12

سی پیک منصوبہ شفافیت کا حامل ہے، کوئی خفیہ قرضہ نہیں،اسد عمر

اسلام آباد(بیورو رپورٹ)وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی واصلاحات وخصوصی اقدامات اسدعمر نے کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) پر پوری دنیا کی نظریں ہیں، اس لئے بعض حلقوں کو یہ کھٹکتا بھی ہے اور ان کی طرف سے جان بوجھ کر اس منصوبے کا منفی تاثر ابھارنے والی خبریں چلائی جاتی ہیں، سی پیک میں کوئی مہنگا یا خفیہ قرض نہیں ہے،دیگر ممالک کی نسبت چین سے سستے قرضے ملے ہیں، سی پیک کی بناء پر ملکی قرضے خطرناک حد تک بڑھنے کا تاثر غلط ہے، سی پیک منصوبہ شفافیت کا حامل ہے اور اس کی پارلیمانی نگرانی بھی کی جا رہی ہے، بجلی کے منصوبوں اور ٹیرف کی معلومات نیپرا کے پاس دستیاب ہیں،ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سی پیک آفیئرز خالد منصور کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا،وفاقی وزیر نے کہا کہ سی پیک منصوبوں کی معلومات کئی بار پارلیمان کو دی جا چکی ہیں، بجلی کے منصوبوں اور ٹیرف کی معلومات نیپرا کے پاس موجود ہیں، چین نے کئی منصوبے گرانٹ کی شکل میں دیئے ہیں،انہوں نے پاکستان کے قرضوں کے حوالے سے ایک امریکی تھنک ٹینک کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ سی پیک کی وجہ سے ہمارے قرضے خطرناک حد تک بڑھ گئے ہیں،انہوں نے کہا کہ پاکستان نے سرمایہ کاری کے حوالے سے چین کو سی پیک کے تحت منصوبوں کی وہی پیشکش کی جو دیگر دنیا کو کی گئی، چین کے قرضے پاکستان کے مجموعی قرض کا 10 فیصد ہیں، بیرونی قرضوں کے حساب سے چین کا قرض 26 فیصد ہے،اسد عمر نے کہا کہ مذکورہ رپورٹ میں سی پیک قرض کو خفیہ قرض کہا گیا،انہوں نے واضح کیا کہ سی پیک میں کوئی خفیہ قرض نہیں ہے اور نہ ہی ہمارے علم میں ایسی کوئی بات ہے جبکہ حکومت کی جانب سے قرضوں کیلئے خود مختار گارنٹی دی گئی، سی پیک پر مشترکہ پارلیمانی کمیٹی سمیت دونوں ایوانوں کی الگ الگ کمیٹیاں ہیں، کسی بھی منصوبے پر جن میں توانائی کے منصوبے شامل ہیں معلومات دی جاتی رہی ہیں، خودمختار گارنٹی حکومت دیتی ہے اور یہ کوئی خفیہ قرضہ نہیں ہے، کئی منصوبے حکومت نجی شعبہ کے ذریعے خودمختار گارنٹی سے مکمل کرتی ہے،پاور کے منصوبوں کیلئے قرض فراہم کیا گیا اور کچھ قرض حکومت کو دیا گیا، اس رپورٹ میں مہنگے قرضوں کی بات بھی کی گئی لیکن اصل صورتحال یہ ہے کہ اوسط قرضوں پر شرح سود 4 فیصد ہے، کثیرالجہتی قرض اس میں زیادہ ہیں اور اوسط شرح سود سوا 4 فیصد ہے، حکومت کی دی گئی گرانٹ کی اوسط شرح سود 2 فیصد بنتی ہے۔ وفاقی وزیر اسد عمرنے کہا کہ پاکستان آئی ایم ایف پروگرام کا حصہ ہے، آئی ایم ایف پروگرام کا حصہ ہونے پر سی پیک کی تفصیلات فراہم کیں،امریکی تھنک ٹینک رپورٹ میں کہا گیا سی پیک منصوبوں میں شفافیت نہیں جو قطعی طور پر درست تاثر نہیں ہے،اسد عمر نے کہا کہ بعض حلقوں کی خواہش ہے کہ سی پیک کا منصوبہ کامیاب نہ ہو لیکن ان کی یہ خواہش پوری نہیں ہوگی، یہ بڑا منصوبہ شفاف انداز میں خوش اسلوبی سے آگے بڑھ رہا ہے،وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے مزید کہا کہ سی پیک کے کچھ منصوبے کورونا کے باعث تاخیر کا شکار ہوئے، سی پیک کے بیشتر منصوبے بروقت مکمل ہوئے، پی ٹی آئی حکومت آنے کے بعد سی پیک منصوبوں پر تیزی سے کام ہوا،انہوں نے کہا کہ دنیا افغانستان کے ساتھ معاشی تعلقات رکھے،استحکام کیلئے آگے بڑھے،وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ سی پیک ایک عظیم الشان منصوبہ ہے جس میں دوسرے ممالک کی شرکت کو خوش آمدید کہیں گے،انہوں نے کہا کہ پارلیمان میں، سینیٹ اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیاں برائے منصوبہ بندی سی پیک کے علاوہ ایک مشترکہ کمیٹی سی پیک سے متعلق سوالات پوچھتی ہیں، یعنی اس پر پارلیمانی نگرانی بھی موجود ہے،انہوں نے کہاکہ اس میں جن منصوبوں پر زیادہ بات چیت کی جاتی ہے وہ توانائی کے منصوبے ہیں، ٹیرف کیا ہے؟ لاگت کتنی آئی؟ کمرشل فنانسنگ اسٹرکچر کیا ہے؟ وہ سب معلومات نیپرا کے پاس ویب سائٹ پر موجود ہیں جہاں سے حاصل کی جا سکتی ہیں،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام کا حصہ ہیں، یہ پروگرام جب شروع ہوا تھا سی پیک کی معلومات کے بارے میں بہت بات ہوتی تھی، انہوں نے ہم سے یہ معلومات مانگی تو ہم نے انہیں فراہم کر دیں جس کے بعد آپ نے آئی ایم ایف کے مذاکرات میں سی پیک کے قرضوں کے حوالے سے کچھ نہیں سنا ہوگا،انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جتنی آئی پی پیز لگیں چاہے وہ کسی بھی ملک کے سرمایہ کاروں نے لگائی ہوں سب کو یہ اسٹرکچر ملتا ہے، اسی بنیاد پر یہ منصوبے لگائے جاتے ہیں، ضمانتیں دی جاتی ہیں، اس میں کوئی نئی چیز نہیں ہے اور نہ ہی یہ کوئی خفیہ چیز ہے،اسد عمر نے کہا کہ یہ صرف توانائی کے منصوبوں کی پریکٹس نہیں بلکہ دیگر بھی جو منصوبے ہوتے ہیں جس میں حکومت یہ سمجھتی ہے کہ نجی شعبہ کو ذمہ داری سونپی جائے اس کے لئے بھی ضمانت دی جاتی ہے، اس سے حکومت اپنا پیسہ استعمال کئے بغیر منصوبے میں سرمایہ کاری کروانے میں کامیاب ہوتی ہے،انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی انوکھی بات نہیں سی پیک کے لیے کوئی ایسی خاص گارنٹیز نہیں دی گئیں جو دیگر توانائی کے منصوبوں کو نہ دی گئی ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں