11

طاقت کی حکمرانی کا مطلب جنگل کا قانون ہے،وزیراعظم عمران خان

اسلام آباد(بیورو رپورٹ)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ طاقت کی حکمرانی کا مطلب جنگل کا قانون ہے، ایلیٹ کلاس کی چوری ملک تباہ کر دیتی ہے، منی لانڈرنگ براہ راست کرنسی کو متاثر کرتی ہے، بینظیر اور نوازشریف نے اپنی اپنی پارٹی میں شمولیت کی دعوت دی، دونوں کی کرپشن ختم کرنے کیلئے ہی سیاست میں آیا تھا،اسلام آباد میں کتاب کی لانچنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ برطانیہ میں کسی سیاست دان پرکرپشن کا الزام لگ جائے تواسے کسی تقریب میں نہیں بلایا جاتا، اگرکرپٹ لوگ ٹی وی چینل پرآجائیں توان کا وہ حال ہوتا ہے جواسحاق ڈارکا ہوا،انہوں نے کہا کہ منی لانڈرنگ کا براہ راست اثر کرنسی پر اثر پڑتا ہے، سارے غریب ملکوں کا یہی حال ہے، غریبوں ملکوں کی رولنگ ایلیٹ نے ملک کے پیسوں کو لوٹا، جب پر ویلیج کلاس کو این آر او دیدیں گے تو پھر یہ نظام نہیں چل سکتا،طاقت کی حکمرانی کا مطلب جنگل کا قانون ہے، انسانی معاشرہ تب بنتا ہے جب قانون کی حکمرانی ہو،عمران خان نے کہا کہ جن معاشروں میں قانون، انصاف نہ ہو وہاں پر ویلیج کلاس آگے آ جاتی ہے، پٹواریوں کی کرپشن نہیں رولنگ ایلیٹ کی چوری سے ملک تباہ ہوتا ہے، اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق غریب ملکوں سے ہر سال ایک ہزار ارب منی لانڈرنگ ہوتی ہے، منی لانڈرنگ غریب نہیں رولنگ ایلیٹ کرتی ہے،ان کا کہنا تھا کہ دوپارٹیوں کومیں نے چیلنج کیا تھا، نوازشریف، بے نظیرنے بھی مجھے پارٹی جوائن کرنے کا کہا تھا، میں توان دوپارٹیوں کوچیلنج کرنے آیا تھا،میرا سیاست سے کوئی تعلق نہیں تھا،سیاست میں میرے خاندان کا کوئی فرد نہیں تھا،وزیراعظم نے کہا کہ جب یہ پیسہ چوری کرتے ہیں تومنی لانڈرنگ کے ذریعے باہر بھیجتے ہیں، پاکستان میں ظلم کیا گیا لوگ 35 سالوں میں آہستہ، آہستہ کرپشن کو ایکسپٹ کر چکے ہیں،نواز شریف اور آصف زرداری پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کہتے ہیں کھاتا ہے تولگاتا بھی ہے، کہتے ہیں ایک زرداری سب پربھاری، انہوں نے پیسے چوری کیے ہیں۔ جب معاشرے میں برائی کوبرا نہ سمجھا جائے توقومیں تباہ ہوجاتی ہیں ، پاکستان میں اخلاقیات کوتباہ کردیا گیا،عمران خان نے کہا کہ اللہ نے ہمیں زمین پرانصاف کیلئے بھیجا ہے، طاقتور اورغریب کے لیے الگ، الگ قانون ہو تو قومیں تباہ ہوجاتی ہیں، ایلیٹ کلاس کہتی ہے جو مرضی کریں ہاتھ نہ ڈالو، ایلیٹ کلاس سمجھتی ہے اگر ہاتھ ڈالو گے توحکومت گرادیں گے،ان کا کہنا تھا کہ جس لیڈرکی چھٹیاں، شاپنگ باہر ہو اسے پاکستان کی سیاحت بارے کیا پتا ہو، پاکستان میں کسی لیڈرنے سیاحت بارے سوچا ہی نہیں تھا، سوئٹرزلینڈ پاکستان کے ناردرن ایریازسے آدھا ملک ہے۔ سوئٹرزلینڈ صرف سیاحت سے 80 ارب ڈالرز کماتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں