6

سیاسی رنجش پر مسلح افراد کا حملہ،رکشا ڈرائیور کے دانت توڑ دیئے

لودھراں،سیاسی رنجش پر مسلح افراد کا حملہ رکشہ ڈرائیور کے دانت توڑ دیئے،عورتوں، بچوں، بزرگوں پر تشدد ضلعی صدر ن لیگ پر ملزمان کی پشت پناہی کا الزام۔ تفصیل کے مطابق یونین کونسل راجہ پور کے رہائشی محمد شہباز نے اپنے خاندان کے لوگوں کے ہمراہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام لگایا کہ جنرل الیکشن میں ن لیگ کے ضلعی صدر شیخ افتخار الدین تاری ہمارے گھر ن لیگ کے امیدوار کیلئے ووٹ لینے آئے تو ہم نے انکار کر دیا جس کی رنجش پر 28 فروری کو جمشید علی نامی جوکہ منشیات فروش ہے نے 13 افراد کے ساتھ میرے بڑے بھائی دانش کے گھر پرحملہ آور ہو کر اس کے دماغ کی ہڈی توڑ دی بچوں عورتوں بوڑھوں اورجوانوں کو مارا اور دانش کی بیوی کی بالیاں بھی اٹھا کر لے گئے جس کی ویڈیو بھی موجود ہے ہمارا مقدمہ نمبر 167/21 تھانہ صدر لودھراں میں درج ہوا تفتیشی ظفر بوہڑ نے ملزمان سے مبینہ رشوت اور شیخ افتخارالدین تاری کے دباو سے ہمارے مقدمہ کی کئی دفعات ختم کرکے ہمارے خلاف 22 دن بعد جھوٹا کراس ورشن درج کردیا جس پر ہم نے میڈیکل کو چیلنج کیا تو ہم نے تفتیش تبدیل کروائی جوکہ انسپکٹر رانا فاروق کرائم برانچ نے انکوائری میں کراس ورشن کو جھوٹا قرار دیا اور ایف آئی آر کا دفعہ 354کو بحال کیا اور اخراج رپورٹ دینے کا وعدہ کیا جب اخراج رپورٹ لینے گئے تو انسپکٹر رانا فاروق نے کہا کہ شیخ افتخارالدین تاری نے ملتان کے اعلیٰ پولیس افسر کا فون کروا دیا ہے اب میں کچھ نہیں کر سکتا شہباز نے مزید الزام لگایا کہ ملزمان نے پہلے بھی مجھے اغوا کرنے کی کوشش کی تھی جس کی ایف آئی آر بہاول پور تھانے میں درج ہے۔ 10جولائی2021ء کوجمشید علی نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مجھ پر اس وقت حملہ آور ہوا جب میں اپنے سسرال سے نکل رہا تھا مجھے گھسیٹ کر سڑک پر لے آئے اور مجھے شدید تشدد کانشانہ بناکر میرے دانت بھی توڑ دیئے ضعیف العمر میری دادی مجھے چھڑانے کیلئے آئی تو اس پر بھی بہیمانہ تشدد کیا ۔ متاثرہ خاندان کے ہمراہ محمد شہباز نے وزیر اعظم عمران خان وزیر اعلی عثمان بزدار اور آئی جی پنجاب آر پی او ملتان اور ڈی پی او لودھراں سے اپیل کی ہے کہ ہمیں شیخ افتخار الدین تاری اور اس کے ساتھیوں سے بچائیں اور انصاف فراہم کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں