58

طلبا کی غیر نصابی سرگرمیوں کے ذریعے تربیت اور قائدانہ صلاحیتوں کو اجاگر کرنا ضروری ہے،ایڈیشنل چیف سیکرٹری ثاقب ظفر

ملتان(سٹاف رپورٹر)ایڈیشنل چیف سیکرٹری جنوبی پنجاب کیپٹن ریٹائرڈ ثاقب ظفر نے کہا ہے کہ رسمی تعلیم کیساتھ ساتھ طلبا کی غیر نصابی سرگرمیوں کے ذریعے تربیت اور ان کی قائدانہ صلاحیتوں کو اجاگر کرنا بے حد ضروری ہے،یہ بات انہوں نے گورنمنٹ کمپری ہنسو بوائز سکول ملتان میں جنوبی پنجاب کے گیارہ اضلاع میں سٹوڈنٹ کونسلز کے 14 ہزار 2 سو 86 منتخب نمائندوں سے اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی،اس موقع پر سیکرٹری سکول ایجوکیشن جنوبی پنجاب ڈاکٹر احتشام انور بھی موجود تھے،ایڈیشنل چیف سیکرٹری نے کہا کہ تعلیمی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ طلبا کو عملی زندگی گزارنے کےلئے اعتماد، ملکر کام کرنے کی صلاحیت اور دیگر مہارتیں سکھائیں اور اس سلسلے میں پہلی بار جنوبی پنجاب میں سکول کونسلز کے انتخابات کا انعقاد کیا گیا ہے جو کہ انتہائی لائق تحسین ہے،انہوں نے حلف لینے کے بعد کامیاب عہدیداروں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اس کامیابی کا آپ نے ترقی اور تعلیم کا زینہ بنانا ہے اور اپنے کردار اور تعلیمی قابلیت میں مزید بہتری لا کر اپنی اہلیت کو ثابت کرنا ہے،انہوں نے کہا کے طلبا قوم کا مستقبل ہو اکرتے ہیں،لہذا آپ نے اپنی بہترین صلاحیتوں سے ملک وقوم کی خدمت کرنی ہے،اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری تعلیم جنوبی پنجاب ڈاکٹر احتشام انور نے بتایا کہ جمہوری اقدار کے فروغ اور بچوں کو انتخابی عمل سے روشناس کروانے کےلئے ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی تاریخ میں پہلی دفعہ جنوبی پنجاب کے سرکاری سکولوں میں سٹوڈنٹ کونسلز بنائی گئی اور 3 نومبر کو عام انتخابات کی طرز پر جنوبی پنجاب کے 2380 گرلز سکولوں اور 2376 بوائز سکولوں میں سٹوڈنٹ کونسلز کے لئے صدر، نائب صدر اور جنرل سیکرٹری کے انتخابات ہوئے،ان الیکشنز میں جنوبی پنجاب کے 4756 سکولوں کے 11 لاکھ، 32 ہزار 25 طلبا و طالبات نے اپنا حق رائے دہی استعمال کرتے ہوئے ووٹ ڈالا، اس طرح ہر سکول سے تین نمائندوں کا انتخاب کر کے کل 14 ہزار 268 نمائندے منتخب کئے گئے،ڈاکٹر احتشام انور نے بتایا کہ اس انتخابی مہم کے دوران الیکشن کمیشن کا قیام ،انتخابی ضابطہ اخلاق کی تشکیل، انتخابی نشانات کی الاٹ منٹ، بیلٹ پیر اور ووٹنگ کے سارے مراحل عام انتخابات کی طرز پر منعقد ہوئے جس سے سکول کی سطح پر بچوں کو الیکشن میں شرکت اور اپنی پسند کے نمائندوں کے انتخاب کا موقع ملا، انہوں نے کہا کہ ان مراحل سے گزر کر بچے مستقبل کا خوشگوار جمہوری منظرنامہ تشکیل دے سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں