16

سیکرٹری زراعت ثاقب علی عطیل کا مظفر گڑھ اور روہیلانوالی میں کپاس کے نمائشی پلاٹس کا معائنہ

ملتان(سٹاف رپورٹر)سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب ثاقب علی عطیل نے مظفر گڑھ اور روہیلانوالی میں کپاس کے نمائشی پلاٹوں کا معائنہ کیا،دونوں نمائشی پلاٹوں میں گلابی سنڈی کا حملہ مشاہدہ میں نہیں آیا،جبکہ سفید مکھی کا حملہ نقصان کی معاشی حد سے نیچے دیکھا گیا،کپاس کی مجموعی صورت حال تسلی بخش تھی،پہلی چنائی سے 10 من فی ایکڑ پیداوار حاصل ہوچکی ہے،اس موقع سیکرٹری زراعت ثاقب علی عطیل نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امسال کپاس کی فصل کی نگہداشت کیلئے حیاتیاتی طریقہ کی حکمت عملی بہت فائدہ مند ثابت ہورہی ہے،کاشتکاروں کی فی ایکڑ لاگت کاشت میں کمی واقع ہونے کے ساتھ ساتھ فصل پر حملہ آور کیڑوں کو بھی نقصان کی معاشی حد سے نیچے رکھا گیا ہے۔ آئی پی ایم طریقہ اپنانے سے دوست کیڑوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور فصل کسی قسم کے پیسٹ پریشر کا شکار نہیں ہوئی۔ کپاس کی فصل پر چڑیوں کے گھونسلے اس بات کی دلیل ہیں کہ آئی پی ایم ماڈل کسان اور ماحول دوست طریقہ ہے جس کا فروغ وقت کی ضرورت ہے،امسال زرعی زہروں کا بہت کم استعمال ہوا ہے،کاشتکاروں نے نقصان دہ کیڑوں کے قدرتی کنٹرول کے طریقہ کو ترجیح دی ہے،پہلی دفعہ بہت بڑے پیمانے پر کپاس کی فصل پر بائیو پیسٹی سائیڈز کا استعمال ہوا جس کے بہتر نتائج ملے ہیں اور کاشتکاروں کا حوصلہ بڑھا ہے،انہوں نے مزید کہا کہ کاشتکار 31 اگست تک کپاس کی فصل میں کھادوں کا استعمال مکمل کرلیں،اس وقت کپاس کی فصل بہتر حالت میں ہے اور پھل، پھول بھی گزشتہ سال کی نسبت زیادہ ہیں جبکہ پھل کا کیرا بھی بہت کم رہا ہے،سیکرٹری زراعت نے کہا کہ امسال کپاس کی بہتر پیداوار حاصل ہونے کی توقع ہے۔ کاشتکار کپاس کی صاف چنائی کے ساتھ ساتھ بہتر نگہداشت پر بھی بھرپور توجہ دیں،کیونکہ اس وقت گلابی سنڈی اور ملی بگ کا حملہ مشاہدہ میں آرہا ہے جس کا بروقت تدارک بہت ضروری ہے۔ کاشتکار ان ضرر رساں کیڑوں کے تدارک کیلئے جاری کردہ سفارشات پر عمل کریں اور کپاس کی فی ایکڑ پیداوار بڑھائیں۔ کیمیائی زہروں کے استعمال کے 6 دن کے وقفہ کے بعد پلانٹ ایکسٹریکٹس (کوڑتما 300 گرام + تمباکو 300 گرام + نیم 300 گرام + اک 300 گرام اور ہنگ 10 گرام 100 لیٹر پانی میں حل کرکے فی ایکڑ) کا سپرے کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں