20

سیکرٹری زراعت کی زیر صدارت اجلاس،کپاس کی موجودہ صورتحال کا جائزہ، کیڑوں سے بچاؤ کے لئے مناسب ہدایات جاری

ملتان،سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب ثاقب علی عطیل کی زیر صدارت ایگریکلچر سیکرٹریٹ کے کمیٹی روم میں کپاس کی موجودہ صورت حال اور اس پرکیڑے و بیماریوں کے حملہ کا جائزہ لینے کیلئے ایک اجلاس منعقد ہوا،اجلاس میں ایڈیشنل سیکرٹریز بارک اللہ خان، سید نوید عالم، ڈائریکٹر کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان ڈاکٹر صغیر احمد، پروفیسر ڈاکٹرمحمد اقبال بندیشہ، ایگریکلچر سیکرٹریٹ کے افسران، کاٹن زون سے محکمہ زراعت کے ڈائریکٹرز و ڈپٹی ڈائریکٹرز (توسیع و پیسٹ وارننگ) اسسٹنٹ ڈائریکٹر زراعت انفارمیشن عبدالصمد، پی سی پی اے سے آصف مجید و دیگر نے شرکت کی۔ اس موقع پر سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب ثاقب علی عطیل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کپاس کے ابتدائی 60 دن بڑے کامیاب رہے کیونکہ کاشتکاروں نے ہماری سفارشات پر عمل کرکے ضرر رساں کیڑوں کے خلاف زرعی زہروں کی بجائے پلانٹ ایکسٹریکٹس کے سپرے کئے۔ انہوں نے کہا کہ اگلے 45 دن ہمارے لئے بہت بڑا چیلنج ہیں جس کیلئے میرے سمیت تمام افسران صبح وشام فیلڈ میں کاشتکاروں کی رہنمائی کیلئے موجود رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سال کپاس کیلئے بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ سال آئندہ کیلئے کپاس کی کاشت کا ٹرینڈ سیٹ کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت کپاس کی فصل پر چست تیلے کے ہاٹ سپاٹس مشاہدہ میں آرہے ہیں جنہیں صرف سمارٹ ونڈو کے تحت ٹریٹ کرایا جائے گا۔ اس مقصد کیلئے صرف سفارش کردہ زہر کا سنگل سپرے کرنے کی اجازت ہوگی۔ اس موقع پر کپاس کی بہتر نگہداشت کیلئے سفارشات مرتب کی گئیں جن کے مطابق پیسٹ سکاؤٹنگ کے عمل کو تیز کیا جائے۔ کپاس کی فصل پر کرائی سوپا کارڈز لگائے جائیں۔ بھنڈی اور بینگن کی فصل پر چست تیلہ کے خلاف سفارش کردہ زہر کا سپرے کرایا جائے اور اس کے بعد بھنڈی کی فصل کو روٹاویٹ کرایا جائے۔ جڑی بوٹیوں کابروقت تدارک یقینی بنایا جائے۔ چست تیلے کے ہاٹ سپاٹس کی صورت میں کپاس کی فصل پر سمارٹ ونڈو کے تحت صرف ایک سپرے سے سپاٹ ٹریٹمنٹ کرائی جائے۔ اگر کپاس کے پودے کا اوپر والا 1/3 حصہ صحتمند ہے تو چست تیلے کے خلاف سپرے سے اجتناب کیا جائے۔ سفید مکھی کے تدارک کیلئے ییلو سٹکی کارڈز لگائے جائیں۔ متبادل پودوں پر بھی سفید مکھی کو کنٹرول کیا جائے۔ کھیتوں میں رجر چلایا جائے تاکہ جڑی بوٹیوں کے تدارک کے ساتھ پودوں کی جڑوں کے ساتھ مٹی چڑھائی جاسکے۔ بارشوں اور یوریا کھادکے غیر ضروری استعمال کی وجہ سے فصل کی بڑھوتری میں اضافہ ہوا ہے جس کیلئے گروتھ ریگولیٹر استعمال کیا جائے۔ گلابی سنڈی کی مانیٹرنگ کیلئے فی ایکڑ 4 فیرامون ٹریپس لگائے جائیں جبکہ اس  کے تدارک کیلئے کپاس کی چھڑیوں کی الٹ پلٹ کے عمل کوجاری رکھا جائے۔ کیمیائی زہروں کے استعمال کی صورت میں ایک ہی گروپ کی زہر دوبارہ استعمال نہ کی جائے تاکہ کیڑوں میں مزاحمت ختم کی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ ہاٹ سپاٹس کی ٹریٹمنٹ کیلئے اگر کیمیکل سپرے استعمال کرنا پڑا تو صرف فصل کے متاثرہ حصوں پر سپرے کرایا جائے اور ابتدائی مرحلہ پر پیراتھرائیڈز کا استعمال نہ کرایا جائے کیونکہ اس سے سفید مکھی کی تعداد بڑھتی ہے۔اس موقع پرسیکرٹری زراعت نے کہا کہ ہمارا فوکس سفید مکھی اور گلابی سنڈی پر ہے۔گلابی سنڈی کے خلاف ممکنہ حد تک سپرے میں تاخیر کرائی جائے گی کیونکہ گلابی سنڈی کے تدارک کیلئے سپرے سے سفید مکھی کی تعدادمیں اضافہ ہوتا ہے۔انہوں نے محکمہ زراعت کے ماہرین کو سخت ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی آفیسر کپاس پر بلاوجہ اپنی طرف سے سپرے کی سفارش نہ کرے بلکہ صرف جاری کردہ سفارشات پر ہی عمل کرے۔سیکرٹری زراعت نے آئی پی ایم پلاٹس پر 24گھنٹے کے اندر ییلو سٹکی کارڈز،فیرامون ٹریپس اورکرائی سوپا کارڈز لگانے اورجڑی بوٹیوں کی تلفی کیلئے رجر چلانے کی ہدایت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں