20

سی پیک کے ساتھ منسلک ہونے سے افغانستان کو حاصل ہونے والے صنعتی ، ڈیجیٹل ، سماجی اور معاشی فوائد ملک کی تعمیر نو اور افغان عوام کی زندگی کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتے ہیں، چائنا ڈیلی

اسلام آباد(بیورو رپورٹ)اشرف غنی حکومت کے خاتمے کے بعد افغانستان کو خوشحالی کی راہ پر گامزن ہونے کیلئے علاقائی تجارت اور ترقیاتی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی ضرورت ہوگی،چین پاکستان اقتصادی راہداری بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو سب سے زیادہ فعال راہداریوں میں سے ایک ہے ، جس کے تحت پاکستان کے طول و عرض میں جاری زراعت ، صنعت اور سماجی و اقتصادی خوشحالی کے منصوبوں کے دوسرے مرحلے میں تقریباً 60 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی ہے،چائنا ڈیلی کے شائع کردہ ایک مضمون کے مطابق دی بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو طویل المیعاد اقتصادی اور ڈھانچے کی ترقی کا پروجیکٹ ہے جو کہ ممالک اور بین الاقوامی اداروں کو آپس میں ملاتا ہے جس کا مقصد انسانیت کے مشترکہ مستقبل کے ساتھ ایک کمیونٹی کی تعمیر ہے،اس میں افغانستان میں کمیونٹیز کی تعمیرنو کرنے میں مدد دینے والا تمام مکینزم موجود ہے،افغانستان کو درپیش مسائل کے سیاسی حل کیلئے افغانوں کی اپنی زیر قیادت اور ان کے اپنے ترقیاتی اقدامات انتہائی اہم ہیں،جب تک افغانستان نہ صرف سیاسی طور پر بلکہ سب سے اہم اقتصادی اور علاقائی تجارت کے ذریعے بااختیار ہو جائے اس وقت تک عسکریت پسندی اور افراتفری کا ملک میں دوبارہ سر اٹھانے کے مواقع ہو سکتے ہیں،جبکہ ملک میں افراتفری پھیل جانے کے علاقائی اور عالمی اثرات مرتب ہوں گے۔2019 میں ، اور بعد میں 2020 میں ، چین ، پاکستان اور افغانستان کے سہ فریقی اجلاس منعقد ہوئے تاکہ سی پیک کو افغانستان تک بڑھانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا جاسکے،افغانستان کے ساتھ علاقائی اقتصادی انضمام کے کھلے آئیڈیا کے ساتھ چین افغانوں کی اپنی قیادت میں اور اپنی ملکیت میں سیاسی مسائل کے پرامن حل اور کابل میں ایک جامع حکومت کی تشکیل کی حمایت کرتا ہے،اس سے خطے کو پرامن افغانستان کے مقصد کو حاصل کرنے میں مدد ملے گی ، جس کی سرزمین دہشت گرد ملک اور دیگر جگہوں پر پریشانی پھیلانے کیلئے استعمال نہیں کر سکیں گے،روایتی طور پر ، چین اور افغانستان باہمی احترام اور اعتماد کے ساتھ دوستانہ ہمسائے رہے ہیں،چین لوگوں کی معاش کو بہتر بنانے اور ملک کو پائیدار ترقی کے حصول میں مدد کیلئے افغانستان کی سماجی و اقتصادی ترقی میں مدد کرنے پر آمادہ ہو سکتا ہے،طالبان ترجمان اور سیاسی کمیشن کے سربراہ نے افغان عوام کی ترقی اور ترقی کیلئے چین کے ساتھ شراکت داری کی خواہش کا اظہار کیا ہے،وہ عالمی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کر رہے ہیں اور بین الاقوامی کمپنیوں پر زور دے رہے ہیں کہ وہ افغانستان میں اپنی کارروائیاں جاری رکھیں جبکہ اپنے ہمسایوں بالخصوص چین اور پاکستان کو یقین دلا رہے ہیں کہ وہ دہشت گردوں کو افغان سرزمین استعمال نہیں کرنے دیں گے،اگر طالبان اپنا وعدہ پورا کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اس سے پورے خطے میں خوشحالی اور ترقی کو فروغ ملے گا،افغانستان کی ترقی میں چین دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر معاونت کر سکتا ہے،چینی کمپنیاں پہلے ہی وہاں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کر چکی ہیں،چینی کمپنیاں افغانستان میں توانائی کے ترقیاتی پروگراموں اور منصوبوں میں بھی سرمایہ کاری کر سکتی ہیں، ایک بار جب افغانستان توانائی میں خود کفیل ہو جائے اس کی صنعت چل رہی ہو اور اسی طرح آبپاشی چینلز اور نظام جو زراعت کو سپورٹ کرتے ہیں، جیسی معاشی بحالی مقامی لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرے گی، دی بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو رابطے کے امکانات پیش کرتا ہے،افغانستان کو پاک چین اقتصادی راہداری کے ساتھ ملانے سے صنعتی ، ڈیجیٹل ، سماجی اور معاشی فوائد حاصل ہوں گے جو ملک کی تعمیر نو اور افغان عوام کی زندگی کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتے ہیں،جیسا کہ طالبان نے افغانستان میں اپنی نئی حکومت کا اعلان کیا ہے ، دنیا اور علاقائی ممالک دیکھ رہے ہیں کہ کیا وہ دنیا کو حفاظت اور سلامتی کے حوالے سے دی گئی یقین دہانیوں پر عمل کریں گے،نئی کابل انتظامیہ کی قومی سلامتی کو سنبھالنے کی صلاحیت وعدوں کو پورا کرنے کی صلاحیت کا تعین کرے گی،اب وقت آگیا ہے کہ افغان عوام اپنی تقدیر اسی طرح بنائیں جس طرح ک وہ ا یک پرامن اور خوشحال افغانستان کے لیے ہمیشہ چاہتے تھے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں