7

شجرِ سایہ دار ہم سے رخصت ہوا


تمام انبیائے اکرام کو اللہ تعالیٰ نے علم دے کر انسانیت کی ہدایت کے لیے بھیجوایا۔ وہ تمام مقام ِ معلمین پر فائز تھے حتیٰ کہ نبی خاتم آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ :”مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔”مختار احمد ملک کے والد بھی معلم تھے ان کے اکثر بھائیوں اور خود انہوں نے اسی باوقار پیشہ کا انتخاب کیا۔ سال 1993 کی بات ہے میرے پڑوس سے اہل محلہ نے ایک طالبہ کی فیس اکٹھی کر کے میٹرک کا داخلہ بھجوایا۔ دوران امتحان بچی کی کرسی کے پاس ایک کاغذ جسے بوٹی کہتے ہیں پائی گئی اور نقل کا کیس بن گیا بچی کہتی تھی کہ ناجانے کس نے یہ کاغذ پھینکاتھا۔ میرے پیپر میں اس میں سے ایک لفظ بھی نہیں ہے پھر ملتان بورڈ میں کیس پہنچا تو کمیٹی بن گئی جس کے ایک ممبر ملک مختار تھے۔ مجھ تک ان غریب لوگوں نے رسائی حاصل کی اور حلف دینے کو تیار کہ مانگ کر فیس ادا کی۔ہماری بھی بچی کیسے نقل کر سکتی ہے۔ صلاح ٹھہری کہ کل پیشی ہے پیشی سے قبل ملک مختار سے مل کر صورتحال واضح کی جائے۔ چنانچہ اگلے دن صبح سویرے ملک صاحب کے دولت خانہ پر پہنچے۔ گھنٹی بجانے پر مسکراتے چہرے ، لمبے قد ، خوبصورت سراپا کا ایک شخص نمودار ہوا اسے تعارف کرایا تو پتہ چلا کہ یہی ملک مختار ہیں انہوں نے لان میں بٹھایا۔ عرض مدعا کے بعد کہا کہ اس بچی سے پوری صورتحال جان لیں۔ تھوڑی دیر بعد انہوں نے آواز لگائی “بابا شاہد “جس کے جواب میں ایک نوجوان نمودار ہوا۔ تعارف کرایا کہ یہ میرا بیٹا ہے جب کہ بابا کے لفظ سے توقع کر رہا تھا کہ کوئی عمر رسیدہ ہوگا۔ شاہد آتے ہی کہا “جی بابا سائیں” حکم ہوا مہمانوں کیلئے ناشتے کا بندوبست کرو۔ بعد میں جب میں ملتان میں آگیا تو پتہ چلا کہ یہ سرائیکی بیلٹ میں بیٹوں کو احترام و عزت دینے کا مخصوص انداز ہے۔ اسی طرح فارسی و ترکی میں دادا کو بھی بابا کہتے ہیں اور والد کو بھی۔ اردو دائرہ معارف اسلامیہ کے مطابق عرب میں بھی بیٹے کیلئے بابا لفظ احتراماً استعمال کرتے ہیں اور ملک صاحب اپنے دوسرے بیٹوں محمد امجد ملک اور محمد ساجد ملک کو بھی ویسے ہی مخاطب کرتے تھے۔ یہ ملک صاحب سے پہلی ملاقات تھی تقریباً 2 سال بعد ان کا تبادلہ ملتان ہوگیا۔ اور ملک صاحب سے قریبی و برادرانہ تعلق قائم ہوگئے تو ملک صاحب کی دیگر خوبیوں کا پتہ چلا،ملک مختار ملتان کے تعلیمی حلقوں کا مان اور شان تھے انہوں نے درویشی میں بادشاہی کی اور تعمیر قوم میں اپنا حصہ ادا کیا۔ پہلی ملاقات میں ملک صاحب کے بارے میں ہمدردی ، سخاوت ، خیر خواہی ، انکساری اور احترام آدمیت کا جو تاثر ابھرا بعد والی زندگی میں وہ پختہ ہوتا گیا اور میں تمام زندگی اس ملاقات کا قرض اتارتا رہا۔ جہاں ملک صاحب اولاد اور چھوٹوں سے شفقت سے پیش آتے تھے ملازموں کو بھی احترام دیتے تھے وہاں حفظ مراتب کا بھی بہت خیال رکھتے تھے۔ میرے ہوتے ہوئے ، ڈاکٹر محمد افضل جو ملک صاحب کے بڑے بھائی ہیں تشریف لاتے تو جب تک وہ بیٹھ نہ جاتے ملک صاحب کھڑے رہتے اور انہیں بہت احترام دیتے۔ ملک صاحب اپنے گھرانے اور ضرورت مندوں کے لیے شجر سایہ دار تھے سب کے سفارشی اور تمام لوگوں کی ضرورتیں پوری کرنے کے خواہش مند۔ مجلسی آدمی تھے۔ اکثر ہیڈ ماسٹر ز اور اساتذہ ان سے مل کر خوشی محسوس کرتے تھے سادگی ، انکساری اور اسلامی اخلاقیات کا نمونہ تھے۔ خدمت انسانیت ان کا شعار تھا۔ طلبہ والدین اساتذہ سب سے محبت سے پیش آتے انہیں دیکھ کر ڈمیل کا ڈینگی کی کتاب :میٹھے بول میں جادو ہے” کی یاد آجاتی تھی۔ملک مختار احمد کا سرائیگی کلچر کا مکمل نمونہ اور ملتانی روایت کے امین تھے۔ وسیع حلقہ احباب ، روایت پسند اور باوقار تھے۔حب ِرسول ؐ سے سرشار تھے اکثر اوقات درود شریف ورد زبان رہتا۔ بحیثیت ہیڈ ٹیچر اساتذہ سے جمہوری ، اسلامی اور محبت سے پیش آتے تھے۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر بنے تو ان کی اصول پسندی مزید واضح ہوئی انکے دو تین دوست اس سلسلہ میں ان سے ناراض ہو گئے۔ مگر دفتر میں اکثر اساتذہ کو احترام اور رولز کے مطابق عمدہ سلوک سے نوازتے تھے۔ رشوت اور ناجائز سے دور تھے۔بابا شاہد کا بابا سائیں بہت سوں کا سایہ دار و چھتاور درخت ہمیں چھوڑ کر اپنے رب کے حضور حاضر ہوگیا۔کل من علیہا فان ” سب نے جانا ہے ” مگر جس شان سے کوئی گیا وہ شان سلامت رہتی ہے۔ آئیں بابا شاہد کے بابا سائیں کے لیے انکی برسی پر دعائے مغفرت کریں ملک صاحب کی یادیں اور باتیں ہمارے من میں زندہ ہیں خدا انہیں خوش رکھے انکے اہل خانہ بھائیوں ، بچوں ، دوستوں اور جن کے لیے وہ پریشان رہتے تھے ان کو سکھی رکھے اور مرحوم کو آغوشِ تربت میں آسودہ رکھے۔آمین!
بشکریہ نوائے وقت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں