17

سیکڑوں طلباء و طالبات نشے کی لت میں مبتلا، لڑکیوں کا سڑکوں پر غل غپاڑہ معمول

رحیم یار خان،سیکڑوں لڑکیاں نشے کی لعنت میں مبتلا،زیادہ تعداد کالجز،یونیورسٹیز میں زیر تعلیم،والدین بچیوں پرنظررکھیں،ڈاکٹرز،تفصیل کے مطابق دنیا بھر میں انسداد منشیات کا دن منایا گیا، ذرائع کے مطابق رحیم یارخان شہر میں سینکڑوں کی تعداد میں نوجوان لڑکیاں نشے کی لعنت میں مبتلا ہیں،لڑکیوں کی زیادہ تعداد کالجز اور یونیورسٹیز میں زیر تعلیم ہے،منشیات کے استعمال اور اس کے نقصانات کے حوالے سے کام کرنے والی ایک این جی او کے ذرائع کے مطابق رحیم یارخان شہر میں خواجہ فرید آئی ٹی یونیورسٹی،شیخ زید میڈیکل کالج،خواجہ فرید کالج،اسلامیہ یونیورسٹی،علامہ اقبال یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے والی جواں سالہ لڑکیاں تیزی سے نشے کی لت میں مبتلا ہورہی ہیں،ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ رواں سال مختلف کالجز اور یونیورسٹیوں کی سینکڑوں ایسی لڑکیاں علاج معالجہ انسداد منشیات کے پرائیویٹ ہسپتالوں اور انسداد منشیات وارڈ شیخ زاید ہسپتال میں رجوع کرچکی ہیں جو مختلف وجوہات کی وجہ سے نشے کی عادی بنیں،ذرائع نے بتایا کہ نشے کی لت میں مبتلا خوبرو خواتین نشہ کرنے کے بعد سڑکوں پر نکل آتی ہیں اور سڑکوں پر سرعام غل غپاڑہ کرتی دیکھائی دیتی ہے، رحیم یارخان کی شاہی روڈ پر ایک نجی گرلز ہاسٹل میں مقیم بیرون شہر کی تین لڑکیاں نشے کی حالت میں ڈسٹرکٹ کورٹ کے سامنے رات کے وقت سرعام غل غپاڑہ کرتی رہی جبکہ پولیس بھی انکے خلاف کاروائی نہیں کی،انسداد منشیات کے عالمی دن کے موقع پر ضلع بھر میں مختلف تنظیموں اور ڈاکٹرز نے ریلیاں نکالی،جس میں فی میل ڈاکٹروں کی ایک بڑی تعداد بھی شامل تھی جن کا کہنا تھا معاشرتی بے راہ روی اور دین سے دوری کے باعث ہزاروں لڑکیاں نشے کی عادی بن چکی ہیں انہوں نے کہا والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچیوں پر نظر رکھیں اور معاشرے میں انکے فائدہ مند کردار کے لئے انکی بحالی پر توجہ دیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں