16

سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب کا چک جلوہٹر ڈیرہ غازیخان میں ڈرپ سسٹم کے تحت لگائے باغات کا معائنہ

ملتان،سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب ثاقب علی عطیل نے چک جلوہڑ ڈیرہ غازی خان کے علاقہ میں میاں قاسم حسین کے زرعی فارم کا دورہ کیا، اس موقع پر ریت کے ٹیلوں پر ڈرپ سسٹم کے تحت آم، سٹرس، کھجور، ساگوان، سہانجنا، کچنار اور بیر کے باغات کا معائنہ کیا،اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈرپ سسٹم کے تحت مختلف پھلدار پودوں کا یہ باغ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ریتلی، غیر ہموار اور ریگستانی زمینوں کو بھی زیر کاشت لاکر خاطر خواہ منافع حاصل کیا جاسکتا ہے۔ حکوت پنجاب نے پانی کی بچت کے مختلف منصوبے متعارف کرائے ہیں جن پر خاطر خواہ سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ ڈرپ سسٹم سے پانی، کھاد سمیت دیگر زرعی مداخل کے کم استعمال سے لاگت کاشت میں کمی کے ساتھ پیداوار میں بھی اضافہ ہوتا ہے،انہوں نے مزید کہا کہ ہائی ویلیو ایگریکلچر کو فروغ دیا جارہا ہے تاکہ دستیاب وسائل کے استعمال سے کاشتکاروں کی آمدن میں اضافہ کیا جاسکے،اس موقع پر سیکرٹری زراعت کو بتایا گیا کہ ڈرپ سسٹم کے تحت الٹرا ہائی ڈینسٹی ایک ایکڑ میں آم کے 1300 پودے لگائے گئے ہیں جن کی بڑھوتری ابھی تک بہتر ہے جس پر سیکرٹری زراعت نے زرعی ماہرین سے کہا کہ اس جدید ٹیکنالوجی کی سٹڈی کی جائے اور باقاعدہ اس کے نتائج بھی شیئر کئے جائیں۔ بعد ازاں سیکرٹری زراعت ثاقب علی عطیل نے چوٹی زیریں اور کوٹ چھٹہ میں کپاس کی فصل کی موجودہ صورت حال کاجائزہ لیا۔ کپاس کی پیسٹ سکاؤٹنگ بارے جاری سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ فیلڈ فارمیشنز کو کاشتکاروں کی رہنمائی کے عمل میں مزید تیزی لانے کی ہدایت کی،اس موقع پرانہوں نے کہا کہ کپاس کی فصل بڑھوتری کے اہم مرحلہ سے گزر رہی ہے لہٰذا تمام افسران فیلڈ میں جا کرسفید مکھی، تھرپس، چست تیلہ اور گلابی سنڈی کی کالونیاں بننے سے پہلے ان کے موثر تدارک کیلئے کاشتکاروں کی بروقت رہنمائی کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سفید مکھی متبادل پودوں پر افزائش کو بڑھا کر کپاس کی فصل پر منتقل ہوسکتی ہے۔ اس سے پہلے کہ سفید مکھی کپاس کی فصل پر حملہ کرے اس کے کالونی بننے کے عمل کو ختم کیا جائے،انہوں نے کہا کہ کاشتکار ہفتہ میں دوبار فصل کی پیسٹ سکاوٹنگ کریں اور کوشش کریں کہ ابتدائی 60 سے 70 دن کیمیائی زہر سپرے کرنے میں تاخیر کریں۔ اگر زرعی زہروں کا استعمال ناگزیر ہوجائے تو ایک ہی گروپ کی زہروں کو بار بار استعمال نہ کریں تاکہ کیڑوں میں مزاحمت ختم کی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ باشوں کے بعد فضائی نمی میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے ضرر رساں کیڑوں کا حملہ بڑھ سکتا ہے لہٰذا سفید مکھی، تھرپس، چست تیلہ اور گلابی سنڈی کو نقصان کی معاشی حد سے نیچے رکھنے کیلئے پہلا سپرے کوڑتما، تمباکو اور نیم کے عرقیات (ایکسٹریکٹس) کو ملا کر کریں۔ اس موقع پر ڈائریکٹر زراعت توسیع مہر عابد حسین، اسسٹنٹ ڈائریکٹر زراعت انفارمیشن عبدالصمد سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں