12

سیکرٹری زراعت سے پی سی جی اے کے وفد کی ملاقات،کپاس پر100روپے فی من کے حساب سے پریمیم دینے کا اعلان

ملتان،سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب ثاقب علی عطیل سے پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے عہدیداران نے ملاقات کی،پی سی جی اے کا نمی اور آلائشوں سے پاک کپاس پر 100روپے فی من کے حساب سے پریمیم دینے کا اعلان کیا گیا،سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب ثاقب علی عطیل سے پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے عہدیداران کی ایگریکلچر سیکرٹریٹ کے کمیٹی روم میں ملاقات ہوئی،ملاقات میں روابط بہتر بنانے کیلئے ایک ورکنگ گروپ تشکیل دینے کی تجویز دی گئی،تاکہ کپاس کی بحالی، پیداوارمیں اضافہ اور روئی کی بہتر کوالٹی کے حصول کیلئے لائحہ عمل طے کیا جاسکے،اس موقع پر پی سی جی اے کی جانب سے نمی اور آلائشوں سے پاک کپاس پر 100 روپے فی من کے حساب سے پریمیم دینے کا علان کیا گیا،اس موقع پر ایڈیشنل سیکرٹری ٹاسک فورس بارک اللہ خان، پی سی جی اے سے میاں فضل الٰہی سہیل محمود ہرل، شیخ محمد عاصم سعید، خواجہ محمد ارشد، آصف خلیل، اسسٹنٹ ڈائریکٹر زراعت انفارمیشن عبدالصمد سمیت دیگر افسران موجود تھے،اس موقع پر سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب ثاقب علی عطیل نے کہا کہ کپاس کی بحالی میں پی سی جی اے کا کردار اہمیت کا حامل ہے،نمی اور آلائشوں سے پاک کپاس پر پریمیم خوش آئند بات ہے جو کاشتکاروں کے حوصلہ میں اضافہ کرے گا،انہوں نے کہا کہ کپاس کے کاشتکار کو منافع ملے گا تو کپاس کی کاشت کے رقبہ میں اضافہ ہوگا،سیکرٹری زراعت نے کہا کہ گلابی سنڈی کے حملہ کی وجہ سے ہر سال تقریباً 10 لاکھ روئی کی گانٹھیں متاثر ہوتی ہیں جن سے اربوں روپے کا نقصان ہوتا ہے۔ امسال ایک خاص حکمت عملی اپنائی جارہی ہے تاکہ گلابی سنڈی کے تدارک کے ساتھ ساتھ کاشتکاروں کی فی ایکڑ لاگت کاشت میں بھی کمی لائی جاسکے۔ گلابی سنڈی کی مانیٹرنگ کیلئے فیرامون ٹریپس لگائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ جن کھیتوں میں ابھی گلابی سنڈی کا حملہ مشاہدہ میں آرہا ہے وہاں متاثرہ پھولوں کو توڑ کر زمین دبایا جارہا ہے جبکہ مکینیکل کنٹرول کیلئے فیلڈ میں پی بی روپس لگائے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سال کپاس کی فصل اچھی ہونے کی قوی امید ہے۔ آلائشوں سے پاک کپاس کی چنائی کیلئے فارمر ٹریننگ پروگرام کا شیڈول ترتیب دیا گیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امسال روئی کے معیار کو بہتر بنانے کیلئے کاٹن کنٹرول ایکٹ کو من وعن نافذکیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مختلف فصلوں کے کیڑوں کے بائیولوجیکل کنٹرول کے فروغ اور کسان دوست کیڑوں کی افزائش کیلئے صوبہ کی 11 بائیولوجیکل لیبارٹریز کو اپ گریڈ کیا گیا ہے۔ پھلوں، سبزیوں اور دیگر خوراک والی اجناس کو زرعی زہروں کے اثرسے پاک رکھنے کیلئے بہترین ماڈل متعارف کرائے جارہے ہیں۔ اس سلسلہ میں جنوبی پنجاب میں زرعی زہروں کے بقایا اثر (pesticides residual effect) اور بائیولوجیکل کنٹرول لیبارٹریز ی قائم کی جائیں گی۔ اس سے ہماری برآمدات میں اضافہ اور زیادہ زرمبادلہ کا حصول ممکن ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں