14

صوبائی وزیر عبد العلیم خان کا اپنی وزارت سے استعفی دینے کا فیصلہ

لاہور(بیورو رپورٹ)پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما اور صوبائی وزیر عبد العلیم خان نے اپنی وزارت سے استعفی دینے کا فیصلہ کیا ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبائی وزیر نے اپنی وزارت سے ایک مرتبہ پھر مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے، عبد العلیم خان نے چند روز قبل وزیراعظم سے ملاقات میں استعفی پیش کیا،عمران خان نے عبدالعلیم خان کو استعفی واپس کرتے ہوئے کچھ دیر انتظار کرنے کو کہا،ذرائع کا کہنا ہے کہ سینئر صوبائی وزیر عبدالعلیم خان نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے جواب کا انتظار ہے، میں ذاتی مصروفیت کے باعث مزید وزارت نہیں سنبھال سکتا، میں نے کئی سال سیاست میں وقت گزارا، اب کچھ وقت اپنی نجی لائف کو دینا چاہتا ہوں، میں نے پاکستان کے لئے بہت کام کیا اور مزید بھی پاکستان کےلئے کام کرتا رہوں گا،دوسری طرف پنجاب کابینہ کے کئی وزرا کے محکموں میں ردوبدل کاامکان ہے، 5 وزرا کی وزارتیں خطرے سے دوچار ہوگئیں، وزیر اعظم پاکستان کی حتمی منظوری کے بعد وزیراعلی پنجاب اقدام اٹھائیں گے،پنجاب میں کئی صوبائی وزرا کی 3 سالہ کارکردگی غیر تسلی بخش کے بعد صوبائی وزرا کے محکموں میں ردوبدل کاامکان ہے، وزرا کی کارکردگی کے بارے میں مستند اداروں کی رپورٹس مرتب کرلی گئیں،وزرا کے محکموں میں ردو بدل انکی 3 سالہ کارکردگی کی بنا پرہوگا،وزیراعظم عمران خان کی حتمی منظوری کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار اقدام اٹھائیں گے،پنجاب کابینہ میں شامل 5 وزرا کی وزارتیں خطرے سے دوچار ہیں، وزیر محنت انصر مجید نیازی کا ممکنہ تبدیلی کی زد میں آنے کاامکان ہے ، وہ اپنے تنقیدی رویے کا کابینہ اجلاس میں برملا اظہار کرچکے ہیں،ترین گروپ کے صوبائی وزیر نعمان لنگڑیال اور اجمل چیمہ کی وزارتوں کو بھی خطرہ ہے ، اسی طرح حافظ ممتاز کی وزارت میں بھی ردوبدل کاامکان ہے،عبدالعلیم خان بارے بھی پنجاب کے ایوان اقتدار کے اعلی حلقے ناخوش ہیں،وزیر خوراک بجٹ کے پہلے اجلاس کے بعد اسمبلی اجلاس میں شریک نہیں ہوئے، عبدالعلیم خان کچھ عرصہ سے کابینہ کے اجلاسوں میں بھی شریک نہیں ہو رہے،وزیر ٹرانسپورٹ جہانزیب کھچی کا بھی ممکنہ تبدیلی کی زد میں آنے کاامکان ہے ، وزیر ہائر ایجوکیشن راجہ یاسر ہمایوں کی وزارت کے حوالے سے بھی غیر یقینی صورتحال ہے،وزیر لٹریسی اینڈ نان فارمل بیسک ایجوکیشن راشد حفیظ کی کارکردگی بارے بھی تحفظات ہیں، باو رضوان کی وزارت ماحولیات کی کارکردگی بارے بھی تحفظات کااظہار کیا جا رہا ہے۔ تاہم اتحادی جماعت کی وزارت ہونے کے باعث حتمی فیصلہ نہ ہوسکا،وزارتوں میں پارٹی رہنماوں کو سپیشل کوارڈینیٹر لگانے کی تجویز کا بھی جائزہ لیا جارہاہے، پارٹی رہنماوں کو وزرا کے ساتھ ملکر کام کرنے ٹاسک سونپا جاسکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں