زیادہ ہونے کی وجہ سے ہیپاٹائٹس سے پاک مریضوں کو مبینہ طور پر ہیپاٹائٹس بی سی کے مریضوں کی مشینوں پر ڈال دیا جاتا ہے ،جس کی وجہ سے ڈائلسز کے اکثر مریضوں میں ہیپاٹائٹس بی اور سی تیزی سے پھیل رہا ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں مشینوں کی تعداد انتہائی کم ہونے کی وجہ سے مریضوں کو ڈائلسز کرانے کیلئے نجی ہسپتالوں کا سہارا لینا پڑتا ہے۔نجی ہسپتالوں میں ایک ڈائلسز کے 5 ہزار روپے تک لیے جاتے ہیں اور ہفتہ میں 3دفعہ گردے واش کرانے پڑتے ہیں جو کہ غریب مریض کی پہنچ سے کوسوں دور ہیں۔ملتان کے کڈنی سنٹر میں ڈائیلسز مشینوں کی کمی کے باعث نئے مریضوں کا داخلہ ہی بند کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے گردوں کے امراض میں مبتلا مریضوں کی بڑی تعداد مختلف ہسپتالوں میں خوار ہورہی ہے۔پرائیویٹ سیکٹر میں انڈس کو دیا جانیوالا کڈنی سنٹر ملتان میں گردوں کی پیوندکاری(ٹرانسپلانٹ) کرنے کے اعلان کے ایک ماہ بعد بھی ابھی تک کسی مریض کے گردے کا ٹرانسپلانٹ شروع نہیں کیا جا سکا ملتان کے کڈنی سنٹر میں ہی35 ڈائیلسز مشینوں پر روازنہ ایک سو پانچ ڈائیلسز کیے جاتے ہیں لیکن موجودہ صورتحال میں مریضوں کا رش بڑھنے پر ہسپتال انتظامیہ نے نئے مریضوں کے کارڈ بنانا ہی بند کر دئیے ہیں جبکہ پہلے سے زیر علاج مریضوں کو بھی ہفتے میں دو کی بجائے صرف ایک ڈائیلسز مفت کرانے کی سہولت دی جارہی ہے۔ غریب مریضوں کے لواحقین کیلئے شدید مہنگائی کے دور میں نجی ہسپتالوں سے چار یا پانچ ہزار روپے کے حساب سے ڈائیلسز کرانا جیب پر بوجھ بن گیا ہے۔کڈنی سنٹر کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مریضوں کے رش کی مناسبت سے ڈائیلسز مشینیں انتہائی کم ہیں اور نئی مشینوں کے حصول کیلئے کاوشیں کر رہے ہیں جن کے ملتے ہی ہسپتال کے مسائل کافی حدتک حل ہو جائیں گے۔کڈنی سنٹر میں ڈاکٹروں اور دیگر سٹاف کی بھی کمی ہے جس کی وجہ سے مختلف آپریشن کیلئے مریضوں کو چھے ماہ سے دوسال تک کا ٹائم دیا جانے لگا ہے۔نشتر ہسپتال کی 10 ڈائیلسز مشینیں خراب ہوچکی ہیں نشتر ہسپتال ملتان میں گردے کے مریضوں کے ڈائیلسز کیلئے نصب مشینیں خراب ہونے سے مرض میں مبتلا مریضوں کو بروقت علاج نہ ہونے کے باعث شدید اذیت کا سامنا ہے۔ نشتر ہسپتال انتظامیہ غریب اور مستحق مریضوں کو علاج کے لئے پرائیویٹ ہسپتالوں میں ریفر کر رہے ہیں جس سے ان کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں