5

شکایت نہ کوئی پرچہ،پولیس گردی ، بچوں اور خواتین پر تشدد،70 سالہ باپ، 14 سالہ بیٹا اٹھالیا

اڈاپل14(نمائندہ پی این این اردو)جہانیاں پولیس نے گھر میں گھس کر چادر چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے عورتوں اور بچوں پر تشدد کیا مجھے میرے خاوند اور 13 سال کے بچے کو پولیس تھانے ساتھ لے گئی،بعد ازاں حالت خراب ہونے پر مجھے چھوڑ دیا گیا میرا 70 سالہ خاوند احمد بخش اور بیٹا یار محمد پولیس کی حراست میں ہے نزیراں مائی کی اہلخانہ اور بچوں کے ہمراہ شدید احتجاج . ہم نے ملزم کی گرفتاری کے لئے ریڈ کیا تھا ایس ایچ او ظفر اقبال کا موقف،تفصیل کے مطابق نواحی چک 115 دس آر کی رہائشی نزیراں مائی نے اپنے اہلخانہ اور رشتہ داروں کے ہمراہ جہانیاں پولیس کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ جہانیاں پولیس کے درجنوں اہلکاروں نے علی الصبح ہمارے گھر کی دیواریں پھلانگ کر زبر دستی گھر میں داخل ہوکر چادر چار دیواری کا تقدس پامال کیا اور کمروں کے دروازے توڑتے ہوئے عورتوں اور بچوں پر وحشیانہ تشدد کرتے ہوئے گھر کی الماری سے قیمتی سامان ساتھ لے گئے اور میرے ضعیف 70 سالہ خاوند احمد بخش اور بیٹے 14 سالہ بیٹا یار محمد اور مجھے بھی گھسیٹتے ہوئے تھانے لے گئے جس سے میرے کپڑے پھٹ گئے اور حالت خراب ہونے پر پولیس نے مجھے چھوڑ دیا مگر میرے خاوند اور بیٹے کو تاحال غیر قانونی حراست میں رکھا ہوا ہینذیراں مائی نے مزید بتایا کہ ہمارے اوپر کوئی ایف آئی آر بھی درجنہہے پولیس نے قانون سے بالاتر ہوکر گھروں میں گھس کر غیر قانونی کام کیا ہے نذیراں مائی اہلخانہ اور بچوں نے روتے ہوئے آئی جی پنجاب ‘ آرپی او ملتان اور ڈی پی او خانیوال سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے. ایس ایچ او جہانیاں ظفر اقبال نے موقف میں بتایا کہ ملزم زاہد کی گرفتاری کے لئے پولیس نے ریڈ کیا تھا کسی پر تشدد نہیں کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں