11

سیکڑوں ورک چارج ملازمین کی غیر قانونی بھرتیاں سابق ایکسین، ہیڈ کلرک گرفتار

منڈا چوک‘ ڈیرہ غازی خان‘ راجن پور(نمائندگان پی این این اردو)اینٹی کرپشن ٹیم کا مظفرگڑھ میں چھاپہ۔سابق ایکسئین چوہدری اطہر حسین۔ہیڈ کلرک شفیق خان کو گرفتار کر لیا گیا،ملزمان نے درجہ چہارم کی ملازمتوں کے عوض کروڑوں روپے رشوت لی تھی،ملزمان کے جوڈیشل ریمانڈ کے حصول کے لئے آج عدالت میں پیش کیا جائیگا،تفصیل کے مطابق ایکسئین سکارپ چوہدری اطہر حسین نے ٹیوب ویل آپریٹرز کی بھرتی کیلئے پانچ سو سے زیادہ بھرتیاں کیں۔ہیڈ کلرک شفیق خان مبینہ فرنٹ مین تھا۔بھرتی ہونیوالے امیدواروں میں سے دو سو ملازمین نے اکاؤنٹس آفس مظفرگڑھ کے آڈیٹر تنویر مگسی سے مبینہ ڈیل کر کے تنخواہیں جاری کروا لیں اس ڈیل میں ہیڈ کلرک شفیق خان نے اہم کردار ادا کیا،شفق خان ہیڈ کلرک مظفرگڑھ کی قد آور سیاسی شخصیت کا کزن ہے،زرائع کے مطابق فی کس نوکری تین لاکھ روپے میں دی گئی،۔ٹیوب ویل آپریٹرآصف چنگیزی نے بھی سو بندے بھرتی کروائے،تین سو امیدواروں کو کئی ماہ تک جب تنخواہیں نہ ملیں تو انہوں نے احتجاج شروع کردیا اور معاملہ عدالتوں اور اینٹی کرپشن تک جاپہنچا،ڈپٹی ڈائریکٹر اینٹی کرپشن اصغر خان چانڈیہ نے بھرتی سکینڈل کے مرکزی ملزمان کی گرفتاری کیلئے ارڈر جاری کر دئیے جس پر اتوار کے روز سکارپ کالونی میں چھا پہ مار کر ایکسئین چوہدری اطہر حسین اور ہیڈ کلرک شفیق خان کو گرفتار کر لیا گیا اج سوموار کو ملزمان کا ریمانڈ حاصل کرنے کے لیے اج اینٹی کرپشن عدالت میں پیش کیے جائینگے۔بھرتی سکینڈل کیس میں ملوث چوہدری اطہر حسین ایکسئین کے خاص دست راست کلرک میاں فیاض حسین قریشی نے اپنی راہیں جدا کرتے ہوئے نیب اور اینٹی کرپشن کی تحقیقات میں دونوں محکموں کی مکمل راہنمائی کی جبکہ میاض قریشی نے بھی درجنوں امیدواروں سے پیسے لیکر نوکریاں لگوائی تھیں۔کہا جاتا ہے کہ بھرتیوں کے نام پر 15کروڑ روپے کمائے ہیں۔ایکسئین چوہدری اطہر حسین پر امدن سے زائد اثاثہ جات کا کیس نیب ملتان میں بھی زیرسماعت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں